ڈوبتی کشتی سے ایک اور مسافر کود گیا، آئی پی ایل چیئرمین مستعفی

جب کشتی ڈوبنے لگتی ہے تو اس میں موجود تمام مسافر کود جاتے ہیں، حتیٰ کہ وہ بھی جنہیں تیرنا نہیں آتا۔ کچھ ایسا ہی بھارت کی 'المشہور' پریمیئر لیگ میں ہو رہا ہے، جہاں پولیس نے آئی پی ایل کا کچا چٹھا کھول کر رکھ دیا ہے اور اب حالت یہ ہے کہ کہانی بورڈ سربراہ کے گھر تک پہنچ چکی ہے، جن کے داماد اور لیگ کی سب سے کامیاب ٹیم چنئی سپر کنگز کے مالک گروناتھ مے یپن بھی جیل کی ہوا کھا رہے ہیں۔ اس "کہانی" سے باہر ہونے والے کرداروں میں ایک تازہ اضافہ آئی پی ایل چیئرمین راجیو شکلا کا ہے جنہوں نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔

کیا راجیو شکلا کے بعد ایک اور بڑی وکٹ گرے گی؟

کیا راجیو شکلا کے بعد ایک اور بڑی وکٹ گرے گی؟

اہم ترین عہدے پر فائز راجیو کا یہ استعفیٰ بھارتی کرکٹ بورڈ (بی سی سی آئی) کے دو اعلیٰ عہدیداران کے استعفوں کے بعد سامنے آیا ہے۔ بی سی سی آئی سیکرٹری سنجے جگدالے اور خزانچی اجے شرکے نے چنئی میں بی سی سی آئی کی ورکنگ کمیٹی کے اہم اجلاس سے قبل ہی اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا، تاہم بورڈ کے سربراہ این شری نواسن بدستور اپنے عہدے سے چپکے ہوئے ہیں اور کسی صورت اسے چھوڑنے پر راضی ہوتے نہیں دکھائی دیتے۔

بھارت کے سرکاری خبر رساں ادارے 'پریس ٹرسٹ آف انڈیا' کے مطابق راجیو شکلا نے کہا کہ "انہوں نے وہ کچھ عرصے سے آئی پی ایل چیئرمین کی حیثیت سے استعفیٰ دینے کا سوچ رہے تھے، اور اب ان کے خیال میں فیصلے عملدرآمد کا یہ بہترین وقت ہے۔" راجیو نے ستمبر 2011ء میں آئی پی ایل چیئرمین کا عہدہ سنبھالا تھا۔

یہ ہنگامہ اس وقت کھڑا ہوا جب ممبئی پولیس نے راجستھان رائلز کے تین کھلاڑیوں کو اسپاٹ فکسنگ کے الزام میں گرفتار کیا، جنہوں نے پہلے ہی دن اعتراف جرم بھی کر لیا۔ بعد میں تفتیش کا دائرہ وسیع ہوا تو چنئی سپر کنگز کے مالک گروناتھ مے یپن بھی زد میں آ گئے، جو اس وقت زیر حراست ہیں۔

راجیو صحافی کی حیثیت سے سیاسی تبصرہ نگار اور ٹی وی میزبان رہے ہیں جبکہ حکومت ہند میں پارلیمانی امور کے وزیر مملکت بھی رہ چکے ہیں۔ وہ گزشتہ 13 سال سے پارلیمان کے رکن ہیں اور برسراقتدار آل انڈیا کانگریس کی مرکزی گورننگ باڈی کے سیکرٹری بھی ہیں۔

اس تازہ ترین پیشرفت کے بعد خدشہ ہے کہ چند وکٹیں اور بھی گریں گی۔ دیکھیں اگلی گیند کب پھینکی جاتی ہے؟

Facebook Comments