آسٹریلیا خول میں بند، انگلستان باآسانی فتحیاب

جب آسٹریلیا بھارت کے خلاف وارم اپ مقابلے میں 65 رنز پر ڈھیرہوا تھا تو خوش فہم شائقین نے کہا تھا کہ ارے، یہ تو وارم اپ ہے، اصل مقابلہ تو چیمپئنز ٹرافی میں ہوگا۔ لیکن اس اہم ٹورنامنٹ میں آسٹریلیا کا پہلا قدم ہی ثابت کر گیا کہ آسٹریلیا کی موجودہ ٹیم اس دستے کاایک محض ایک سایہ ہے، ہیولا ہے جس نے 2009ء میں چیمپئنز ٹرافی جیتی تھی۔ نہ باؤلنگ میں دم نظر آیا، نہ بلے باز چلے اور نہ ہی وہ جارح مزاجی اور جرات مندی دکھائی دی جو آسٹریلیا کا خاصہ رہی ہے۔ پھر تو نتیجہ انگلستان کی جیت کی صورت ہی میں نکلنا چاہیے، جس نے این بیل کی بیٹنگ اور بعد ازاں جیمز اینڈرسن اور کی عمدہ باؤلنگ کی بدولت با آسانی 48 رنز سے مقابلہ جیتا۔

ٹم بریسنن نے اسٹیون فن کی جگہ اپنا انتخاب درست کر دکھایا (تصویر: ICC)

ٹم بریسنن نے اسٹیون فن کی جگہ اپنا انتخاب درست کر دکھایا (تصویر: ICC)

دفاعی چیمپئن کی تیاری اور کارکردگی کی قلعی تو ہندوستان نے وارم اپ میچ ہی میں کھول دی تھی لیکن مین ایونٹ میں وہ اس بری طرح آشکار ہوگا، اس کا اندازہ بہت کم افراد کو تھا۔ دوسری جانب انگلستان نیوزی لینڈ کے خلاف حالیہ سیریز شکست کے صدمے سے باہر نکلتا ہوا دکھائی دیا اور آسٹریلیا کے خلاف مقابلے میں بیشتر اوقات مکمل طور پر حاوی رہا۔

انگلستان کا آغاز ہی بہت عمدہ تھا۔ ٹاس بھی جیتا اور بلے بازوں کے لیے سازگار وکٹ کو دیکھتے ہوئےبیٹنگ کاانتخاب بھی کیا۔پھر ابتدائی 35 اوورز تک آسٹریلیا کے باؤلرز کو نہ چلنے دیا۔ پانچ رکنی پیس اٹیک کے باوجود آسٹریلیا کے لیے ممکن ہی نہیں ہوا کہ وہ رنز بنانے کی رفتار کو بھی روکے اور وکٹیں بھی لے۔ کم از کم 34 ویں اوور تک تو وہ ترستے ہی رہے جب انگلستان کا اسکور 168 رنز ایک کھلاڑی آؤٹ تھا۔ اوپنرز کی 57 رنز کی شراکت داری کے بعد جوناتھن ٹراٹ اور این بیل کے درمیان 111 رنز کی رفاقت نے ٹیم کو زبردست پلیٹ فارم مہیا کیا کہ وہ آخری پاور پلے اور حتمی اوورز کا فائدہ اٹھاتے ہوئے 300 سے کہیں زیادہ رنز اسکور کرے۔ لیکن اس موقع پر آسٹریلیا نے واپسی کی۔ واحد موقع جب روایتی حریف کے خلاف اس کی کارکردگی کچھ بہتر رہی۔ ٹراٹ 43 رنز بنانے کے بعد پویلین لوٹے تو کچھ ہی دیر میں این بیل، جو روٹ، ایون مورگن اور جوس بٹلر کی وکٹیں بھی گر گئیں یعنی 'جن پہ تکیہ تھا' وہ سب میدان سے واپس آ گئے اور اسکور بورڈ پر صرف 213 رنز۔ ان میں سے بیل سب سے زیادہ بدقسمت سے اپنی سنچری مکمل نہ کر سکے اور ان کی اننگز 91 رنز پر تمام ہوئی۔ جبکہ روٹ 12، مورگن 8 اور بٹلر صرف 1 رن بنا سکے۔ اس مقام پر روی بوپارا نے 37 گیندوں پر 46 رنز کی کارآمد اننگز کھیلی جبکہ بریسنن نے 19 رنز کے ساتھ ان کا بھرپور ساتھ دیا لیکن انگلستان، جو باآسانی 300 کا ہندسہ عبور کر سکتا تھا، کو 269 رنز پر اکتفا کرنا پڑا۔

