جنوبی افریقہ نے ویسٹ انڈیز، بارش اور بدقسمتی سب کو زیر کر لیا

1992ء کے عالمی کپ میں بارش، 1996ء میں ویسٹ انڈیز کے ہاتھوں کوارٹر فائنل میں شکست، 1999ء میں سیمی فائنل ٹائی اور ٹورنامنٹ سے باہر، 2003ء میں ڈک ورتھ لوئس کی وجہ سے مقابلہ ٹائی اور شکست، ان تمام مقابلوں کو دیکھتے ہوئے کہا جا سکتا ہے کہ جنوبی افریقہ نے آج سب کو شکست دی ہے۔ صوفیہ گارڈنز، کارڈف میں ویسٹ انڈیز کے خلاف "کوارٹر فائنل نما" مقابلے میں یہ سب شامل تھا اور پھر آخر میں نتیجہ اس طرح نکلا کہ خود جنوبی افریقہ کو بھی یقین نہیں آیا ہوگا۔

صرف ایک گیند نے ویسٹ انڈیز کو ٹورنامنٹ سے باہر کر دیا، میچ کی آخری گیند پر کیرون پولارڈ کا آؤٹ ہونا (تصویر: ICC)

صرف ایک گیند نے ویسٹ انڈیز کو ٹورنامنٹ سے باہر کر دیا، میچ کی آخری گیند پر کیرون پولارڈ کا آؤٹ ہونا (تصویر: ICC)

بارش کے باعث 31 اوورز فی اننگز تک محدود کیا گیا مقابلہ ویسٹ انڈیز کی مکمل گرفت میں تھا۔ 26 اوورز کے اختتام پر ڈک ورتھ لوئس طریقے کے تحت ویسٹ انڈیز کو 5 وکٹوں کے نقصان پر 187 رنز درکار تھے، جبکہ وہ 190 رنز پر کھڑا تھا۔ لیکن 27 ویں اوور کی پہلی گیند اور اس پر کیرون پولارڈ کا شاٹ اور ڈیل اسٹین کا کیچ، چند سیکنڈز کی اس کارروائی نے پورا منظرنامہ بدل کر رکھ دیا۔ نئے کھلاڑی ڈیرن سیمی میدان میں داخل ہوئے اور پچ پر پہنچے ہی تھے کہ میدان کو ایک مرتبہ پھر بارش نے آ لیا اور یوں ڈک ورتھ لوئس طریقے کے تحت ویسٹ انڈیز اسی اسکور پر کھڑارہ گیا، جو مقابلہ جیتنے کے لیے کافی نہ تھا یعنی 190 رنز 6 کھلاڑی آؤٹ۔ میچ دوبارہ شروع نہ ہو سکا اور اسے ٹائی قرار دیا گیا اور بہتر رن ریٹ کی بنیاد پر جنوبی افریقہ سیمی فائنل میں پہنچ گیا اور ویسٹ انڈیزمارلون سیموئلز، کرس گیل، ڈیوون اسمتھ اور خود کیرون پولارڈ کی جان توڑ کوشش کے باوجود 'فائنل فور' تک نہ پہنچ پایا۔

گروپ 'بی' میں دونوں ٹیمیں پاکستان کے خلاف جیت اور بھارت سے شکست کھانے کے بعد مکمل طور پر اسی مقابلے پر انحصار کر رہی تھیں اور کارڈف میں بارش نے انہیں اچھا خاصا دہلا دیا خصوصاً ویسٹ انڈیز کو، کیونکہ اس کا رن ریٹ جنوبی افریقہ سے کم تھا، اور اگر مقابلہ مکمل طور پر بارش کی نذر ہوجاتا تو اس کی قیمت ویسٹ انڈیز ہی کو بھگتنا پڑتی۔ بہرحال، کئی کوششوں کے بعد بالآخر 31 اوورز فی اننگز کا مقابلہ شروع ہوا۔ ویسٹ انڈیز نے ٹاس جیت کے جنوبی افریقہ کو بلے بازی کی دعوت دی جس نے مختصر میچ کو ذہن میں رکھتے ہوئے ویسٹ انڈین باؤلرز کو ابتداء ہی سے آڑے ہاتھوں لیا۔

