چیمپئنز ٹرافی کے کپتان

چیمپئنز ٹرافی 2013ء کے آغاز میں اب صرف چند گھنٹے رہ گئے ہیں ۔سال کے اس اہم ترین ٹورنامنٹ سے قبل جہاں شائقین کرکٹ ناخن چباتے نظر آ رہے ہيں، وہیں ذمہ داریوں کا ایک بھاری بوجھ ان 8 افراد کے کاندھوں پر بھی ہے، جو دنیا کی بہترین ٹیموں کے درمیان ہونے والے اس عالمی ٹورنامنٹ میں اپنے ملکوں کی قیادت کے فرائض انجام دے رہے ہیں۔

اک ایسے ٹورنامنٹ میں جہاں تمام ٹیمیں جیتنے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہیں، کپتان کی ایک معمولی سی غلطی بھی ٹیم کی شکست اور ٹورنامنٹ سے باہر ہونے کا سبب بن سکتی ہے۔ اس لیے مندرجہ ذیل آٹھوں قائدین پر بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے ۔ آئیے شریک آٹھوں ٹیموں کے کپتانوں کے کیریئر پر ایک نظر ڈالتے ہیں۔

misbah-ul-haq

پاکستان – مصباح الحق:

مصباح الحق چیمپئنز ٹرافی 2013ء کے عمر رسیدہ ترین کپتان ہیں جنہوں نے حال ہی میں اپنی 39 ویں سالگرہ منائی ہے۔ مصباح اپنے کیریئر میں 117 ون ڈے انٹرنیشنل کھیل چکےہیں اور 42.32 کے اوسط سے 3386 رنز بنائے ہیں۔ مصباح نے ابھی تک اپنے کیريئر میں کوئی سنچری نہیں بنائی، جبکہ 23 نصف سنچریوں کے ساتھ ان کا زیادہ سے زیادہ اسکور 93 رنز ہے۔

اس کے علاوہ انہوں نے اپنے ایک روزہ کیریئر میں 236 چوکے اور 48 چھکے لگا رکھے ہیں۔ مصباح زیادہ تر پانچویں پوزیشن پر
بیٹنگ کرنے آتے ہیں، اس نمبر پرانہوں نے اب تک 49 بار بیٹنگ کی ہے۔ پاکستان جب 7 جون کو اوول میں ویسٹ انڈیز سے ٹکرائے گا تو یہ مصباح کا انگلستان کی سرزمین پر پہلا ون ڈے انٹرنیشنل میچ بھی ہوگا۔ جی ہاں، اسی سرزمین پر جہاں تقریباً تین سال قبل پاکستانی کرکٹ ٹیم تاریخ کے سب سے بڑے تنازع میں پھنسی تھی اور یہ اسپاٹ فکسنگ اسکینڈل کے بعد پہلا موقع بھی ہے کہ پاکستان انگلش سرزمین پر وارد ہو رہا ہے۔

مصباح نے اب تک 42 ایک روزہ میچز میں پاکستان کی کپتانی کی ہے جس میں سے 25 جیتے، 15 ہارے، ایک ٹائی اور ایک بے نتیجہ رہا۔ مصباح پہلی بار کسی آئی سی سی ٹورنامنٹ میں کپتانی کرنے جا رہے ہیں۔

michael-clarke

آسٹریلیا-مائیکل کلارک:

چیمپئنز ٹرافی میں شریک کھلاڑیوں سے تجربہ کار ترین، مائیکل کلارک کی عمر اس وقت عمر 32 سال 64 دن ہے۔ کلارک اپنے کیریئر میں 227 ایک روزہ مقابلوں میں 44.69 کے اوسط سے 7375 رنز بنا چکے ہیں۔ کلارک نے اپنے کیریئر میں اب تک 7 سنچریاں اور 54 نصف سنچریاں اسکور کی ہیں جن میں 130 رنز کی انفرادی اننگز ان کا بہترین اسکور ہے۔ علاوہ ازیں انہوں نے اپنے ایک روزہ کیریئر میں 598 چوکے اور 49 چھکے لگا رہے ہیں۔ کلارک زیادہ تر چوتھی پوزیشن پر بیٹنگ کرنے آتے ہیں اور اس نمبر پر انہوں نے اب تک 99 اننگز کھیل چکے ہیں۔ کلارک نے انگلستان کی سرزمین پر 26 ایک روزہ میچز کھیل رکھے ہیں۔

