انگلستان بال ٹمپرنگ کے گھن چکر میں، اہم میچ سے قبل ہنگامہ برپا

انگلستان ایک جانب سری لنکا کے ہاتھوں شکست کے بعد چیمپئنز ٹرافی میں مشکلات سے دوچار ہے، تو دوسری طرف گزشتہ مقابلے میں امپائروں کی جانب سے گیند بدلنے کے معاملے پر اسرار کا پردہ بھی ٹیم پر دباؤ میں اضافہ کر رہا ہے۔ اک ایسے مرحلے پر کہ اسے نیوزی لینڈ کے خلاف کل ہونے والے مقابلے میں لازماً فتح درکار ہے، انگلستان کے سابق کپتان اور ماضی کے عظیم تیز باؤلر باب ولس کا یہ بیان 'گھر کا بھیدی لنکا ڈھائے' کے مترادف ہوگا کہ انگلش ٹیم دراصل گیند کے ساتھ چھیڑ چھاڑ یعنی بال ٹمپرنگ کر رہی تھی۔

امپائروں نے باضابطہ طور پر کوئی شکایت نہیں درج کرائی اس لیے اس حوالے سے کوئی قدم نہیں اٹھائیں گے: آئی سی سی (تصویر: Getty Images)

امپائروں نے باضابطہ طور پر کوئی شکایت نہیں درج کرائی اس لیے اس حوالے سے کوئی قدم نہیں اٹھائیں گے: آئی سی سی (تصویر: Getty Images)

معروف انگلش چینل اسکائی اسپورٹس پر تبصرہ کرتے ہوئے باب ولس نے کہا کہ جمعرات کو اوول میں جب سری لنکا ہدف کا تعاقب کر رہا تھا تو امپائروں نے گیند بدلی، اس کے سوا کوئی اور وجہ ہو ہی نہیں سکتی کہ گیند کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی گئی۔ باب ولس نے کہا کہ کبھی آپ نے دیکھا ہے کہ بیٹنگ کرنے والی ٹیم نے گیند کی صورت کے بارے میں شکایت کی اور امپائروں نے کہا کہ 'ٹھیک ہے جی،ابھی بدل دیتے ہیں گیند، کیونکہ اس کی صورت بگڑ چکی ہے۔'

دراصل مسئلہ تب کھڑا ہواجب امپائر علیم ڈار اور بلی باؤڈن نے سری لنکا کی بیٹنگ کے دوران 26 ویں اوور میں دو گیندوں میں سے ایک تبدیل کردی۔ جیسا کہ آپ کو معلوم ہوگا کہ نئے قوانین کے تحت دونوں اینڈز سے الگ، الگ گیند استعمال ہوتی ہے۔ یعنی کہ جو گیند تبدیل کی گئی وہ محض 12 اوورز استعمال شدہ تھی، اور صرف بارہویں اوور ہی میں وہ گیند ریورس سوئنگ ہونا شروع ہو گئی تھی۔ جس سوئنگ کو دنیا بھر کے باؤلرز پورے 50، 50 اوورز میں نہ ڈھونڈ پائے، انگلش باؤلرز کو صرف 12 اوورز استعمال شدہ گیند سے ملنے لگی۔

حیرتناک بات یہ ہے کہ گیند بدلنے کے معاملے پر نہ امپائروں کی جانب سے کوئی واضح بیان سامنے آیا ہے اور نہ کسی اور نے کچھ منہ سے پھوٹا ہے۔ سب ایک مجرمانہ خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں بلکہ آئی سی سی نے تو یہ کہہ ڈالا ہے کہ امپائروں نے باضابطہ طور پر کوئی شکایت نہیں درج کرائی اس لیے وہ اس حوالے سے کوئی قدم نہیں اٹھائے گا۔

ماضی میں پاکستان کو گیند کا حلیہ بگڑنے، یا مبینہ طور پر جان بوجھ کر بگاڑنے، کی بہت بھاری قیمت ادا کرنی پڑی تھی جب 2006ء میں اوول کے بدنام زمانہ ٹیسٹ میں امپائر ڈیرل ہیئر اور بلی ڈاکٹروو نے پاکستان پر پانچ رنز کا جرمانہ بھی لگایا۔ پاکستان نے احتجاجاً دوبارہ کھیلنے سے انکار کر دیا اور نتیجتاً انگلستان کو فاتح قرار دیا گیا۔

ایک مرتبہ پھر ذہن میں رہے کہ کارڈف میں کل انگلستان نیوزی لینڈ کے خلاف اک ایسا مقابلہ کھیلنے جا رہا ہے، جو دراصل کوارٹر فائنل ہوگا یعنی شکست کی صورت میں میزبان انگلستان ٹورنامنٹ سے باہر۔ کیا اس اہم مقابلے سے قبل یہ تنازع انگلش ٹیم کی کارکردگی کو نقصان پہنچائے گا؟

Facebook Comments