اوپنرز ہاشم آملہ اور کولن انگرام کے درمیان محض 12 اوورز میں 80 رنز کی رفاقت نے ایک مضبوط پلیٹ فارم مہیا کیا۔ انگرام کی 63 گیندوں پر 73 رنز کی اننگز بلاشبہ دن کی سب سے بہترین اننگز تھی، شاید اس لیے بھی کہ وہ فاتحانہ اننگز ثابت ہوئی۔ انگرام کے علاوہ ڈیوڈ ملر نے 29 گیندوں پر 38، ابراہم ڈی ولیئرز نے 26 گیندوں پر 37 اور فف دو پلیسی نے 32 گیندوں پر35 رنز بنائے۔ یہی وجہ ہے کہ محض 31 اوور میں جنوبی افریقہ نے 230 رنز کا بھاری مجموعہ اکٹھا کیا۔

جنوبی افریقہ کی باؤلنگ لائن، جسے آج اپنے مرکزی گیندباز ڈیل اسٹین کی خدمات بھی حاصل تھیں، کو دیکھتے ہوئے مشکل لگتا تھا کہ ویسٹ انڈیز اس بڑے مجموعے تک پہنچ پائے لیکن 100 رنز سے پہلے پہلے تین کھلاڑیوں سے محروم ہونے کے باوجود ویسٹ انڈیز مقابلے سے ایک لمحے کے لیے باہر نہیں ہوا۔

جب درکار رن اوسط 8 اور 9 کے درمیان تھا تو مارلون سیموئلز اور کیرون پولارڈ نے حتمی وار کیے۔ سیموئلز نے پہلے راین میک لارن کو ایک چھکا اور دو چوکے رسید کر کے 16 رنز لیے اور پھر رابن پیٹرسن سے 17 رنز سمیٹ کر اسکور کو تیزی سے 147 تک پہنچا دیا۔ ڈیل اسٹین کے ایک عمدہ اوور کے بعد بقیہ 10 اوورز میں 84 رنز کی ضرورت رہ گئی اور اس مقام پر جہاں سیموئلز تمام باؤلرز پر چھائے ہوئے تھے ڈیل اسٹین نے فیصلہ کن ضرب لگائی۔ مڈل اسٹمپ پر پڑنے والی یارکر کو وکٹوں سے ہٹ کر کھیلنے کی کوشش سیموئلز کی اننگز کے خاتمے کا سبب بنی۔ ان کے 38 گیندوں پر بنائے گئے 48 رنز ہی تھے، جنہوں نے ویسٹ انڈیز کی امیدوں کو دم نہ توڑنے دیا۔ پھر پولارڈ کے ساتھ انہوں نے 33 گیندوں پر 58 رنز کی جو شراکت داری قائم کی، اس نے تو گویا ویسٹ انڈیز کو فتح کے قریب لا کھڑا کر دیا۔

کپتان ڈیوین براوو نے پولارڈ کا ساتھ دیا اور جب 26 اوورز مکمل ہوئے تو ڈک ورتھ لوئس پار طریق کار کے تحت ویسٹ انڈیز کا فاتحانہ اسکور پانچ وکٹوں پر 187 رنز ہونا چاہیے تھا اور ویسٹ انڈیز اس سے تین رنز آگے بھی تھا لیکن 27 ویں اوور کی پہلی گیند جو راین میک لارن نے پھینکی، پر گیند کو میدان بدر کرنے کی کوشش میں پولارڈ تھرڈمین پر ڈیل اسٹین کو کیچ دے بیٹھے۔ اب ڈی/ایل پار اسکور 191 رنز 6 کھلاڑی آؤٹ تھا اور یہيں پر بارش نے ایک مرتبہ پھر برسنا شروع کر دیا۔ ویسٹ انڈیز ہدف سے 1 رن پیچھے تھا۔ کچھ دیر بعد مقابلہ ٹائی اور نیٹ رن ریٹ پر جنوبی افریقہ سیمی فائنل کا حقدار قرار پایا۔ یعنی اگر بارش ایک گیند، صرف ایک گیند ، پہلے ہو جاتی تو نتیجہ بالکل الٹ ہوتا اور فاتح ویسٹ انڈیز قرار پاتا۔

بہرحال، کولن انگرام کو شاندار بلے بازی پر میچ کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا۔