کلارک نے اب تک 56 ایک روزہ مقابلوں میں کپتانی کی ہے جس میں سے 36 جیتے، 18 ہارے اور 2 بے نتیجہ رہے۔ کلارک پہلی بار آئی سی سی کے ایک روزہ ٹورنامنٹ میں کپتانی کرنے جا رہے ہیں۔ وہ 2010ء کے ورلڈ ٹی ٹوئنٹی میں آسٹریلیا کی قیادت کر چکے ہیں۔

alastair-cook

انگلستان- ایلسٹر کک:

میزبان انگلستان کے کپتان کک کی اس وقت عمر 28 سال 162 دن ہے۔ کیریئر میں 66 ایک روزہ میچز میں 40 کے اوسط سے 2520 رنز بنانے والے ایلسٹر کک کا بحیثیت کپتان یہ سب سے بڑا امتحان ہوگا کیونکہ انگلش کنڈیشنز سے ان سے زیادہ واقف کوئی نہیں، اور اگر ان کنڈیشنز میں بھی وہ شکست کھا جائیں تو کک کی قائدانہ اہلیت پر سوالیہ نشان اٹھے گا۔ کک نے کیریئر میں 5 سنچریاں اور 16 نصف سنچریاں بنا رکھی ہیں جن میں 137 کی انفرادی اننگز ان کا بہترین مجموعہ ہے۔ اس کے علاوہ انہوں نے اپنے ایک روزہ کیریئر میں 296 چوکے اور 6 چھکے بھی لگا رکھے ہیں۔ کک زیادہ تر اوپنر کے طور پر بیٹنگ کرنے آتے ہیں۔ انہوں نے بحیثیت اوپنر اب تک 30 بار بیٹنگ کی ہے۔ کک ن ےاپنے ملک یعنی انگلستان میں 35 ون ڈے میچز کھیل رکھے ہیں۔

کک نے اب تک 43 ایک روزہ بین الاقوامی مقابلوں میں کپتانی کی ہے جن میں سے 25 جیتے، 15 ہارے، ایک ٹائی اور 2 بے نتیجہ رہے۔ وہ بھی پہلی بار آئی سی سی کے کسی ٹورنامنٹ میں قیادت کے فرائض انجام دیں گے۔

MS-dhoni

بھارت- مہندر سنگھ دھونی:

آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی میں تمام کپتانوں میں بلحاظ کارکردگی سب سے نمایاں بھارت کے مہندر سنگھ دھونی ہیں۔ اعدادوشمار اور ریکارڈز میں بھی ان کا کوئی ثانی نہیں تو بحرانی کیفیت میں ٹیم کی نیّا پار لگانے کی اہلیت میں بھی وہ سب سے ممتاز ہیں۔ 31 سال 333 دن عمر کے حامل دھونی کیریئر میں 219 ایک روزہ میچز کھیل چکے ہیں اور 51.85 کی زبردست اوسط سے 7259 رنز بنائے ہیں۔ دھونی نے اپنے کیریئر میں 8 سنچریاں اور 48 نصف سنچریاں اسکور کر رکھی ہیں جن میں 183* رنز ان کا بہترین انفرادی اسکور ہے۔ انہوں نے اپنے ایک روزہ کیریئر میں 556 چوکے اور 152 چھکے بھی لگا رکھے ہیں۔

دھونی زیادہ تر چھٹی پوزیشن پر بیٹنگ کرنے آتے ہیں۔ اس نمبر پر انہوں نے اب تک 82 بار بیٹنگ کی ہے۔ دھونی نے ایک روزہ میں وکٹوں کے پیچھے 274 بلے بازوں کو آؤٹ کر رکھا ہے جن میں 206 کیچ اور 68 اسٹمپس شامل ہیں۔ دھونی نے انگلستان کی سرزمین پر اب تک 12 ایک رزہ مقابلے کھیل رکھے ہیں۔

'ایم ایس ڈی' کو موجودہ دور کے تجربہ کار ترین کپتانوں میں سے ایک سمجھا جاتا ہے۔ محدود اوورز کی کرکٹ میں ان کا کوئی مقابل نہیں۔ کپتانی ہو یا بیٹنگ یا پھر وکٹ کیپنگ، ہر شعبے میں متحرک ہیں اور ذمہ دارانہ کردار ادا کرتے ہیں۔