آسٹریلیا کی جانب سے کلنٹ میک کے اور جیمز فاکنر نے 2، 2 وکٹیں حاصل کیں جبکہ ایک، ایک وکٹ مچل اسٹارک اور شین واٹسن کو بھی ملی۔

بظاہر ایسا لگتا تھا کہ انگلستان اس مجموعے سے 50 رنز پیچھے ہے، جو اسے حاصل کرنا چاہیے تھا اور چند ماہرین کی نظر میں مڈل آرڈر کی ناکامی میچ میں شکست کا سبب بھی بن سکتی تھی لیکن جناب، سامنے بھی انگلش باؤلرز تھے، کمال کی باؤلنگ کی، اور آسٹریلیا کی غلطیوں کا بھی خوب فائدہ اٹھایا۔ جس کے بلے باز مکمل طور پر اپنے خول میں بند رہے اور ان کے اندر ارادے اور جرات مفقود نظر آئی۔

انگلستان نے عالمی نمبر تین باؤلر اسٹیون فن کو باہر بٹھانے کا عجیب و غریب فیصلہ کیا تھا اور ان کی جگہ ٹم بریسنن کو شامل کیا۔ لیکن ٹم نے آخری لمحات میں بوپارا کے ساتھ 56 رنز کی شراکت داری کرنے اور پھر دو وکٹیں لینے سے ثابت کیا کہ ان کا انتخاب درست فیصلہ تھا۔ انہوں نے شین واٹسن کی قیمتی ترین وکٹ بھی حاصل کی۔

آسٹریلیا کی بیٹنگ کی کہانی کچھ اس تصویر سے عیاں ہے، کلین بولڈ!!! (تصویر: Getty Images)

آسٹریلیا کی بیٹنگ کی کہانی کچھ اس تصویر سے عیاں ہے، کلین بولڈ!!! (تصویر: Getty Images)

بہرحال، آسٹریلیا کو جس آغاز کی ضرورت تھی، وہ بلے باز مہیا نہ کر سکے۔ آؤٹ آف فارم ڈیوڈ وارنر وکٹ کیپر جوس بٹلر کے ایک خوبصورت کیچ کا نشانہ بن گئے۔ 21 گیندوں پر صرف 9 رنز بنانے کے بعد وہ اسٹورٹ براڈ کی وکٹ بنے۔ ان کے جانے کے بعد رنز بنانے کی رہی سہی رفتار بھی رک گئی۔ شین واٹسن کو ضرورت تھی کہ وہ جم کر انگلش باؤلرز کا مقابلہ کرتے اور آسٹریلیا کے محفوظ مقام پر پہنچاتے لیکن ایسا کرنا نہ ان کے بس کی بات تھی اور نہ کسی اور بلے باز کا ارادہ نظر آیا۔ جارج بیلی کے 55 رنز میں صرف دو چوکے تھے اور وہ بھی 69 گیندوں پر۔ درکار رن اوسط چھ سے سات، سات سے آٹھ اور اس سے آگے بڑھتا بڑھتا دس کو چھو گیا لیکن حکمت عملی میں چنداں کوئی تبدیلی واقع نہیں ہوئی۔ اس کا نتیجہ بالآخر کیا نکلنا تھا، یہی کہ ٹیم بری طرح ہار جائے۔ آخری لمحات میں فاکنر نے 42 گیندوں پر 54 رنز بنا کر شکست کے مارجن کو کچھ کم کیا اور مقررہ 50 اوورز کے اختتام پر آسٹریلیا 9 وکٹوں کے نقصان پر 221 تک ہی پہنچ پایا۔

