دنیائے کرکٹ کے ابھرتے ہوئے تیز رفتار باؤلرز

ایک لاکھ سے زائد تماشائیوں کے فلک شگاف نعروں نے آسمان سر پر اٹھا رکھا تھا۔ جب لٹل ماسٹر سچن تنڈولکر نے میدان میں قدم رکھا تو کولکتہ کے میدان میں کان پڑی آواز سنائی نہ دیتی تھی۔ وہ چھوٹے چھوٹے قدم لیتے کریز کی جانب بڑھے، کبھی کندھوں کو آگے پیچھے ہلاتے اور کبھی آسمان کی طرف دیکھ کو آنکھوں کی دن کی روشنی سے مانوس کرتے۔ دوسری جانب نوجوان شعیب اختر کا بلڈپریشر یکدم غیر معمولی سطح تک پہنچ گیا۔ پچھلی گیند پر "دیوار" کے نام سے معروف راہول ڈریوڈ کی گلی اڑا دینے والے شعیب اب خدا سے دعاگو تھے کہ مولا! آج سچن کی وکٹ پہلی گیند پر دلا دے۔ بھارت کے دیوتاؤں میں سے ایک دیوتا، "کرکٹ کے دیوتا" کی وکٹ! جو پہلے اپنے کیریئر میں کبھی پہلی گیند پر آؤٹ نہ ہوئے تھے۔ ٹیلی وژن پر میچ دیکھنے والے ٹونی گریگ کی پرجوش آواز کو بھی سن رہے تھے۔ سچن نے امپائر سے گارڈ لیا، روایتی انداز میں اوپر نیچے ہوئے اور دوڑنے کے لیے پر تولنے والے شعیب کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہو گئے۔ شعیب اپنے سینے کو مزید چوڑا کرتے ہوئے تیز رفتاری سے پچ کی جانب دوڑے۔ پرانی گیند سے ریورس سوئنگ پھینکنے کے ماہر شعیب کے ذہن میں "منصوبہ" تیار تھا۔ سچن اگلے چند لمحوں کے بعد پیش آنے والے واقعے سے بے خبر باؤلر پر نظریں جمائے ہوئے تھے۔ نوجوان باؤلر نے اپنی پوری قوت سے گیند پھینکی، سچن گیند کو سیدھا ڈرائیو کرنے کی کوشش میں چوک گئے اور بال ہوا میں تیرتی اور گھومتی ہوئی آخری لمحات میں سچن کو دھوکہ دے گئی۔ وکٹیں بکھر گئیں اور لاکھوں کے مجمع کو گویا سانپ سونگھ گیا۔ صرف شعیب اختر اور پاکستانی کھلاڑیوں کی پرجوش و پرمسرت چیخیں اور نعرے سنائی دے رہے تھے۔ ایک لمحے نے شعیب اختر کو عام کھلاڑیوں کی فہرست سے "سپر اسٹارز" میں پہنچا دیا۔

ابھرتے ہوئے تیز باؤلرز کی فہرست میں آسٹریلیا نمایاں ہے، اور اگر یہ کھلاڑی انجریز کا شکار نہ ہوئے تو آسٹریلیا کو ایک مرتبہ پھر عروج پر پہنچا سکتے ہیں (تصویر: Wayne Ludbey)

ابھرتے ہوئے تیز باؤلرز کی فہرست میں آسٹریلیا نمایاں ہے، اور اگر یہ کھلاڑی انجریز کا شکار نہ ہوئے تو آسٹریلیا کو ایک مرتبہ پھر عروج پر پہنچا سکتے ہیں (تصویر: Wayne Ludbey)

کرکٹ کے یہ سنسنی خیز لمحات تیز باؤلنگ ہی کی مرہون منت ہیں۔ 70ء کے عشرے میں مائیکل ہولڈنگ، میلکم مارشل، جوئیل گارنر، اینڈی رابرٹس، ڈینس للی، جیف تھامسن اور عمران خان نے اپنی رفتار اور سوئنگ سے شائقین کرکٹ کے دل موہ لیے۔ 90ء کی دہائی میں وسیم اکرم، وقار یونس، کرٹلی ایمبروز، کورٹنی واش، ایلن ڈونلڈ اور پھر بریٹ لی، شعیب اختر اور شین بانڈ نے بلے بازوں پر اپنی دہشت بٹھائی۔ فی زمانہ صرف ڈیل اسٹین ہی ایسا باؤلر ہے جس نے خود کو نمبر ون کی حیثیت سے منوایا ہے لیکن خوش آئند بات یہ ہے کہ قحط الرجال کے اس زمانے میں چند باصلاحیت باؤلرز نے اپنی جھلک ضرور دکھائی ہے۔ آئیے دیکھتے ہیں چند ایسے باؤلرز کو جنہوں نے گزشتہ دو سالوں میں دنیائے کرکٹ میں قدم رکھا اور اپنی صلاحیتوں کو منوایا ہے۔ اس فہرست میں میڈیم فاسٹ باؤلرز کو شامل نہیں کیا گیا۔