دھونی نے اب تک 135 ایک روزہ میچز میں کپتانی کی ہے جس میں سے 77 جیتے، 47 ہارے، 3 ٹائی اور 8 بے نتیجہ رہے۔ دھونی کئی بار آئی سی سی کے مختلف طرز کے ایونٹس میں بھارت کی کپتانی کر چکے ہیں۔ جن میں 2009ء کی چیمپئنز ٹرافی، 2011ء کا ورلڈ کپ اور ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کے تمام ٹورنامنٹس شامل ہیں۔ بھارت انہی کی زیر قیادت 2011ء کا ورلڈ کپ جیتنے میں کامیاب ہوا۔

dwayne-bravo

ویسٹ انڈیز – ڈیوین براوو:

ڈیوین براوو اس وقت 29 سال 241 دن کے ہیں اور کیریئر میں 137 ون ڈے انٹرنیشنل کھیل چکے ہیں اور 23.82 کی اوسط سے 2311 رنزبنا چکے ہیں۔ براوو نے ابھی تک کیریئر میں صرف ایک سنچری اور 8 نصف سنچریاں بنائی ہیں جن میں 112* رنز کی انفرادی اننگز ان کی بہترین کارکردگی ہے۔ اس کے علاوہ انہوں نے کیریئر میں 175 چوکے اور 44 چھکے لگا رکھے ہیں۔ براوو نے اپنے ایک روزہ کیریئر میں 30.06 کے اوسط سے 160 وکٹیں بھی حاصل کر رکھی ہیں۔ جن میں 43 رنز دےکر 6 وکٹیں ان کی بہترین باؤلنگ کارکردگی ہے اور یہی واحد موقع بھی ہے کہ انہوں نے میچ میں پانچ یا زائد وکٹیں حاصل کی ہوں۔ براوو زیادہ تر پانچویں نمبر پر بیٹنگ کرنے آتے ہیں۔ اس نمبر پر انہوں نے 39 بار بیٹنگ کی ہے۔ براوو نے انگلش سرزمین پر 18 ایک روزہ مقابلے کھیل رکھے ہیں۔

براوو نے اب تک 10 ایک روزہ میچز میں کپتانی کی ہے جن میں سے 5 جیتے اور 5 مقابلے ہارے ہیں۔ براوو پہلی بار کسی آئی سی سی ٹورنامنٹ میں کپتانی کرنے جا رہے ہیں۔

ab-de-villiers

جنوبی افریقہ – ابراہم ڈی ولیئرز:

ڈی ولیئرز کی اس وقت عمر 29 سال 108 دن ہے۔ ڈی ولیئرز نے اپنے کیریئر میں 139 ون ڈے انٹرنیشنل مقابلے کھیل چکے ہیں اور 50.38 کی زبردست وسط سے 5542 رنز بنائے ہیں۔ ڈی ولیئرز نے اپنے ایک روزہ کیریئر میں 14 سنچریاں اور 32 نصف سنچریاں اسکور کی ہیں جن میں 146 رنز کی انفرادی اننگز ان کی بہترین بلے بازی ہے۔ اس کے علاوہ انہوں نے اپنے ایک روزہ کیریئر میں 510 چوکے اور 92 چھکے بھی لگا رکھے ہیں۔ ڈی ولیئرز زیادہ تر چوتھی پوزیشن پر بیٹنگ کرنے آتے ہیں اور اس نمب رپر انہوں نے اب تک 73 بار بیٹنگ کی ہے۔ ڈی ولیئرز نے ایک روزہ میں وکٹوں کے پیچھے 79 بلے بازوں کو بھی آؤٹ کر رکھا ہے، جس میں 76 کیچ اور 3 اسٹمپس ہیں۔ اس کے علاوہ فیلڈنگ کے دوران انہوں نے 41 کیچ پکڑ رکھے ہیں۔ ڈی ولیئرز نے انگلستان کی سرزمین پر 10 ایک روزہ مقابلے کھیل رکھے ہیں۔

ڈی ولیئرز نے اب تک 20 ایک روزہ مقابلوں میں کپتانی کر رکھی ہے جس میں سے 12 جیتے، 7 ہارے اور ایک بے نتیجہ رہے۔ ڈی ولیئرز پہلی بار آئی سی سی کے کسی ون ڈے ٹورنامنٹ میں کپتانی کر رہے ہیں البتہ وہ 2012ء ورلڈ ٹی ٹوئنٹی میں جنوبی افریقہ کی قیادت کر چکے ہیں۔

