پہلا کوارٹر فائنل: کالی آندھی آج پاکستان سے ٹکرائے گی

عالمی کپ 2011ء کا سب سے طویل مرحلہ اپنے اختتام کو پہنچا اور گزشتہ مرحلے میں اپنا لوہا منوا کر اگلے مرحلے میں پہنچنے والی 8 بہترین ٹیموں کا اصل امتحان شروع ہو رہا ہے۔ کوارٹر فائنل یعنی ناک آؤٹ مرحلہ میں شکست کا مطلب ہے عالمی کپ میں سفر تمام۔ اس سلسلے کا پہلا معرکہ آج پاکستان اور ویسٹ انڈیز کے درمیان شیر بنگلہ اسٹیڈیم، میرپور، ڈھاکہ میں ہوگا۔

حالیہ کارکردگی

پاکستان
پاکستان نے آسٹریلیا اور سری لنکا جیسے ہاٹ فیورٹس کو زیر کر کے حیران کن طور پر گروپ 'اے' میں پہلی پوزیشن حاصل کی۔ اسے اپنے چھ گروپ میچز میں سے صرف ایک میں نیوزی لینڈ سے شکست کھانا پڑی۔ اس کے باوجود آسٹریلیا اور سری لنکا جیسی ٹیموں کے خلاف گرین شرٹس نے جس انداز میں فتح کے جھنڈے گاڑھے وہ اس کے خطرناک عزائم اور بلند حوصلگی کا اظہار ہیں۔

عالمی کپ کے مسلسل 34 میچز میں ناقابل شکست رہنے کے بعد آسٹریلیا کو پاکستان کے ہاتھوں ہار کا مزا چکھنا پڑا۔ عالمی کپ ٹورنامنٹ میں آخری مرتبہ آسٹریلیا کو 1999ء میں وسیم اکرم کی زیر قیادت پاکستان ہی نے شکست دی تھی۔

پاکستان کو باؤلنگ کے شعبے میں ویسٹ انڈیز پر واضح برتری حاصل ہے۔ کپتان شاہد آفریدی 17 وکٹوں کے ساتھ جاری ٹورنامنٹ میں اب تک سب سے زیادہ وکٹیں لینے والے باؤلر ہیں جبکہ پاکستانی پیس اٹیک کے اہم رکن عمر گل بھی بھرپور فارم میں بہت نپی تلی گیند بازی کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ عبدالرزاق اور ممکنہ طور پر شامل ہونے والے سعید اجمل سے بھی ویسٹ انڈیز بلے بازوں کو ہوشیار رہنا ہوگا۔

البتہ پاکستانی ٹیم کے لیے بنیادی مسئلہ اس کی بیٹنگ لائن اپ کی غیر مستقل کارکردگی ہے۔ مڈل آرڈر میں سوائے عمر اکمل کسی بلے باز نے تسلسل کے ساتھ اچھے کھیل کا مظاہرہ نہیں کیا۔ گزشتہ دو مقابلوں میں اسد شفیق کی صورت میں پاکستان کو ایک مڈل آرڈر بلے باز میسر آیا تاہم بیٹنگ لائن کی ریڑھ کی ہڈی سمجھے جانے والے یونس خان اور مصباح الحق سوائے سری لنکا کے کسی اور میچ میں اچھی کارکردگی کا مظاہرہ نہیں کر سکے جو بہرحال پاکستانی ٹیم کے لیے تشویشناک بات ہے۔ دوسری جانب خود کپتان شاہد آفریدی کی بلے بازی غیر ذمہ دارانہ رہی ہے جو آسٹریلیا کے خلاف اہم موقع پر ایک غلط اور غیر ضروری شاٹ کھیل کر پویلین لوٹے اور ٹیم کو مشکل میں ڈال گئے۔ کالی آندھی کے مقابلے میں پاکستانی بلے بازوں خصوصاً یونس خان اور شاہد آفریدی پر بہت بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ بیٹنگ میں اپنے جوہر دکھائیں۔

ویسٹ انڈیز
دوسری طرف گروپ بی میں چوتھے نمبر پر آنے والی ٹیم ویسٹ انڈیز ایک خطرناک گروپ میں نسبتاً بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ گو کہ اسے گروپ کی تینوں بہترین ٹیموں انگلستان، بھارت اور جنوبی افریقہ کے خلاف شکست سے دوچار ہونا پڑا لیکن اس نے اپنے باقی ماندہ میچز میں اپنے حریفوں کو ملیا میٹ کرتے ہوئے بہت آسانی اور بڑے مارجنز سے جیتے۔ یہی وجہ ہے کہ تین میچز میں شکست کے باوجود اس کا رن ریٹ اپنے گروپ کی دیگر تمام ٹیموں سے زیادہ رہا۔

ویسٹ انڈیز نے نیدرلینڈز اور بنگلہ دیش کو جس طرح شکست دی وہ ان کے جارحانہ عزائم کو ظاہر کرتی ہے تاہم بھارت، جنوبی افریقہ اور انگلستان کے خلاف میچ میں اچھی پوزیشن حاصل کرنے کے باوجود شکست دباؤ میں ہمت ہار جانے کی کمزوری کو ظاہر کرتی ہے۔

ویسٹ انڈیز پر ایک بڑا دباؤ یہ بھی ہوگا کہ بڑی ٹیموں کے خلاف ان کا حالیہ ریکارڈ بہت برا ہے۔ ٹیم جون 2009ء سے اپنے سے بلند رینک کی حامل کسی بھی ٹیم کو ایک روزہ مقابلوں میں شکست نہیں دے پایا۔