جیمز پیٹن سن (آسٹریلیا)

عمر:23 سال
ٹیسٹ کیریئر:10 میچز ،40 وکٹیں، اوسط 23، اننگز میں پانچ وکٹیں 3 مرتبہ، بہترین بالنگ 27 /5
ون ڈے کیریئر:11 میچز، 15 وکٹیں، اوسط 31
ٹی ٹوئنٹی کیریئر:4 میچز، 3 وکٹیں، اوسط 34

چھ فٹ ایک انچ کے قد کے مالک پیٹن سن،کا تعلق آسٹریلوی ریاست وکٹوریا سے ہے ۔ان کو باؤلنگ میں وقت کی بہترین دریافت قرار دیا جا رہا ہے ۔مشہور و معروف ڈینس للی کے مطابق مستقبل میں آسٹریلیا کی باؤلنگ کی قیادت اس لڑکے کے ہاتھ میں ہوگی۔ طویل قامت اور مضبوط جسم کے مالک پیٹن سن،145 سے 150 کلو میٹر فی گھنٹے کی رفتار سے گیند پھینکنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور عام طور پر فل لینتھ بال کرتے ہیں، جس کی وجہ سے اپنے مختصر کیریئر میں ان کی زیادہ تر وکٹیں کلین بولڈ یا ایل بی ڈبلیو کی صورت میں لی ہیں۔ اس ہونہار باؤلر آسٹریلوی شائقین کو بڑی توقعات ہیں کہ وہ آنے والی ایشیز میں انگلش بلے بازوں کو دھول چٹائیں گے۔ اگر پیٹن سن فٹ رہے اور محنت سے کھیلتے رہے تو ایک دن ان کا شمار یقیناً دنیائے کرکٹ کے بھی بہترین گیند بازوں میں ہو گا۔

مچل اسٹارک (آسٹریلیا)

عمر:23 سال
ٹیسٹ کیریئر:9 میچز، 30 وکٹیں، اوسط 34، اننگز میں پانچ وکٹیں:2 بار ۔بہترین باؤلنگ 154 /6
ون ڈے کیریئر:18 میچز، 36 وکٹیں، اوسط 18
ٹی ٹوئنٹی کیریئر:10 میچز، 15 وکٹیں، اوسط 16

دراز قد اسٹارک، جو وسیم اکرم کو اپنا پسندیدہ باؤلر قرار دیتے ہیں، نوجوان آسٹریلوی باؤلرز کی کھیپ میں ایک اور شاندار اضافہ ہیں ۔بائیں ہاتھ سے گیند کرانے والے اسٹارک کا تعلق ریاست نیو ساؤتھ ویلز سے ہے ۔وہ گیند کو ان سوئنگ کرنے کی اہلیت بھی رکھتے ہیں ،جو کہ بائيں ہاتھ سے گیند پھینکنے والے باؤلر کا ایک بہت خطرناک ہتھیار ہوتا ہے ۔مچل سٹارک اگر اچھے ردھم میں ہوں تو با آسانی 90 میل فی گھنٹہ کی رفتار سے گیند پھینک سکتے ہیں ۔اسٹارک میں ایک مفید آل راؤنڈر بننے کی بھی صلاحیتیں ہیں ۔جس کا اظہار بھارت کے خلاف حالیہ سیریز میں وہ کر چکے ہیں، جب انہوں نے موہالی ٹیسٹ کی ایک اننگز میں 99 رنز بنائے۔ مچل اسٹارک کی گیند کو سوئنگ کرانے کی صلاحیت انگلستان کی کنڈیشنز میں آسٹریلیا کے لئے مفید ثابت ہوسکتی ہے ۔

پیٹرک کمنز (آسٹریلیا)

