[گیارہواں کھلاڑی] سوال جواب قسط 10

سوال: بیٹسمین گارڈ کیوں لیتا ہے؟ کیا گارڈ لینے کا آؤٹ ہونے سے کوئی تعلق ہوتا ہے؟ محمد لطیف بلوچ

جواب: جب بیٹسمین بیٹنگ کے لیے کریز پر پہنچ جاتا ہے تو سب سے پہلے اسے گارڈ لینا پڑتا ہے۔ گارڈ لینے کا بنیادی مقصد ہے کہ بلے باز اب مکمل کھیلنے کے موڈ میں ہے اور دوسرا اہم مقصد یہ کہ بلے باز کو کون سی بال کھیلنی ہے اور کون سی کیپر کی طرف جانے دینے جانی ہے۔

گارڈ لینے کا طریقہ یہ ہے کہ بلے کو بالکل سیدھا پکڑیں، اس طرح کہ اس کا نچلا حصہ میدان کو چھوئے۔ اور بلے کا سائیڈ والا حصہ باؤلنگ اینڈ پر موجود امپائر کی جانب ہو۔

گارڈ تین طرح کے ہوتے ہیں:

لیگ – مڈل اور لیگ – مڈل یا سینٹر

بلے باز ان تینوں میں سے جو گارڈ لینا چاہتا ہے امپائر سے پوچھ سکتا ہے اور متعلقہ جگہ پر اپنے بلے، یا جوتوں یا پھر بیلز سے نشان لگاتا ہے کہ دوران بیٹنگ وہ نشان قائم رہے اور وہ اس کے مطابق کریز پر کھڑا ہو سکے۔ گارڈ لینے کے طریقے کو سمجھانے کے لیے ایک تصویر یہاں پیش کر رہا ہوں، امید ہے کہ مددگار ہوگی۔

taking-guard

گارڈ لینے کا آؤٹ ہونے سے صرف ایک تعلق ہے، وہ ہے ٹائمڈ-آؤٹ۔ یعنی جب ایک بلے باز آؤٹ ہوتا ہے تودوسرے بیٹسمین کو 3 منٹ کے اندر گارڈ لینا چاہیے ورنہ وہ ٹائمڈ-آؤٹ ہو جائے گا۔ گارڈ کرکٹ کے اولین زمانے ہی سے لیا جاتا ہے، مشہور بلے باز ڈاکٹر ڈبلیو جی گریس کی 1883ء کی ایک تاریخی تصویر موجود ہے جس میں وہ گارڈ لیتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔

wg-grace

سوال: ایک روزہ مقابلوں میں سب سے زیادہ رنز کن بلے بازوں نے بنائےہیں؟ عمران خان

جواب: ایک روزہ تاریخ میں اب تک سب سے زیادہ رنز بھارت کے سچن تنڈولکر نے بنا رکھے ہیں۔ 44.83 کے اوسط سے 18 ہزار 426 رنز میں سچن کی 49 سنچریاں اور 96 نصف سنچریاں شامل ہیں۔ یعنی 145 باریاں ایسی ہیں جن میں سچن نے 50 یا اس سے زیادہ رنز بنائے ہیں۔ سچن کا بہترین اسکور ناقابل شکست 200 رنز ہے جو انہوں نے 2010ء میں جنوبی افریقہ کے خلاف بنائے تھے۔

ان کے بعد آسٹریلیا کے رکی پونٹنگ کا نمبر آتا ہے جنہوں نے 42.03 کے اوسط سے 13 ہزار 704 رنز بنائے۔ ان کے بعد بالترتیب ان بلے بازوں کے نام آتے ہیں۔ سنتھ جے سوریا (13 ہزار 430)، انضمام الحق (11 ہزار 739)، ژاک کیلس (11 ہزار 498)، سارو گانگلی (11 ہزار 363) اور کمار سنگاکارا (11 ہزار 26 رنز)۔ کرک نامہ کے قارئین کی دلچسپی کے لیے بتاتا چلوں کہ سچن، پونٹنگ اور انضمام میں ایک قدر مشترک ہے کہ یہ تینوں نامور بلے باز 20، 20 مرتبہ صفر پر آؤٹ ہوئے ہیں۔

