[آج کا دن] جاوید میانداد کا تاریخی چھکا!!

وہ متحدہ عرب امارات کے صحراؤں میں اپریل کی ایک گرم شام تھی، جو پاک-بھارت کرکٹ رقابت کو اپنے نقطہ عروج پر پہنچا گئی۔ آخری گیند پر چار رنز، جاوید میانداد کا تاریخی چھکا اور پاکستان کی ایک وکٹ سے یادگار فتح، یہ تھی پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار کوئی ون ڈے ٹورنامنٹ جیتنے کی داستان۔

چیتن شرما کی بدقسمتی دیکھئے کہ یارکر پھینکنے کی کوشش کی اور گیند سیدھا میانداد کے بلے پر آئی، بلا گھوما اور بال میدان سے باہر! (تصویر: Getty Images)

چیتن شرما کی بدقسمتی دیکھئے کہ یارکر پھینکنے کی کوشش کی اور گیند سیدھا میانداد کے بلے پر آئی، بلا گھوما اور بال میدان سے باہر! (تصویر: Getty Images)

وہ شائقین کرکٹ جن کی یادوں میں اس چھکے کی گونج آج بھی محفوظ ہے، شاید ہی کبھی اسے بھلا پائیں۔ ایک روزہ کرکٹ کی پوری تاریخ میں ایسے دلچسپ مقابلے انگلیوں پر گنے جا سکتے ہیں، لیکن جو شہرت اس مقابلے نے حاصل کی شاید ہی کسی اور کے نصیب میں آئی ہو۔ یہ مقابلہ بھی تو دنیائے کرکٹ کی سب سے بڑی حریف ٹیموں کے درمیان تھا، تصور کیجیے کہ شارجہ کے میدان میں کیا عالم ہوگا؟

246 رنز کے ہدف کے تعاقب میں پاکستان کی جانب سے صرف جاوید میانداد ہی ایسے بلے باز تھے جنہوں نے بھارتی باؤلرز کا جم کر مقابلہ کیا اور بالآخر مقابلے کو ان کی گرفت سے نکال کر پاکستان کو محض ایک وکٹ کی فتح سے ہمکنار کیا۔

اس چھکے کے بعد جاوید میانداد پر دھن مینہ کی طرح برسنے لگا۔ مرسڈیز گاڑی سے لے کر 80 ہزار ڈالرز مالیت کے ہیرے کے کڑے تک، عرب کے شیخوں اور پاکستان کی نمایاں شخصیات نے "ہیرو" کا بھرپور خیرمقدم کیا اور "اک چھکے کے جاوید کو سو لاکھ ملیں گے" گانے سے لازوال مقبولیت حاصل کی۔

پاکستان کو اس ایک چھکے نے اتنا اعتماد اور تقویت بخشی کہ آئندہ کئی سالوں تک وہ بھارت پر کلی طور پر حاوی رہا۔ بھارت اتنی بری طرح زیر اثر آیا کہ سالوں تک اسے پاکستان کے خلاف فتح کے لیے ترسنا پڑا۔ بحیثیت مجموعی بھی پاکستانی ٹیم کے مزاج میں تبدیلی آئی اور شاید یہ اس تاریخی جیت ہی کا تسلسل تھا کہ پاکستان نے 1992ء میں عالمی کپ جیتا، اور وہ بھی اسی جاوید میانداد کی شاندار کارکردگی کی بدولت۔

بہرحال، جاوید میانداد نے اپنی آپ بیتی "Cutting Edge" میں اس یادگار مقابلے کا ذکر کچھ ان الفاظ میں کیا "مجھے پورا یقین تھا کہ چیتن شرما یارکر پھینکنے ہی کی کوشش کرے گا۔ میں اس وقت 110 رنز پر ناٹ آؤٹ تھا اور گیند مجھے بخوبی نظر آ رہی تھی۔ جب شرما نے دوڑ لگائی تو میں نے اعصابی تناؤ کو کم کیااور اللہ سے دعا مانگی۔ بیچارے شرما کی بدقسمتی دیکھئے کہ اس نے واقعی یارکرہی پھینکنے کی کوشش کی اور گیند اس کے ہاتھ سے پھسل کر سیدھا میرے بلے پر آ گئی۔ میرے لیے اس سے بہتر گیند ہو ہی نہیں ہو سکتی تھی، بلا بجلی کی سی تیزی سے گھوما اور گیند میدان سے باہر! بلاشبہ یہ میری زندگی کی بہترین یادوں میں سے ایک تھی۔"

اس عظیم بلے باز کے بارے میں اک تفصیلی و دلچسپ تحریر کرک نامہ آرکائیوز میں یہاں دیکھئے۔ یہ ان کی 55 ویں سالگرہ کے موقع پر لکھی گئی تھی۔

Facebook Comments