تاہم ویسٹ انڈیز کے پاس کرس گیل اور شیونرائن چندرپال کی صورت میں دو انتہائی مستند اور خطرناک بلے باز موجود ہیں جو کسی بھی بالنگ لائن کے پرخچہ اڑا دینے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں۔ اس کے علاوہ تیز گیند باز کیمار روچ کی کارکردگی بھی پاکستان کے خلاف میچ میں بہت اہم ہوگی جن کی تیز گیند بازی نے ویسٹ انڈیز کو گروپ میچز جیتنے میں بہت مدد دی۔ ان کے علاوہ جن کھلاڑیوں سے کارکردگی کی توقع ہے ان میں ڈیوون اسمتھ اور کیرون پولارڈ قابل ذکر ہیں۔

پاک-ویسٹ انڈیز معرکے، حالیہ تاریخ
2000ء کے بعد سے اب تک ویسٹ انڈیز کے خلاف کھیلے گئے 25 میچز میں سے پاکستان کو صرف 8 میں شکست ہوئی ہے جبکہ ایک میچ بے نتیجہ رہا ہے۔ بقیہ تمام میچز میں پاکستان کو فتح نصیب ہوئی. یوں ماضی قریب کا ریکارڈ پاکستان کے حق میں ہے۔

2008ء میں ابوظہبی میں ہونے والی تین ایک روزہ میچز کی سیریز میں پاکستان نے ویسٹ انڈیز کو وائٹ واش کیا تھا۔ دونوں ٹیموں کا آخری ایک روزہ مقابلہ 2009ء کی چیمپینز ٹرافی میں ہوا تھا جہاں پاکستان نے تباہ کن باؤلنگ کا مظاہرہ کر کے ویسٹ انڈیز کو 133 پر ڈھیر کر دیا تھا اور میچ 5 وکٹوں سے اپنے نام کیا۔

پاکستان اور ویسٹ انڈیز عالمی کپ مقابلوں میں
اگر 1975ء سے 2007ء تک کی عالمی کپ کی تاریخ دیکھی جائے تو ویسٹ انڈیز کو واضح برتری حاصل ہے جو صرف 2 مواقع پر پاکستان کے ہاتھوں ہارا ہے جبکہ 6 مقابلوں میں اسے فتح نصیب ہوئی۔ پاکستان 1975ء، 1979 اور 1983ء کے عالمی کپ میں ویسٹ انڈیز کے خلاف اپنے تینوں میچز میں شکست سے دوچار ہوا۔ 1987ء میں گو کہ اسے ویسٹ انڈیز کے خلاف پہلے میچ میں سنسنی خیز مقابلے کے بعد ایک وکٹ سے کامیابی ملی لیکن وہ ٹورنامنٹ میں اگلے مقابلے میں اسے زیر کرنے میں ناکام رہا۔

1992ء میں پاکستان کو برائن لارا کی شاندار اننگ کی وجہ سے 10 وکٹوں کی ہزیمت سے دوچار ہونا پڑا تاہم ابتدائی شکستوں کے بعد پاکستانی ٹیم سنبھل گئی اور بالآخر عالمی چیمپئن بنی۔ 1996ء میں پہلی بار عالمی کپ میں دونوں ٹیموں کا آمنا سامنا نہیں ہوا اور 2003ء میں بھی یہی صورتحال رہی۔ البتہ درمیان میں 1999ء کے عالمی کپ میں پاکستان کو فتح نصیب ہوئی۔

پاکستان اور ویسٹ انڈیز کے درمیان عالمی کپ میں آخری مرتبہ 2007ء میں سامنا ہوا تھا جس میں فتح نے میزبان ٹیم کے قدم چومے تھے۔ اس میچ میں ویسٹ انڈیز نے پاکستان کو 54 رنز سے شکست دی۔

حالیہ کارکردگی پر کہا جا سکتا ہے کہ کسی زمانے میں 'کالی آندھی' کہلانے والے ویسٹ انڈیز کا زور اب ٹوٹ چکا ہے۔ 1996ء کے عالمی کپ کے فائنل فور میں رسائی کے بعد سے اب تک وہ کسی عالمی کپ میں یادگار کارکردگی پیش نہ کر سکا۔

میدان
ڈھاکہ کے علاقے میرپور میں واقع شیر بنگلہ نیشنل اسٹیڈیم کی پچ عموما بلے بازوں کے لیے مددگار ہوتی ہے لیکن موجودہ عالمی کپ ہی کے دوران اس میدان پر میزبان بنگلہ دیش کی ٹیم ویسٹ انڈیز اور جنوبی افریقہ کے خلاف بالترتیب 58 اور 78 پر ڈھیر ہوچکی ہے۔ اس کے باوجود اس پچ میں بلے بازوں کے لیے بہت کچھ ہے۔ عالمی کپ کے افتتاحی میچ میں بھارت کے وریندر سہواگ کی 175 رنز کی شاندار اننگ اس کی واضح مثال ہے۔

میدان کی تاریخ اور پچ کی صورتحال کو دیکھتے ہوءے ٹاس جیتنے والی ٹیم کی پہلی ترجیح خود بیٹنگ کر کے حریف کو ایک بڑا ہدف دینا ہوگی کیونکہ شام کے اوقات میں اوس فیلڈنگ و باؤلنگ کرنے والی ٹیموں کے لیے درد سر بن سکتی ہے۔ خصوصاً پاکستانی ٹیم سے تو یہی توقع ہے کہ ایسا ہی کرے گی کیونکہ اب تک وہ ہدف کو حاصل کرنے میں ہمیشہ کمزور ثابت ہوئی ہے۔

Facebook Comments