اب جنوبی افریقہ 19 جون کو اوول میں ہونے والے سیمی فائنل میں شرکت کرے گا، جہاں اس کا مقابلہ گروپ 'اے' میں سب سے زیادہ پوائنٹس حاصل کرنے والی ٹیم سے ہوگا جبکہ اس فتح کے ساتھ گروپ 'بی' میں بھارت کی سرفہرست پوزیشن بھی یقینی ہو گئی یعنی کہ وہ 20 جون کو کارڈف میں ہونے والے دوسرے سیمی فائنل میں گروپ 'اے' میں دوسرے نمبر پر آنے والی ٹیم سے کھیلے گا۔

ویسٹ انڈیز پاکستان کے بعد ٹورنامنٹ سے باہر ہونے والی دوسری ٹیم ہے، جبکہ کل یعنی ہفتے کو برمنگھم میں ہونے والا پاک-بھارت مقابلہ ٹورنامنٹ کے نتائج پر کوئی اثر نہیں ڈالے گا لیکن 16 اور 17 جون کو گروپ 'اے' کے دونوں مقابلے کوارٹر فائنل کی حیثیت رکھتے ہیں جہاں انگلستان-نیوزی لینڈ اور آسٹریلیا-سری لنکا مدمقابل ہوں گے۔

جنوبی افریقہ بمقابلہ ویسٹ انڈیز

چیمپئنز ٹرافی 2013ء، نواں مقابلہ

14 جون 2013ء

بمقام: صوفیہ گارڈنز، کارڈف

نتیجہ: مقابلہ ٹائی

(جنوبی افریقہ بہتر رن ریٹ کی بنیاد پر سیمی فائنل میں پہنچ گیا)

میچ کے بہترین کھلاڑی: کولن انگرام

جنوبی افریقہ رنز گیندیں چوکے چھکے
کولن انگرام ک ڈیرن براوو ب پولارڈ 73 63 6 2
ہاشم آملہ ک گیل ب سیموئلز 23 27 2 0
ابراہم ڈی ولیئرز ک ڈیرن براوو ب رامپال 37 26 2 1
ژاں-پال دومنی ک چارلس ب ڈیوین براوو 2 5 0 0
فرانکو دو پلیسی رن آؤٹ 35 32 3 1
ڈیوڈ ملر ک سیمی ب ڈیوین براوو 38 29 1 3
راین میک لارن ناٹ آؤٹ 7 4 0 1
رابن پیٹرسن ناٹ آؤٹ 0 0 0 0
فاضل رنز ب 2، ل ب 4، و 9 15
مجموعہ 31 اوورز میں 6 وکٹوں کے نقصان پر 230

 

ویسٹ انڈیز (گیند بازی) اوورز میڈن رنز وکٹیں
روی رامپال 6 0 37 1
ٹینو بیسٹ 5 0 35 0
سنیل نرائن 7 0 47 0
ڈیرن سیمی 2 0 18 0
ڈیوین براوو 5 0 43 2
مارلون سیموئلز 2 0 14 1
کیرون پولارڈ 4 0 30 1

 

ویسٹ انڈیزہدف: 191 رنز، 26.1 اوورز میں رنز گیندیں چوکے چھکے
کرس گیل ک دو پلیسی ب مورس 36 27 5 1
جانسن چارلس ک ڈی ولیئرز ب اسٹین 16 26 2 0
ڈیوون اسمتھ ایل بی ڈبلیو ب پیٹرسن 30 29 4 0
مارلون سیموئلز ب اسٹین 48 38 6 2
ڈیرن براوو رن آؤٹ 12 7 2 0
کیرون پولارڈ ک اسٹین ب میک لارن 28 23 5 0
ڈیوین براوو ناٹ آؤٹ 8 7 1 0
ڈیرن سیمی ناٹ آؤٹ 0 0 0 0
فاضل رنز ل ب 5، و 7 12
مجموعہ 26.1 اوورز میں 6 وکٹوں کے نقصان پر 190

 

جنوبی افریقہ (گیند بازی) اوورز میڈن رنز وکٹیں
ژاں-پال دومنی 3 0 29 0
لونوابو سوٹسوبے 6 0 37 0
ڈیل اسٹین 6 0 33 2
کرس مورس 4 0 30 1
رابن پیٹرسن 4 0 22 1
راین میک لارن 3.1 0 34 1

Facebook Comments