عمر: 19 سال
ٹیسٹ کیریئر: ایک ٹیسٹ، 7 وکٹیں، اوسط 16، اننگز میں پانچ وکٹ، ایک بار، بہترین باؤلنگ 79 /6
ون ڈے کیریئر:5 میچز، 7 وکٹیں، اوسط 30
ٹی ٹوئنٹی کیریئر:11 میچز، 16 وکٹیں ، اوسط 19

نیو ساؤتھ ویلز کے دارالحکومت سڈنی سے تعلق رکھنے والے کمنز نے گو کے صرف ایک ہی ٹیسٹ کھیلا ہے لیکن اس ایک مقابلے میں ہی انہوں نے اپنی کلاس، صلاحیتوں اور روشن مستقبل کی جھلک دکھلائی۔ اپنے اولین ٹیسٹ میں انہوں نے جنوبی افریقہ کے خلاف جوہانسبرگ ٹیسٹ کی ایک اننگز میں 6 وکٹیں لیں اور پھر چوتھی اننگز میں 300 سے زیادہ رنز کے ہدف کے تعاقب میں میچ وننگ اسٹروک بھی کھیلا ۔کمنز کی رفتار 150 کلومیٹر کے لگ بھگ ہے اور یہ 'وائیڈ آف دی کریز' جا کر گیند کو ہوا میں آؤٹ سوئنگ کرتے ہیں۔کمنز نے 2011ء میں ٹیسٹ کیریئر کا آغاز کیا، لیکن اس کے بعد انجریز نے ایسا انہیں گھیر لیا کہ وہ دوبارہ ٹیسٹ میدان میں قدم نہ دھر سکے۔ مستقبل میں بھی انہیں مزید انجریز سے نبرد آزما ہونا پڑے گا کیونکہ گیند پھینکتے وقت وہ اپنی کمر پر بے انتہا بوجھ ڈالتے ہیں ۔فٹنس بہتر ہونے کے بعد کمنز آسٹریلیا اور عالمی کرکٹ کا ایک اثاثہ ثابت ہو سکتے ہیں ۔

ایڈم ملنے (نیوزی لینڈ)

عمر: 20 سال
ٹیسٹ کیریئر:کوئی میچ نہیں کھیلا
ون ڈے کیریئر:2 میچز، ایک وکٹ
ٹی ٹوینٹی کیریئر:4 میچز، ایک وکٹ

ایڈم ملن کی اس فہرست میں شمولیت شاید کئی قارئین کو حیران کن لگے، کیونکہ نہ تو انہوں نے کوئی ٹیسٹ مقابلہ کھیلا ہے اور نہ ہی محدود اوورز کے چند مقابلوں میں ان کی کارکردگی قابل ذکر رہی ہے۔ لیکن 145 سے 150 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار کے درمیان گیند پھینکنے والے ملنے میں شین بانڈ کا جانشیں بننے کیپوری صلاحیت موجود ہے اور مستقبل میں شائقین کرکٹ ان کے کھیل سے خوب لطف اندوز ہوں گے۔ ان کی رفتار ہی ان کا سب سے موثر ہتھیار ہے۔

محمد عرفان (پاکستان)

اگر محمد عرفان اپنی فٹنس کو بہتر بنانے میں کامیاب ہو گئے تو عالمی کپ 2015ء کے لیے پاکستان کا قیمتی اثاثہ ہو سکتے ہیں (تصویر: AP)

اگر محمد عرفان اپنی فٹنس کو بہتر بنانے میں کامیاب ہو گئے تو عالمی کپ 2015ء کے لیے پاکستان کا قیمتی اثاثہ ہو سکتے ہیں (تصویر: AP)

عمر: 30 سال
ٹیسٹ کیریئر:2 ٹیسٹ 3 وکٹیں، اوسط 67
ون ڈے کیریئر:9 میچز، 14 وکٹیں، اوسط 25
ٹی ٹوینٹی کیریئر: 3 میچز 2 وکٹیں، اوسط 36