سوال: شعیب ملک کے بہترین باؤلنگ اعدادوشمار کیا ہیں؟ سردار جنید

جواب: شعیب ملک نے اپنے کیریئر کے 32 ٹیسٹ مقابلوں میں 61.47 کے بھاری اوسط سے 21 وکٹیں لے رکھی ہیں جن میں جنوبی افریقہ کے خلاف لاہور ٹیسٹ میں حاصل کردہ 42 رنز دے کر 4 وکٹیں لینا ان کی بہترین باؤلنگ ہے۔ اگر ایک روزہ کرکٹ کی بات کریں تو 211 ون ڈے مقابلوں کی 167 اننگز میں انہوں نے 36.08 کے اوسط سے 140 وکٹیں لی ہیں جن میں ہانگ کانگ کے خلاف کولمبو میں 19 رنز دے کر 4 وکٹیں لینا ان کی بہترین باؤلنگ ہے۔ ایک روزہ میں یعنی ایک موقع ہے جب شعیب ملک نے 4 وکٹیں حاصل کیں۔ ٹی ٹوئنٹی میں شعیب ملک نے 53 مقابلے کھیل رکھے ہیں اور ان کی 23 اننگز میں انہوں نے 21.43 کے اوسط سے 16 وکٹیں حاصل کی ہیں۔ جس میں 2011ء میں بنگلہ دیش کے خلاف ڈھاکہ میں 7 رنز لے کر دو وکٹیں لینا بہترین کارکردگی ہے۔

سوال: کرکٹ میں کھلاڑی کے آؤٹ ہونے کے متعلق کتنے قوانین ہیں؟ چند اہم کے بارے میں اگر مختصراً معلومات مل سکے تو نوازش ہوگی۔ فرحان یونس

جواب: کرکٹ میں بلے باز 10 مختلف طریقوں سے آؤٹ ہو سکتا ہے، جو تفصیل طلب ہیں ان کی تھوڑی سی معلومات بھی دے رہا ہوں۔

1- کیچ

2۔ بولڈ

3۔ لیگ بفور وکٹ (ایل بی ڈبلیو)

4۔ رن آؤٹ

5۔ اسٹمپڈ

6۔ ہٹ وکٹ: جب بلے باز کا بلّا یا اس کا جسم وکٹ کو لگے اور بیلز اپنی پوزیشن پر نہ رہیں یعنی گر جائیں تو اسے ہٹ وکٹ آؤٹ قرار دیا جاتا ہے۔ اس طرح کا منظر وقتاً فوقتاً کرکٹ میں دیکھنے کو ملتا ہے۔

7۔ ہینڈلڈ دی بال: جب بلے باز فیلڈنگ سائیڈ کی اجازت کے بغیر گیند ہاتھ سے پکڑ لے تو اسے ہینڈلڈ دی بال آؤٹ قرار دیا جاتا ہے، ایسا فرسٹ کلاس کرکٹ میں 56 مرتبہ ہو چکا ہے۔

8۔ آبسٹرکٹنگ دی فیلڈ: جب بلے باز فیلڈر کے لیے رکاوٹ کا سبب بنے تو اسے ہینڈلڈ دی بال آؤٹ دیا جاتا ہے، فرسٹ کلاس کرکٹ میں 23 بلے باز اس طرح آؤٹ ہو چکے ہیں۔

9۔ ہٹ دی بال ٹوائس: اگر بلے باز گیند کو دو بارہٹ کرے تو بھی وہ آؤٹ ہو جاتا ہے، لیکن اگر ایک بار ہٹ کرنے سے گیند وکٹوں کی جانب جا رہی ہو تو اسے دوسری ہٹ سے روکنے کی صورت میں وہ آؤٹ نہیں ہوگا، یعنی شاٹ کھیلنے کے بعد گیند وکٹوں کی طرف جا رہی ہو تو اسے بلے سے روکا جا سکتا ہے۔ ابھی تک بین الاقوامی کرکٹ میں کوئی کھلاڑی اس طرح آؤٹ نہیں ہوا البتہ فرسٹ کلاس کرکٹ میں ایسے 21 واقعات پیش آ چکے ہیں۔

10۔ ٹائمڈ آؤٹ: ایک بلے باز کے آؤٹ ہونے کے بعد اگلے بیٹسمین کو 3 منٹ کے اندر گارڈ لینا ہوتا ہے۔ اگر وہ اس وقت میں کریز تک پہنچنے اور گارڈ لینے میں ناکام ہو جائے تو ٹائمڈ-آؤٹ کہلائے گا۔ ایسا فرسٹ کلاس کرکٹ میں 4 مرتبہ ہو چکا ہے کہ کوئی بلے باز ٹائمڈ-آؤٹ قرار پایا ہو۔

Facebook Comments