ڈی ولیئرز کے کاندھوں پر دیگر تمام کپتانوں کے مقابلے میں زیادہ ذمہ داری ہے کیونکہ ان کی ٹیم ہمیشہ کی طرح ایک اور عالمی ٹورنامنٹ میں فیورٹ ہے، اور ساتھ میں "چوکرز" کا داغ بھی ان پر موجود ہے، دیکھنا یہ ہے کہ ڈی ولیئرز اتنی مضبوط ٹیم کو ٹرافی تک پہنچا کر اپنی اہلیت ثابت کرنے اور اس داغ کو مٹانے کا ہدف حاصل کرپاتے ہیں یا نہیں۔

angelo-mathews

سری لنکا- اینجلو میتھیوز

اینجلو میتھیوز کی اس وقت عمر 26 سال 65 دن ہے اور وہ چیمپئنز ٹرافی 2013ء کے کم عمر ترین کپتان بھی ہیں۔ میتھیوز نے اپنے کیریئر میں 93 ایک روزہ مقابلے کھیلے ہیں جن میں 33.77کی اوسط سے 1790 رنز بنا رکھے ہیں۔ میتھیوز نے ابھی تک اپنے کیریئر میں کوئی سنچری نہیں بنائی جبکہ ان کی نصف سنچریوں کی تعداد 13 ہے۔ ان کا بہترین اسکور 80* رنز ہے۔ اس کے علاوہ انہوں نے اپنے ایک روزہ کیریئر میں 125 چوکے اور 21 چھکے لگا رکھے ہیں۔ میتھیوز زیادہ تر چھٹی پوزیشن پر بیٹنگ کرنے آتے ہیں، اس نمبر پر انہوں نے اب تک 35 بار بیٹنگ کی ہے۔ میتھیوز نے ایک روزہ میں 35.20 کے اوسط سے 58 وکٹیں بھی لے رکھی ہیں جن میں 20 رنز دے کر 6 وکٹیں لینا ان کی بہترین کارکردگی ہے، اور یہی واحد موقع بھی ہے کہ کسی ون ڈے میں انہوں نے پانچ یا زیادہ وکٹیں حاصل کی ہوں۔ میتھیوز نے انگلستان کی سرزمین پر اب تک صرف 5 ون ڈے میچز کھیلے ہیں۔

میتھیوز نے اب تک صرف 4 ون ڈے میچز میں کپتانی کی ہے جن میں سے ایک جیتا، دو ہارے اور ایک بے نتیجہ رہا۔ میتھیوز بھی پہلی بار کسی آئی سی سی ٹورنامنٹ میں قیادت کے فرائض انجام دے رہے ہیں۔

brendon-mccullum

نیوزی لینڈ –برینڈن میک کولم:

برینڈن میک کولم اس وقت 31 سال اور251 دن کے ہیں۔ میک کولم نے اپنے کیریئر میں 214 ون ڈے انٹرنیشنل کھیل رکھے ہیں اور 31.13 کے اوسط سے 4920 رنز بنائے ہیں۔ میک کولم نے اپنے ایک روزہ کیریئر میں 4 سنچریاں اور 25 نصف سنچریاں اسکور کی ہیں جن میں 166 رنز ان کی بہترین انفرادی اننگز ہے۔ اس کےعلاوہ انہوں نے ایک روزہ کیریئر میں 441 چوکے اور 147 چھکے لگا رکھے ہیں۔ میک کولم زیادہ تر اوپنر کی حیثیت سے بیٹنگ کےلیے آتے ہیں اور اس حیثیت سے 80 بار بیٹنگ کر چکے ہیں۔ میک کولم نے ایک روزہ بین الاقوامی مقابلوں میں وکٹوں کے پیچھے 238 بلے بازوں کو نشانہ بنایا ہے جن میں 223 کیچ اور 15 اسٹمپس شامل ہیں۔ اس کے علاوہ فیلڈنگ کے دوران بھی 13 کیچز کر رکھے ہیں۔ میک کولم نے انگلش سرزمین پر 10 ایک روزہ میچز کھیل رکھے ہیں۔

میک کولم نے اب تک 16 ایک روزہ میچز میں قیادت کی ہے جن میں سے 8 جیتے او ر8 میں شکست کا منہ دیکھنا پڑا۔ میک کولم 2009ء میں آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی کے ایک میچ میں نیوزی لینڈ کی قیادت کی تھی جبکہ ورلڈ ٹی ٹوئنٹی 2012ء میں بھی نیوزی لینڈ کی قیادت کے فرائض انجام دیے تھے۔

Facebook Comments