آج خود کو کرکٹر کہلواتے ہوئے شرم آتی ہے: سید کرمانی

بھارتی ٹیم تو توقعات کے برخلاف انگلش سرزمین پر فتوحات کے جھنڈے گاڑ رہی ہے، لیکن ادھر ہندوستان میں ہنگامہ برپا ہے۔ انڈین پریمیئر لیگ میں سٹے بازی کے تنازع، کھلاڑیوں اور عہدیداران کی گرفتاری اور روزانہ نئے ناموں کی شمولیت نے کہرام مچایا ہوا ہے۔ کرکٹ سے وابستہ بیشتر افراد تو منہ میں گھنگھنیاں ڈالے بیٹھے ہیں لیکن سابق وکٹ کیپر سید کرمانی پھٹ پڑے ہیں۔

سید کرمانی ملوث کھلاڑیوں کے لیے قید بامشقت، جرمانوں اور تاحیات پابندیوں کے حامی ہیں (تصویر: Getty Images)

سید کرمانی ملوث کھلاڑیوں کے لیے قید بامشقت، جرمانوں اور تاحیات پابندیوں کے حامی ہیں (تصویر: Getty Images)

معروف بھارتی روزنامے ٹائمز آف انڈیا کے مطابق اپنے ایک حالیہ انٹرویو میں انہوں نے یہ تک کہہ ڈالا ہے کہ انہیں اب خود کو کرکٹر کہلواتے ہوئے بھی شرم آرہی ہے۔

1983ء کے عالمی کپ فاتح بھارتی دستے کا حصہ رہنے والے سید کرمانی کا کہنا ہے کہ میچزپر شرطیں لگانا عام ہے، میدان میں بھی اور میدان سے باہر بھی، کرنے کا کام یہ ہے کہ کھلاڑیوں کو پابند بنایا جائے، ان کے لیے سخت قوانین مرتب کیے جائیں تاکہ وہ اس جانب رخ کرنے کا تصور بھی نہ کر سکیں۔ میری ذاتی رائے میں ایسا قانون ضروری ہے جس کے نتیجے میں کھلاڑیوں میں خوف پیدا ہو اور ملوث کھلاڑیوں 12 سال قید بامشقت، جرمانہ اور تاحیات پابندی کی سزائیں کھیل کو شفاف بنانے کے لیے کافی ہوں گی۔

سید کرمانی نے 88 ٹیسٹ اور 49 ایک روزہ بین الاقوامی مقابلوں میں بھارت کی نمائندگی کی اور دور جدید کے کھلاڑیوں کے بارے میں ان کا کہنا ہے کہ سری سانتھ جیسے نوجوان کھلاڑی چند ٹکوں کی خاطر ایسے اقدامات اس لیے اٹھاتے ہیں کیونکہ وہ لالچی ہیں۔ حرص و طمع اس قدر بڑھ گئی ہے کہ لوگ کچھ بھی کرنے کو تیار ہیں۔ آپ بھارت میں زندگی کے کسی بھی شعبے کو اٹھا کر دیکھ لیں، ایمانداری و شرافت گزرے زمانے کی باتیں ہو چکیں، ہر طرح بدعنوانی و بے ایمانی کا راج ہے۔

سید کرمانی نے کہا کہ ان واقعات نے مجھے اتنا شرمسار کیا ہےکہ آج مجھے خود کو کرکٹر کہلواتے ہوئے بھی شرم محسوس ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں سمجھتا ہو ں کہ آئی پی ایل ایک طرح کا سرکس ہے لیکن اس کا مکمل طور پر روک دینا، بند کر دینا مسئلے کا حال نہیں ہے، اس درست انداز میں چلانے کی ضرورت ہے۔

دنیا کی سب سے بڑی لیگ اس وقت ایک بڑے تنازع کا شکار ہوگئی، جب گزشتہ ماہ کے وسط میں پولیس نے سٹے بازی کے الزام میں راجستھان رائلز کے تین کھلاڑیوں کو گرفتار کیا۔ بعد ازاں معاملے کی تفتیش کے دوران ایک کے بعد دوسرا بڑا نام سامنے آتا گیا یہاں تک کہ خود بورڈ کے سربراہ این شری نواسن کے داماد اور چنئی سپر کنگز کے مالک گروناتھ مے یپن بھی گرفتار ہوگئے۔ اب جبکہ اس معاملے کی تحقیقات جاری ہیں، بیشتر سابق کرکٹرز یا تو خاموش ہیں یا کھل کر رائے کا اظہار نہیں کر رہے، جو بذات خود ایک حیران کن امر ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ تحقیقات کس طرح اختتام پر پہنچتی ہیں؟ "پردہ اٹھنے کی منتظر ہے نگاہ!"

Facebook Comments