پاکستان ناکام و نامراد، بھارت کامیاب و کامران!

بھارت نے پاکستان کو 8 وکٹوں سے شکست دے کر ثابت کر دیا کہ اس مرتبہ چیمپئنز ٹرافی کی حقدار اگر کوئی ٹیم ہے تو وہ اسی کی ہے، کیونکہ ٹورنامنٹ میں اب تک ناقابل شکست ہے جبکہ دوسری جانب پاکستان کے لیے ٹورنامنٹ بھیانک خواب ثابت ہوا۔ روایتی حریف کے ہاتھوں بھاری بھرکم شکست سے قبل وہ دونوں گروپ میچز میں ویسٹ انڈیز اور جنوبی افریقہ سے بری طرح شکست کھا گیا اور یوں ٹورنامنٹ کی واحد ٹیم رہا جسے ایک میچ بھی جیتنے کی توفیق نہیں ہوئی یعنی کہ آٹھ ٹیموں میں آٹھواں نمبر۔

بھارت کی صرف باؤلنگ اور بیٹنگ ہی نہیں بلکہ فیلڈنگ بھی بہت شاندار رہی، جیسا کہ ویراٹ کوہلی کا یہ کیچ (تصویر: AFP)

بھارت کی صرف باؤلنگ اور بیٹنگ ہی نہیں بلکہ فیلڈنگ بھی بہت شاندار رہی، جیسا کہ ویراٹ کوہلی کا یہ کیچ (تصویر: AFP)

پاک-بھارت مقابلے کا مزا تو ویسے ہی خراب ہو چکا تھا، کیونکہ اس مقابلے کا نتیجہ ٹورنامنٹ پر کوئی فرق نہ ڈالتا لیکن جو کسر رہ گئی تھی وہ برمنگھم میں بارش کی آنکھ مچولی نے پوری کر دی۔ کئی مرتبہ بارش سے متاثر ہونے کا نتیجہ یہ نکلا کہ پاکستان کی اننگز 40 اوورز تک محدود رہی جبکہ بھارت کا ہدف بارہا کم ہو کر بالآخر 22 اوورز میں 102 رنز قرار پایا جو اس نے با آسانی ایک وکٹ کے نقصان پر پورا کر کے پاکستان کے تابوت میں آخری کیل ٹھونک دی۔

پاکستانی اننگز ٹورنامنٹ میں کھیلی گئی گزشتہ تمام باریوں ہی کا تسلسل تھی، ٹاپ آرڈر کی ناکامی، مڈل آرڈر میں صرف ایک شراکت داری اور بعد ازاں پوری ٹیم کا توقع سے کہیں کم مجموعے پر ڈھیر ہو جانا۔ ٹاس جیتنے والے بھارت کی جانب سے بلے بازی کی دعوت ملنے کے بعد پاکستان نے کامران اکمل اور ناصر جمشید کو اوپنر کی حیثیت سے میدان میں اتارا۔

ناصر جمشید، جو بھارت کے خلاف بہت اچھا ریکارڈ بھی رکھتے ہیں اور جاری ٹورنامنٹ میں بھی اچھی خاصی بیٹنگ کرتے نظر آ رہے تھے، ابتداء ہی میں امپائر کی جانب سے ایل بی ڈبلیو قرار دیے گئے۔ فیصلے سے عدم اتفاق کرتے ہوئے انہوں نے ریویو لینے کا فیصلہ کیا اور تیسرے امپائر نے ناصر جمشید کے حق میں فیصلہ دے دیا۔ انہیں اس زندگی کا فائدہ اٹھانا چاہیے تھا لیکن وہ بالکل ناکام رہے اور بھوونیشور کمار کی گیند پر سلپ میں کیچ دے کر پاکستان کو ابتداء ہی سے مشکل حالت سے دوچار کر گئے۔ صرف 4 رنز پر پہلی وکٹ گرنے کے بعد کچھ دیر کے لیے اسکوربورڈ حرکت میں نہیں رہالیکن جب حفیظ نے امیش یادیو کو پے در پے چوکے لگائے تو گویا برف پگھلنے لگی۔ پاکستان نے 50 رنز 12 ویں اوور میں مکمل کیے اور میدان کو بارش نے آ لیا۔ اس کا نقصان صرف پاکستان کو ہی ہوا کیونکہ کچھ دیر بعد جیسے ہی کھیل شروع ہوا پہلی ہی گیند پر محمد حفیظ آؤٹ ہو گئے۔ بھوونیشور کی گیند پر دھونی نے وکٹوں کے پیچھے ان کا شاندار کیچ لیا۔ اگلے ہی اوور میں روی چندر آشون نے کامران اکمل کو آؤٹ کر دیا۔ گیند کامران کے بلے کا اندرونی کنارہ لیتی ہوئی وکٹ کیپر دھونی کے پیڈ سے لگ کر اچھلی اور لیگ سلپ پر کھڑے ویراٹ کوہلی نے پھرتی سے کیچ تھام لیا۔اس مقام پر ایک مرتبہ پھر بارش ہو گئی یعنی کہ بارش کے درمیان مختصر سے کھیل میں پاکستان دو سیٹ بلے باز کھوچکا تھا۔ حفیظ 27 اور کامران 21 رن بنا کر آؤٹ ہوئے۔