محمد عرفان، جو کرکٹ کی تاریخ کے طویل القامت ترین کھلاڑی ہیں، خاصی دیر سے بین الاقوامی کرکٹ میں جلوہ گر ہوئے۔ 7 فٹ 1 انچ کے قد کر حامل محمد عرفان کا تعلق وقار یونس ہی کے ضلع بورے والہ سے ہے۔ ایک پائپ فیکٹری میں ملازمت کرنے والے عرفان ایک سفید پوش گھرانے کے چشم و چراغ ہیں، اور یہی وجہ ہے کہ وہ کرکٹ کیریئر کے لئے اپنی ملازمت چھوڑنے میں متامل تھے ۔عرفان کا باؤنس اور رفتار ان کا سب سے خطرناک اثاثہ ہیں۔ وہ 2015ء میں آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ میں ہونے والے ورلڈ کپ میں پاکستان کے لیے ایک بہت اہم کھلاڑی ثابت ہو سکتے ہیں ۔حالیہ دورہ بھارت میں عرفان نے اپنے باؤنس سے بھارتی بلے بازوں کو خوب تنگ کیا،اور کچھ اسی طرح کی آزمائش سے جنوبی افریقہ کے گریم سمتھ،ہاشم آملہ اور ابراہم ڈی ولیئرز جیسے بلے بازوں کو بھی گزرنا پڑا۔ اگر محمد عرفان اپنی فٹنس پر مزید محنت کریں تو وہ اپنے کیریئر کو طول دے سکتے ہیں۔

امیش یادیو (بھارت)

عمر: 25 برس
ٹیسٹ کیریئر: 9 میچز، 32 وکٹیں، اوسط 32، اننگز میں پانچ وکٹیں ایک بار ، بہترین باؤلنگ 93/5
ون ڈے کیریئر: 17 میچز، 18 وکٹیں، اوسط 46
ٹی ٹوئنٹی کیریئر:ایک میچ،ایک وکٹ

ہندوستان میں تیز باؤلرز کا قحط الرجال ہمیشہ رہا ہے، اور اگر کسی بے چارے نے تیز رفتاری سے گیندیں پھینکنے کی 'جرات' کی بھی تو محض ایک دو سالوں میں اس کا ایندھن تمام ہوا اور وہ مناف پٹیل کی طرح ایک مرتبہ پھر 'اوقات' پر واپس آ گیا۔ ناگ پور سے تعلق رکھنے والے کان کن کے بیٹے اور پولیس مین بننے کے خواہش مند امیش یادیو نے آغاز تو بہت خوب لیا ہے، لیکن وہ اپنے پیشروؤں کے نقش قدم پر نہ چل پڑیں، بس اسی سے ڈر لگتا ہے۔ اپنی مضبوط جسامت کے ساتھ ان میں تیز گیندیں پھینکنے کی پوری صلاحیت ہے اور وہ ریورس سوئنگ کا بھی اچھا استعمال کرتے ہیں۔ دیکھنا صرف یہ ہے کہ بھارت کے انتہائی سخت شیڈول میں یادیو کس طرح اپنی رفتار کو برقرار رکھ پاتے ہیں۔

مرچنٹ دے لانگے (جنوبی افریقہ)

عمر: 22 سال
ٹیسٹ کیریئر: 2 ٹیسٹ، 9 وکٹیں، اوسط 30، اننگز میں پانچ وکٹیں، ایک بار، بہترین باؤلنگ 81 /7
ون ڈے کیریئر:ایک میچ میں4 وکٹیں، اوسط 11
ٹی ٹوئنٹی کیریئر:2 میچز، 3 وکٹیں، اوسط 26

مرچنٹ دے لانگے ایک تیز رفتار باؤلرز ہیں، جو مختصر رن اپ سے 145 سے 150 کلو میٹر تک کی رفتار کی حامل گیند پھینک سکتے ہیں۔ جنوبی افریقہ کے ایک دور دراز قصبے سے تعلق رکھنے والے دے لانگے کو اس وقت انجری نے قومی ٹیم سے باہر پھینکا ہوا ہے لیکن فٹ ہونے پر بھی انھیں جنوبی افریقی ٹیم میں سخت مسابقت کا سامنا کرنا پڑے گا کیونکہ اس میں پہلے ہی ڈیل سٹین،مورنے مورکل اور ویرنن فلینڈر جیسے ورلڈ کلاس باؤلرز موجود ہیں۔ بہرحال، دے لانگے نے جتنا کھیلا عمدہ کھیلا ہے، اور وہ ان تینوں باؤلرز میں سے کسی ایک کی عدم موجودگی کا فائدہ اٹھا کر قومی ٹیم میں مستقل مقام حاصل کر سکتے ہیں۔ ان کے خاص ہتھیار یارکرز اور ان سوئنگ گیندیں ہیں۔

Facebook Comments