پاکستان کا بیٹنگ کوچ، قرعہ فال ٹرینٹ ووڈہل کے نام نکلا

تمام تر توقعات، یہاں تک کہ خدشات کے بھی، برعکس پاکستان نے ایک کم معروف نام ٹرینٹ ووڈہل کو قومی ٹیم کا بیٹنگ کوچ مقرر کیا ہے۔ ملک میں محسن خان، انضمام الحق اورجاوید میانداد جیسے نام ہونے کے باوجود پاکستان کو آسٹریلیا سے تعلق رکھنے والے ووڈہل کا رخ کیوں کرنا پڑا؟ اس کا جواب تو پاکستان کرکٹ بورڈ ہی دے سکتا ہے لیکن خود ووڈہل کے لیے بھی یہ بہت بڑا امتحان ہے کہ وہ دنیائے کرکٹ کی اس بیٹنگ لائن اپ کی کوچنگ کریں، جس کے بارے میں اس کے علاوہ قبل از وقت کچھ نہیں کہا جا سکتا کہ "چلے تو چاند تک، ورنہ شام تک"!

ووڈہل اس وقت آئی پی ایل کی ناکام ترین ٹیم دہلی ڈیئرڈیولز کی کوچنگ کر رہے ہیں (تصویر: Getty Images)

ووڈہل اس وقت آئی پی ایل کی ناکام ترین ٹیم دہلی ڈیئرڈیولز کی کوچنگ کر رہے ہیں (تصویر: Getty Images)

42 سالہ ٹرینٹ ووڈہل کی تقرری کا اعلان پاکستان کرکٹ بورڈ کے ڈائریکٹر انٹرنیشنل انتخاب عالم نے صحافیوں کے روبرو کیا اور بتایا کہ وہ تین ہفتے کے عرصے کے لیے ذمہ داریاں نبھائیں گے اور چیمپئنز ٹرافی کے دوران بلے بازوں کی مدد کریں گے۔

پاکستان کی مستقل ناقص بیٹنگ کارکردگی کو دیکھتے ہوئے مختلف حلقوں کی جانب سے بیٹنگ کوچ کی تقرری کے مطالبات سامنے آ رہے تھے اور دورۂ جنوبی افریقہ میں مایوس کن کارکردگی نے اس میں مزید شدت پیدا کر دی تھی۔

ووڈہل آسٹریلین بگ بیش لیگ میں ملبورن اسٹارز کی کوچنگ بھی کر چکے ہیں اور اس وقت بھارت میں جاری انڈین پریمیئر لیگ میں ناکام ترین ٹیم دہلی ڈیئرڈیولز کے سپورٹ اسٹاف میں شامل ہیں۔ گزشتہ سال وہ نیوزی لینڈ کرکٹ ٹیم کے اسسٹنٹ کوچ بھی رہ چکے ہیں۔ ٹرینٹ ووڈ ہل اگلے ماہ چیمپئنز ٹرافی میں پاکستان کی کوچنگ کے لیے براہ راست انگلستان پہنچیں گے۔ تین ہفتوں میں ان کی کارکردگی ہی ان کی مستقل حیثیت کا تعین کرے گی۔

واضح رہے کہ پاکستان نے گزشتہ سال بیٹنگ کوچ کے لیے درخواستیں طلب کی تھیں جس کے بعد ظہیر عباس جیسے مایہ ناز بلے باز نے بھی درخواست جمع کروائی لیکن کوچنگ تجربے کو بنیاد بنا کر پاکستان نے تمام امیدواروں کو ٹھکرا دیا اور اب ووڈہل کی تقرری بھی ان کی اسناد اور تجربے کی وجہ سے کی گئی ہے۔

اب دیکھنا یہ ہے کہ چیمپئنز ٹرافی جیسے اہم ترین ٹورنامنٹ سے قبل ووڈہل وہ کون سی گیدڑ سنگھی دیتے ہیں، جس کی بدولت پاکستانی بیٹسمینوں کے بلے رنز اگلنے لگیں۔

Facebook Comments