تقریباً پونے تین گھنٹے تک کھیل رکے رہنے کے بعد جب شروع ہوا پاکستان کو مصباح الحق اور اسد شفیق کی سخت ضرورت تھی۔ دونوں بہت اچھے موڈ میں بھی نظر آ رہے تھے۔ اسکور بھی 110 رنز تک پہنچ چکا اور ٹورنامنٹ میں بہت عمدہ باؤلنگ کرنے والے رویندر جدیجا نے نقشہ پلٹ دیا۔ جس گیند پر مصباح الحق آؤٹ ہوئے، یہ سمجھ نہیں آیا کہ وہ کھیلنا کیا چاہتے تھے۔ وکٹوں سے ہٹے اور پھر سامنے آتے ہوئے گیند کو روکنے کی کوشش کی، نتیجہ یہ نکلا کہ گیند پیڈ اور بلے کے درمیان سے ہوتی ہوئی لیگ اسٹمپ کو جا لگی۔ مصباح کی اننگز 22 رنز پر تمام ہوئی اور پاکستان کے ہاتھوں سے مقابلہ آہستہ آہستہ نکلنے لگا۔ کچھ ہی دیر بعد ایشانت شرما کی گیند پر مہندر سنگھ دھونی نے دائیں جانب جست لگا کر ایک اور خوبصورت کیچ تھاما اور اسد شفیق کے خلاف ایک بھرپور اپیل کی۔ امپائر نے انہیں ناٹ آؤٹ قرار دیا لیکن ریویو لینے پر معلوم ہوا کہ گیند ان کے بلے کا کنارہ لیتے ہوئے وکٹوں کے پیچھے گئی تھی۔ پاکستان کی آدھی ٹیم صرف 131 رنز پر میدان بدر ہو چکی تھی۔

آنے والے بلے بازوں میں شعیب ملک کرکٹ میں ہاکی کھیلتے ہوئے ایل بی ڈبلیو ہوئے جبکہ وہاب ریاض آشون کی گیند پر بولڈ ہو گئے۔ ایک اینڈ سے عمر امین نے 26 گیندوں پر 27 رنز ضرور بنائے لیکن دوسرے اینڈ سے وکٹیں گرتی گئیں اور آخری یعنی 40 ویں اوور میں محمد عرفان کے رن آؤٹ کے ساتھ پاکستانی اننگز 165 رنز پر تمام ہوئی۔

یوں پاکستان کی بلے بازی میں کارکردگی میں کوئی فرق نہ نظر آیا، یعنی کہ اس ٹورنامنٹ میں اس نے پہلی بار تسلسل کے ساتھ کارکردگی دکھائی۔ دوسری جانب بھارت نے باؤلنگ بھی بہت عمدہ کی اور فیلڈنگ بھی بہت شاندار کی۔

بھوونیشور کمار، ایشانت شرما، روی چندر آشون اور رویندر جدیجا سب نے دو، دو وکٹیں حاصل کیں۔ بھوونیشور نے اپنے 8 اوورز میں صرف 19 رنز دیے جبکہ آشون اور جدیجا نے اتنے ہی اوورز میں بالترتیب 35 اور 30 رنز ہی لینے دیے۔

بھارت کو 40 اوورز میں 168 رنز کا ہدف ملا جو بارہا بارش کے با‏عث کم ہوتا ہوتا 22 اوورز میں 102 رنز ہی رہ گیا اور بھارت نے 20 ویں اوور کی پہلی گیند پر ہی مکمل کر لیا۔

اوپنرز روہیت شرما اور ان فارم شیکھر دھاون نے 58 رنز کا بھرپور آغاز فراہم کیا۔ روہیت نے کچھ سست کھیل کا مظاہرہ کیا لیکن شیکھر نے حریف گیند بازوں پر حاوی رہنے کی بھرپور کوشش کی اور اس میں کافی حد تک کامیاب بھی رہے۔ روہیت 32 گیندوں پر 18 رنز بنانے کے بعد سعید اجمل کی وکٹ بنے۔جبکہ شیکھر دھاون 41 گیندوں پر 48 رنز بنانے کے بعد اس وقت آؤٹ ہوئے جب بھارت فتح سے 24 رنز کے فاصلے پر تھا۔ وہاب ریاض کی دو گیندوں پر چوکے حاصل کرنے کے بعد وہ ایک اور مرتبہ گیند کو باؤنڈری کی راہ دکھانے چاہتے تھے لیکن اٹھتی ہوئی گیند پر ان کا بلّا نہ چلا اور گیند سیدھا تھرڈمین پر ناصر جمشید کے ہاتھوں میں چلی گئی۔ ویراٹ کوہلی نے ناقابل شکست 22 رنز بنائے۔

پاکستان کی جانب سے صرف سعید اجمل اور وہاب ریاض ہی وکٹیں لینے والے باؤلر رہے۔ دونوں نے بالترتیب 29 اور 20 رنز دے کر ایک، ایک وکٹ حاصل کی۔

