شارجہ سکسز: بورڈ کا شاہد اور عمر کو اجازت نامہ دینے سے انکار

پاکستان نے چیمپئنز ٹرافی کے لیے جس دستے کا اعلان کیا، اس میں دوکھلاڑیوں کی عدم شمولیت کو ماہرین اب بھی شک کی نگاہ سے دیکھ رہے ہیں، ایک شاہد آفریدی اور دوسرے عمر اکمل۔اگر پاکستان انگلستان میں اچھی کارکردگی نہ دکھا پایا تو نزلہ اسی فیصلے پر گرنا ہے۔ بہرحال، دونوں کی فارم کو دیکھا جائے تو سلیکشن کمیٹی کا فیصلہ کسی حد تک درست بھی لگتا ہے لیکن اب پاکستان کرکٹ بورڈ نے دونوں کو نجی ٹورنامنٹ کھیلنے کے لیے بھی اجازت نامہ جاری کرنے سے انکار کر کے چند پیشانیوں پر بل ضرور ڈال دیے ہیں۔

شاہد آفریدی بغیر این او سی کے کھیلنے کی وجہ سے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کی زد میں بھی آ سکتے ہیں (تصویر: AP)

شاہد آفریدی بغیر این او سی کے کھیلنے کی وجہ سے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کی زد میں بھی آ سکتے ہیں (تصویر: AP)

چند روز قبل شاہد آفریدی اور عمر اکمل کے حوالے سے یہ خبر منظرعام پر آئی تھی کہ وہ شارجہ میں ہونے والے شارجہ سکسز ٹورنامنٹ میں شرکت کریں گے۔ یہ ٹورنامنٹ 20 مئی سے شارجہ کے میدان میں شروع ہو چکا ہے اور یکم جون تک جاری رہے گا۔ اس سلسلے میں شاہد آفریدی کے بارے میں تو تصدیق ہو چکی ہے کہ وہ متحدہ عرب امارات پہنچ چکے ہیں۔ لیکن آج پاکستان کرکٹ بورڈ کی جانب سے یہ کہنا کہ کھلاڑی نجی ٹورنامنٹس میں شرکت نہیں کر سکتے، ان کے لیے مسئلہ کھڑا کر سکتا ہے کیونکہ وہ اجازت نامے یعنی این او سی کے بغیر ایک مقابلہ کھیل بھی چکے ہیں۔

کرک نامہ کو معلوم ہوا ہے کہ شاہد آفریدی نے دبئی لائنز کی جانب سے عجمان کرکٹ ٹورنامنٹ میں حصہ لیا اور 38 رنز بھی بنائے۔ کیونکہ شاہد کو این او سی جاری نہیں کی گئی تھی اس لیے وہ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کی زد میں آ سکتے ہیں۔ تاہم پاکستان کرکٹ بورڈ نے اس سمت میں کوئی اشارہ نہیں دیا کہ ان کے خلاف کوئی کارروائی بھی ہو سکتی ہے۔

شاہد آفریدی کو گزشتہ ہفتے ہی زمرہ اول میں مرکزی معاہدے (سنٹر ل کانٹریکٹ) سے نوازا گیا ہے اور صرف ایک طرز کی کرکٹ میں ملک کی نمائندگی پر یہ 'اعزاز' پانا حیران کن ہے۔

شارجہ کرکٹ کونسل کے زیر انتظام ہونے والے شارجہ سکسز ميں شاہد اور عمر اکمل کے علاوہ حماد اعظم، رانا نوید الحسن،حارث سہیل اور دیگر پاکستانی کھلاڑی شرکت کر رہے ہیں۔واضح رہے کہ پاکستان کے سابق کپتان و کوچ وقار یونس اس ٹورنامنٹ کے برانڈ سفیر ہیں ۔

Facebook Comments