"اسپورٹس مین اسپرٹ" عالمی کپ میں نئی بحث چھڑ گئی

عالمی کپ میں دو دن میں پیش آنے والے دو واقعات نے اک نئی بحث چھیڑ دی ہے کہ کیا یہ بلے باز کی اخلاقی ذمہ داری ہے کہ وہ بجائے امپائر کے فیصلے کے انتظار کرنے کے خود پویلین کی جانب لوٹ جائے؟

عالمی کپ 2011ء کے گروپ 'اے' کے آخری میچ میں آسٹریلیا کے کپتان رکی پونٹنگ پاکستان کے محمد حفیظ کی ایک گیند پر وکٹوں کے پیچھے کامران اکمل کو کیچ دے بیٹھے۔ امپائر نے فیصلہ ان کے حق میں دیا جس پر پاکستان نے فیصلے پر نظر ثانی کی اپیل کی۔ جس پر تیسرے امپائر نے فیصلہ پاکستان کے حق میں دے کر رکی پونٹنگ کو آؤٹ قرار دیا۔

سچن ٹنڈولکر امپائر کے فیصلے سے قبل ہی کریز چھوڑ کر چلے گئے (گیٹی امجیز)

اگلے روز گروپ 'بی' کے آخری میچ میں بھارت کے عظیم بلے باز سچن ٹنڈولکر پہلے اوور کی آخری گیند پر وکٹوں کے پیچھے کیچ دے بیٹھے۔ باؤلرز اور فیلڈرز کی اپیل کے باوجود امپائر اسٹیو ڈیوس نے انہیں ناٹ آؤٹ قرار دیا۔ اس کے باوجود وہ کریز چھوڑ کر پویلین کی جانب لوٹ گئے کیونکہ وہ خود جانتے تھے کہ گیند ان کے بلے سے لگ کر گئی ہے۔ ٹنڈولکر جو تمام طرز کی کرکٹ میں 99 سنچریاں بنا چکے ہیں اس وقت اپنی 100 ویں سنچری کی تلاش میں ہیں اور ہو سکتا تھا کہ وہ ویسٹ انڈیز کے خلاف ہی یہ کارنامہ انجام دے دیتے لیکن انہوں نے اخلاقی ذمہ داری سمجھی کہ آؤٹ ہونے کی صورت میں امپائر کے فیصلے سے قطع نظر انہیں میدان سے باہر آ جانا چاہیے۔

بعد ازاں آسٹریلوی قائد رکی پونٹنگ نے تسلیم کیا کہ وہ جانتے تھے کہ گیند ان کے بلے سے لگ کر گئی ہے لیکن وہ ہمیشہ امپائر کے فیصلے کا انتظار کرتے ہیں، اس لیے انہوں نے اس وقت بھی فیصلے کا انتظار کیا۔ اور وہ ہمیشہ ایسے ہی کھیلتے آئے ہیں۔
دوسری جانب ویسٹ انڈین کپتان ڈیرن سیمی نے سچن کو "ایک محترم شخصیت" قرار دیا ۔ انہوں نے کہا کہ یہ سچن کی شخصیت کی اخلاقی برتری کو ظاہر کرتا ہے۔

واضح رہے کہ چند روز قبل سری لنکا اور نیوزی لینڈ کے مابین ممبئی میں ہونے والا معرکہ بھی اک ایسے ہی تنازع کا نشانہ بنا تھا جس میں نیوزی لینڈ کے اسپنر ناتھن میک کولم نے سری لنکن بلے باز مہیلا جے وردھنے کا انتہائی خوبصورت کیچ لیا اور ٹی وی امپائر کے فیصلے کے مطابق وہ ناٹ آؤٹ قرار پائے۔

نیوزی لینڈ اس فیصلے سے بہت ناخوش دکھائی دیا ان کے قائم مقام کپتان روز ٹیلر نے تو یہ تک کہہ ڈالا کہ بلے باز کو ایسی صورتحال میں فیلڈر کی زبان پر اعتبار کرنا چاہیے۔ اس سلسلے میں انہوں نے جنوبی افریقہ کے بلے باز ژاک کیلس کی مثال بھی دی جو فیلڈر سے پوچھتے ہیں اور پھر اس کے الفاظ پر بھروسہ بھی کرتے ہیں۔

جے وردھنے نے اس اننگ میں 66 رنز بنائے اور کپتان کمار سنگاکارا کے ساتھ 145 رنز کی اہم شراکت داری کی جس کے نتیجے میں سری لنکا نے نیوزی لینڈ کو با آسانی 112 رنز سے ہرایا۔ جے وردھنے کا کہنا ہے کہ ان کا میدان میں ڈٹے رہنے کا فیصلہ بالکل درست تھا۔ انہوں نے کہا کہ اگر مجھے محسوس ہوتا کہ ناتھن نے کیچ لے لیا اور وہ زمین سے نہیں لگا تو میں اسی میدان چھوڑ دیتا۔ میرے خیال میں اس کا فیصلہ ٹی وی امپائر سے کروانا بالکل درست تھا۔

پاکستان کے کوچ وقار یونس نے کہا ہے کہ اگر بلے باز خود کریز چھوڑ جائے تو یہ کھیل کے لیے اخلاقی طور پر بہت اچھا ہے۔ لیکن اب اس کا رحجان بہت کم ہو گیا ہے۔ البتہ اب ایک نظام موجود ہے اور بچنے کا امکان بھی ہو تو کیوں نہ اس نظام کا استعمال کیا جائے؟ جے وردھنے نے استعمال کیا اور فیصلہ اپنے حق میں لیا۔

Facebook Comments