بھوونیشور کمار میچ کے بہترین کھلاڑی قرار پائے۔

یوں وہ مقابلہ جسے 'کرکٹ کی جنگ عظیم' اور 'مہا یدھ' کہا جارہا تھا، انتہائی یکطرفہ انداز میں اپنے اختتام کو پہنچا۔ بھارت ٹائٹل کی جانب قدم بڑھا گیا اور پاکستان کے سامنے کئی سوالات چھوڑ گیا۔ بلے بازوں کی بری طرح ناکامی، وہ بھی اس صورت میں کہ پاکستان نے ٹورنامنٹ کے لیے ایک غیر ملکی بیٹنگ کوچ مقرر کیا تھا، سب سے بڑا سوال تھی۔ باؤلنگ پاکستان کی مناسب رہی، ویسٹ انڈیز کے خلاف 170 رنز کے ہدف کے دفاع کے لیے جس طرح باؤلرز نے جان لڑائی، جنوبی افریقہ کو جیسے 234 رنز پر محدود کیا اور پھر بھارت کے خلاف بھی شیکھر دھاون اور دیگر بلے بازوں کو اس طرح غلبہ حاصل نہ کرنے دیا، جس طرح انہوں نے گزشتہ میچز میں کیا تھا، اچھی کارکردگی کو ظاہر کرنے کے لیے کافی تھا لیکن بلے بازوں نے ان کا چنداں ساتھ نہ دیا۔ مصباح الحق اور ناصر جمشید نے کچھ مزاحمت کی، لیکن اس کو بھی صرف مزاحمت ہی کہا جا سکتا ہے، بہترین اننگز نہیں۔ پورے ٹورنامنٹ میں پاکستانی ٹیم ایک مرتبہ بھی 200 رنز تک نہ بنا سکی۔ ویسٹ انڈیز کے خلاف 170 اور جنوبی افریقہ کے مقابلے میں 167 رنز پر ڈھیر ہوئی جبکہ بھارت کے خلاف 40 اوورز بھی پورے نہ کھیل سکا اور 165 رنز پر آل آؤٹ ہوا۔ تمام ہی میچز میں پاکستان کی پوری ٹیم آؤٹ ہوئی۔

اب پاکستان کل یعنی اتوار کو وطن واپسی کی پرواز پکڑے گا جبکہ بھارت 20 جون کو کارڈف میں ہونے والے سیمی فائنل کے لیے تیاریاں کرے گا جہاں اس کا مقابلہ گروپ 'اے' میں دوسرے نمبر پر آنے والی ٹیم سے ہوگا۔

بھارت بمقابلہ پاکستان

چیمپئنز ٹرافی 2013ء، دسواں مقابلہ

15 جون 2013ء

بمقام: ایجبسٹن، برمنگھم

نتیجہ: بھارت 8 وکٹوں سے کامیاب (ڈک ورتھ لوئس طریقے کے تحت)

میچ کے بہترین کھلاڑی: بھوونیشور کمار

پاکستان رنز گیندیں چوکے چھکے
ناصر جمشید ک رینا ب بھوونیشور 2 9 0 0
کامران اکمل ک کوہلی ب آشون 21 38 2 0
محمد حفیظ ک دھونی ب بھوونیشور 27 31 5 0
اسد شفیق ک دھونی ب ایشانت 41 57 3 0
مصباح الحق ب جدیجا 22 33 1 0
شعیب ملک ایل بی ڈبلیو ب جدیجا 17 23 2 0
عمر امین ناٹ آؤٹ 27 26 3 0
وہاب ریاض ب آشون 0 2 0 0
سعید اجمل ک روہیت ب شرما 5 16 0 0
جنید خان رن آؤٹ 0 1 0 0
محمد عرفان رن آؤٹ 0 2 0 0
فاضل رنز ل ب 1، و 2 3
مجموعہ 39.4 اوورز میں تمام وکٹوں کے نقصان پر 165

 

بھارت (گیند بازی) اوورز میڈن رنز وکٹیں
بھوونیشور کمار 8 2 19 2
امیش یادیو 6.4 0 29 0
ایشانت شرما 7 0 40 2
روی چندر آشون 8 0 35 2
ویراٹ کوہلی 2 0 11 0
رویندر جدیجا 8 1 30 2

 

بھارتہدف: 102 رنز (22 اوورز میں) رنز گیندیں چوکے چھکے
روہیت شرما ک مصباح ب اجمل 18 32 2 0
شیکھر دھاون ک ناصر ب وہاب 48 41 5 0
ویراٹ کوہلی ناٹ آؤٹ 22 27 3 0
دنیش کارتک ناٹ آؤٹ 11 15 1 0
فاضل رنز و 3 3
مجموعہ 19.1 اوورز میں 2 وکٹوں کے نقصان پر 102

 

پاکستان (گیند بازی) اوورز میڈن رنز وکٹیں
محمد عرفان 4 0 24 0
جنید خان 4 0 21 0
سعید اجمل 5 0 29 1
محمد حفیظ 2.1 0 8 0
وہاب ریاض 4 0 20 1

Facebook Comments