بھارت کا انکار، ایشیا کپ کی میزبانی پھر بنگلہ دیش کے پاس

بھارت نے ایشیا کپ 2014ء کی میزبانی سے انکار کر دیا اور اب یہ ٹورنامنٹ ایک مرتبہ پھر بنگلہ دیش میں کھیلا جائے گا۔ بھارت کا کہنا ہے کہ سخت بین الاقوامی شیڈول کے باعث اس کے لیے ایشیا کپ کی میزبانی کے انتظامات کرنا ممکن نہیں۔ لیکن حیران کن طور پر اہم ٹورنامنٹ کی میزبانی بنگلہ دیش کو نواز دی گئی جو پہلے ہی بھارت سے بھی سخت شیڈول کا سامنا کر رہا ہے۔

پاکستان اس وقت ایشین چیمپئن ہے اور اسے اگلے سال اپنے اعزاز کا دفاع کرنا ہوگا (تصویر: Getty Images)

پاکستان اس وقت ایشین چیمپئن ہے اور اسے اگلے سال اپنے اعزاز کا دفاع کرنا ہوگا (تصویر: Getty Images)

ایشیا کپ اگلے سال 24 فروری سے 8 مارچ تک کھیلا جائے گا۔

یہ فیصلہ گزشتہ ہفتے کوالالمپور میں ایشین کرکٹ کونسل (اے سی سی) کی بورڈ میٹنگ میں کیا گیا جہاں بھارت نے کونسل اراکین کو اپنے فیصلے سے آگاہ کیا۔

بنگلہ دیش نے ایشیا کپ کی میزبانی کے لیے سہ ملکی ٹورنامنٹ کو موخر کرنے کا فیصلہ بھی کیا، جس میں بنگلہ دیش کے علاوہ پاکستان اور سری لنکا نے کھیلنا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ایشیا کپ کی تاریخوں میں تبدیلی کا بھی امکان ہے کیونکہ یہ بھارت اور نیوزی لینڈ کی سیریز سے متصادم ہو رہی ہیں۔

بھارت اس ضمن میں نیوزی لینڈ کرکٹ کو بھی قائل کرنے کی کوشش کر رہا ہے کہ وہ دورے کو دو ٹیسٹ، دو ایک روزہ اور دو ٹی ٹوئنٹی مقابلوں تک محدود کرے تاکہ بھارت ایشیا کپ میں حصہ لے سکے۔ بین الاقوامی کرکٹ کونسل کے فیوچر ٹورز پروگرام (ایف ٹی پی) کے مطابق بھارت کو تین ٹیسٹ، پانچ ایک روزہ اور ایک ٹی ٹوئنٹی مقابلہ کھیلنا ہے۔

ایشیا کپ کی میزبانی لینے کے ساتھ بنگلہ دیش کے لیے نئے انتظامی مسائل بھی جنم لیں گے کیونکہ بنگلہ دیش نے فروری کے دوسرے ہفتے میں دو ٹیسٹ اور تین ایک روزہ مقابلوں کے لیے سری لنکا کی میزبانی کرنی ہے جبکہ اس کے فوراً بعد پاکستان اور سری لنکا کے ساتھ ایک سہ فریقی ٹورنامنٹ بھی طے ہے جبکہ 16 مارچ کو ورلڈ ٹی ٹوئنٹی 2014ء کا آغاز بھی بنگلہ دیشی سرزمین پر ہوگا۔

Article Tags

Facebook Comments