[باؤنسرز] دل کہتا ہے

دماغ کی اہمیت سے کسی طور پر بھی انکارکیا جاسکتا ہے جو تمام جسم کا حاکم ہے مگر اس کے ساتھ ساتھ دل کے کہنے کو بھی ردنہیں کیا جاسکتا ہے۔زندگی میں بہت سے کام دماغ کے حکم کے برعکس دل کے کہنے پر کیے ہیں جن میں کبھی بھی نفع اور نقصان کو سامنے نہیں رکھا۔لکھنے کا معاملہ بھی ایسا ہی ہے جس میں دماغ سے زیادہ دل کے حکم سر تسلیم خم کیا جاتا ہے۔ایک بڑے اسپورٹس میگزین کے لیے لکھنے کے ساتھ ساتھ کرک نامہ کیلئے لکھنا بھی دل کا معاملہ ہے کیونکہ فہد جیسے دوستوں کو انکار ممکن نہیں ہے۔

باؤلنگ کے شعبے میں پاکستان کو تمام شریک ٹیموں پر برتری حاصل ہے (تصویر: BCCI)

باؤلنگ کے شعبے میں پاکستان کو تمام شریک ٹیموں پر برتری حاصل ہے (تصویر: BCCI)

کرک نامہ کیلئے یہ پہلی تحریر چیمپئنز ٹرافی کے افتتاحی میچ سے چند گھنٹے پہلے لکھ رہا ہوں جس کا عنوان ہے "دل کہتا ہے"۔۔۔ ممکن ہے کہ یہ رومانوی عنوان کرکٹ جیسے کھیل سے مطابقت نہ رکھتا ہو مگر دل کہتا ہے کہ چیمپئنز ٹرافی کا یہ آخری ایڈیشن پاکستانی ٹیم کے نام ہوگا مگر دل کا یہ دعویٰ صرف جذباتی نہیں ہے بلکہ اس میں حقائق کو بھی بنیاد بنایاگیا ہے ۔کچھ لوگ اگر یہ سمجھتے ہیں کہ اگر جنوبی افریقہ کے خلاف وارم اپ میچ میں کامیابی کو بنیاد بنا کر ٹائٹل جیتنے کا خواب دیکھا جارہا ہے تو ایسا نہیں ہے کیونکہ ان وارم اپ میچز میں آسٹریلیا کی پے درپے ناکامیوں یا بھارتی ٹیم کی مسلسل کامیابیوں کی بنیاد پر چیمپئنز ٹرافی میں ان ٹیموں کی کارکردگی کا تعین نہیں کیا جاسکتا بلکہ چند گھنٹوں بعد شروع ہونے والے میگا ایونٹ میں سب کچھ تبدیل ہوچکا ہوگا۔ وارم اپ میچز میں محض وارم اپ ہونے کی نیت سے کھیلنے والی ٹیمیں چیمپئنز ٹرافی میں پوری قوت کے ساتھ حملہ آور ہوں گی جبکہ پریکٹس میچز میں کامیابی حاصل کرنے والی ٹیموں کیلئے مشکلات بڑھ سکتی ہیں مگر میں جس بنیاد پر پاکستانی ٹیم کو فائنل کھیلتا اور ٹائٹل جیتتے ہوئے دیکھ رہا ہوں وہ گرین شرٹس کی مضبوط ترین بالنگ لائن ہے جو انگلش کنڈیشنز میں اور بھی مہلک ثابت ہوگی۔