انگلستان کی جانب سے جمی اینڈرسن نے بہت شاندار باؤلنگ کی۔ 10 اوورز میں صرف 30 رنز دیے اور 3کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔ اس دوران وہ انگلستان کی جانب سے سب سے زیادہ ون ڈے وکٹیں لینے والے باؤلر بھی بنے۔ دو وکٹیں ٹم بریسنن کو ملیں جبکہ ایک، ایک وکٹ اسٹورٹ براڈ، روی بوپارا، جو روٹ اور جیمز ٹریڈویل نے حاصل کی۔

اب انگلستان گروپ 'اے' میں سرفہرست ہے جس کا اگلا مقابلہ کل یعنی اتوار کو نیوزی لینڈ اور سری لنکاکے درمیان کھیلا جائے گا۔

انگلستان بمقابلہ آسٹریلیا

چیمپئنز ٹرافی 2013ء، تیسرا مقابلہ

8 جون 2013ء

بمقام: ایجبسٹن، برمنگھم

نتیجہ: انگلستان 48 رنز سے کامیاب

میچ کے بہترین کھلاڑی: این بیل

انگلستان رنز گیندیں چوکے چھکے
ایلسٹر کک ک ویڈ ب واٹسن 30 42 3 0
این بیل ب فاکنر 91 115 7 0
جوناتھن ٹراٹ ک ویڈ ب اسٹارک 43 56 1 0
جو روٹ ک بیلی ب میک کے 12 17 1 0
ایون مورگن ب میک کے 8 12 0 0
روی بوپارا ناٹ آؤٹ 46 37 3 1
جوس بٹلر ب فاکنر 1 2 0 0
ٹم بریسنن ناٹ آؤٹ 19 20 2 0
فاضل رنز ل ب 12، و 6، ن ب 1 19
مجموعہ 50 اوورز میں 6 وکٹوں کے نقصان پر 269

 

آسٹریلیا (گیند بازی) اوورز میڈن رنز وکٹیں
مچل اسٹارک 10 0 75 1
مچل جانسن 8 0 44 0
کلنٹ میک کے 10 0 38 2
شین واٹسن 7 0 26 1
جیمز فاکنر 10 0 48 2
ایڈم ووجس 3 0 13 0
مچل مارش 2 0 13 0

 

آسٹریلیاہدف: 270 رنز رنز گیندیں چوکے چھکے
ڈیوڈ وارنر ک بٹلر ب براڈ 9 21 1 0
شین واٹسن ک کک ب بریسنن 24 40 1 0
فلپ ہیوز ایل بی ڈبلیو ب روٹ 30 55 3 0
جارج بیلی ک روٹ بر ٹریڈویل 55 69 2 0
ایڈم ووجس ب بریسنن 15 23 1 0
مچل مارش ک مورگن ب اینڈرسن 5 12 1 0
میتھیو ویڈ ک بٹلر ب اینڈرسن 1 4 0 0
جیمز فاکنر ناٹ آؤٹ 54 42 5 1
مچل جانسن ک مورگن ب بوپارا 8 10 0 0
مچل اسٹارک ب اینڈرسن 5 8 0 0
کلنٹ میک کے ناٹ آؤٹ 7 17 0 0
فاضل رنز ل ب 6، و 1، ن ب 1 8
مجموعہ 50 اوورز میں 9 وکٹوں کے نقصان پر 221

 

انگلستان (گیند بازی) اوورز میڈن رنز وکٹیں
جیمز اینڈرسن 10 0 30 3
اسٹورٹ براڈ 10 2 35 1
ٹم بریسنن 10 1 45 2
جیمز ٹریڈویل 10 1 51 1
جو روٹ 5 0 20 1
روی بوپارا 5 0 34 1

Facebook Comments