اگر پاکستان کے گروپ میں موجود دیگر ٹیموں کی بالنگ لائن پر نظر ڈالیں تو ڈیل اسٹین کے زخمی ہونے کے بعد پروٹیز بالنگ آدھی ہوکر رہ گئی ہے۔ بھارتیوں نے اگرچہ وارم اپ میچ میں آسٹریلیا کو قلیل اسکور پر آؤٹ کیا مگر انگلش کنڈیشنز میں بھی بھارت کا سب سے موثر ہتھیار اس کے اسپنرز ہی ہونگے جو ممکنہ طور پر انگلینڈ میں ویسی کارکردگی نہ دکھا پائیں جیسی وہ ایشیائی وکٹوں پر دکھاتے ہیں۔ویسٹ انڈیز کی بالنگ لائن کو قدرے بہتر کہا جاسکتا ہے جس کے پاس اچھے فاسٹ بالرز کے ساتھ سنیل نرائن جیسا آف اسپنر بھی موجود ہے مگر مجموعی طور پر پاکستانی ٹیم کو بالنگ کے شعبے میں ان ٹیموں پر برتری حاصل ہے جس کے پاس جنید خان، محمد عرفان،اسد علی اور وہاب ریاض کی شکل میں ایک موثر پیس اٹیک موجود ہے جبکہ سعید اجمل کے ساتھ محمد حفیظ کی موجودگی مخالف بیٹسمینوں کو اپنے جال میں پھنسا سکتی ہے۔

پاکستان بیٹنگ لائن کو ہمیشہ سے کمزور قرار دیا جاتا ہے جبکہ انگلش کنڈیشنز میں بیٹنگ کی صلاحیتیں مزید مشکوک ہوجاتی ہیں مگر اس مرتبہ بیٹسمین بھی عمدہ کارکردگی کیلئے پر عزم ہیں۔عمران فرحت میں آنے والی تبدیلی بہت بھلی محسوس ہورہی ہے جو اپنے اسٹروکس روک کر وکٹ پر کھڑے ہونے کی کوشش کررہا ہے اور تاحال کھبا اوپنر اپنی اس کوشش میں کافی حد تک کامیاب بھی ہے۔ 1999ء کے ورلڈ کپ میں جس طرح عبدالرزاق نے جس طرح 'پنچ بلاکر'کا کردار نبھایا تھا اس مرتبہ چیمپئنز ٹرافی میں وہی کردار عمران فرحت کیلئے مختص کیا گیا ہے۔ محمد حفیظ بھی ون ڈاؤن پوزیشن پر خود کو ایڈجسٹ کرچکا ہے اور میگا ایونٹ میں پاکستانی نائب کپتان سے مزید ذمہ دارانہ اننگز کی ضرورت ہے ۔پاکستان کی بیٹنگ لائن کا سب سے بڑا پلس پوائنٹ کپتان مصباح الحق کی موجودگی ہے جو کسی بھی قسم کے حالات میں بیٹنگ لائن کو سنبھالنے کا فن جانتا ہے ۔یہی وجہ ہے کہ چیمپئنز ٹرافی میں پاکستانی ٹیم مڈل آرڈر میں مصباح الحق پر بہت زیادہ بھروسہ کرے جس کے ساتھ باصلاحیت اسد شفیق بھی موجود ہے جبکہ شعیب ملک اور کامران اکمل جیسے سینئر کھلاڑی اگر چل گئے تو یہ پاکستانی ٹیم کیلئے بونس ہوگا۔ ٹاپ آرڈر میں صرف ناصر جمشید اچھی فارم میں نہیں ہے جو زیادہ رنز نہیں بنا پارہا ہے اور ناصر کی خراب فارم کے بعد ٹیم مینجمنٹ کے پاس کامران اکمل سے اننگز کا آغاز کروانے کا آپشن بھی موجود ہے۔

یہی وہ حقائق ہیں جن کی بنیادپر دل کہتا ہے کہ پاکستانی ٹیم چیمپئنز ٹرافی کا آخری ایڈیشن جیتنے میں کامیاب ہوجائے گی مگر کرکٹ کے کھیل میں کوئی بات حتمی نہیں ہوتی اور اتارچڑھاؤ کے اس کھیل میں آخری گیند پھینکے جانے سے پہلے تک کوئی نتیجہ اخذ نہیں کیا جاسکتا مگر پھر بھی دل کہتا ہے کہ پاکستانی ٹیم چیمپئنز ٹرافی اپنے ساتھ لے کر وطن واپس آئے گی۔

Facebook Comments