سری لنکا کی فتح اور سیمی فائنل تک رسائی، آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ باہر

آسٹریلیا اور سری لنکا کے درمیان چیمپئنز ٹرافی کے گروپ مرحلے کا آخری میچ ناقابل یقین انداز میں سنسنی خیز مرحلے میں داخل ہوا، اور اس سے پہلے کہ سری لنکن شائقین کو دل کا دورہ پڑتا دلشان کے ایک ناقابل یقین کیچ نے میچ کا خاتمہ کر دیا۔ ایسا لگتا تھا کہ یہ تمام سنسنی خیز اور ڈرامہ صرف اس شاندار اختتام کے لیے تیار ہونے والا ایک اسٹیج تھا۔ 20 رنز سے حاصل ہونے والی اس فتح کی بدولت سری لنکا نے سیمی فائنل میں جگہ پائی اور آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ دونوں کو ٹورنامنٹ سے باہر کر دیا۔

لمحہ جیت کا (تصویر: AFP)

لمحہ جیت کا (تصویر: AFP)

گو کہ سری لنکا کے لیے خوش کن اختتام تھا، لیکن دفاعی چیمپئن آسٹریلیا نے جاتے جاتے چند معاملات ضرور خراب کیے۔ اسے خود سیمی فائنل تک رسائی کے لیے 254 رنز کا ہدف 29.1 اوورز حاصل کرنا تھا، جو وہ نہ کر سکا لیکن آسٹریلیا 164 رنز سے پہلے آل آؤٹ بھی نہیں ہوا تاکہ سری لنکا گروپ میں سرفہرست پوزیشن حاصل نہ کر سکے اور پھر آخری وکٹ کی مزاحمت کے باعث جب نیوزی لینڈ کو امید ہو چلی کہ آسٹریلیا میچ جیت کر انہیں سیمی فائنل میں پہنچا دے گا، تو وہ فتح سے محض 21 رنز کے فاصلے پر ڈھیر ہو گیا۔

اس اہم ترین مقابلے میں، جس کے نتیجے پر تین ٹیمیں انحصار کیے ہوئے تھیں، ٹاس آسٹریلیا کے کپتان جارج بیلی نے جیتا اور سری لنکا کو بلے بازی کی دعوت دی۔ گزشتہ دو میچز میں شاندار بیٹنگ کرنے والے کمار سنگاکارا کی ناکامی کے بعد یہ سابق کپتان مہیلا جے وردھنے تھے، جن کے ناقابل شکست84 رنز نے آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کے سیمی فائنل تک پہنچنے کی تمام راہیں مسدود کر دیں ۔ 20 رنز پر کوشال پیریرا اور کمار سنگاکارا دونوں کی وکٹیں گنوانے کے بعد تلکارتنے دلشان اور لاہیرو تھریمانے نے 72 رنز جوڑ کر ٹیم کی مشکلات میں کمی کی۔ دلشان 34 رنز بنانے کے بعد سلپ میں شین واٹسن کے ایک شاندار کیچ کا نشانہ بنے۔ اب ایک اینڈ سے مہیلا جے وردھنے آئے اور جم گئے ، جہاں سے انہوں نے آسٹریلوی باؤلرز کو خوب دھویا جبکہ دوسرے اینڈ سے تھریمانے کے 57 اور دنیش چندیمال کے 31 رنز نے سری لنکا کو ایک محفوظ مجموعے تک پہنچا دیا۔ 50 اوورز کے اختتام پر سری لنکا اسکور 8 وکٹوں پر 253 رنز تک پہنچا۔

آسٹریلیا کی جانب سے مچل جانسن نے 3 جبکہ کلنٹ میک کے، جیمز فاکنر اور زاویئر ڈوہرٹی نے ایک، ایک وکٹ حاصل کی۔

آسٹریلیا کا پہلا ہدف تو 29.1 اوورز میں 254 رنز بنانا تھا، اور اس نے پیشقدمی بھی اسی لحاظ سے کی۔ رن اوسط تو بہترین رہا لیکن وہ وکٹیں نہ روک پایا۔ جب 30 واں اوور شروع ہوا تو تو آسٹریلیا محض 189 رنز پر اپنی 8 وکٹیں گنوا چکا تھا یعنی سیمی فائنل کی دوڑ سے تو وہ مکمل طور پر باہر ہو گیا۔ لیکن ابھی یہ فیصلہ ہونا باقی تھا کہ سیمی فائنل میں پہنچنے والی آخری ٹیم کون سی ہوگی اور اس کا انحصار اس میچ کے نتیجے پر تھا یعنی اگر آسٹریلیا جیت جاتا تو نیوزی لینڈ بھارت کے مدمقابل آتا، بصورت دیگر سری لنکا۔

مہیلا جے وردھنے نے 84 رنز کی باری کے دوران اپنے 11 ہزار ون ڈے رنز بھی مکمل کیے (تصویر: ICC)

مہیلا جے وردھنے نے 84 رنز کی باری کے دوران اپنے 11 ہزار ون ڈے رنز بھی مکمل کیے (تصویر: ICC)

ابتداء میں گلین میکس ویل کے جارحانہ 32 رنز اور بعد ازاں ایڈم ووجس کی 49 رنز کی بھاری نے کچھ مزاحمت دکھائی لیکن حقیقت میں یہ آخری وکٹ پر 41 رنز کی شراکت داری تھی، جس کی وجہ سے ہزاروں سری لنکن تماشائیوں کی موجودگی کے باوجود میدان میں موت کی سی خاموشی چھائی ہوئی تھی۔ دراصل آسٹریلیا کی امیدیں ایڈم ووجس سے جڑی ہوئی تھیں، جب 192 رنز پر ووجس کی کی وکٹ گری تو انہی تماشائیوں نے آسمان سر پر اٹھا لیا تھا، کیونکہ بقیہ 20 اوورز میں 62 رنز اور وہ بھی صرف ایک وکٹ کے آسرے پر، ناممکن نہیں تو بہت مشکل ضرور تھا۔

لیکن آخری وکٹ پر کلنٹ میک کے اور زاویئر ڈوہرٹی نے بہت عمدگی اور ذمہ داری سے بلے بازی کی۔ آہستہ آہستہ اسکور کو آگے بڑھاتے ہوئے اس مقام پر لے آئے کہ خود آسٹریلیا، اور نیوزی لینڈ کو بھی، امید ہو گئی کہ میچ نکل جائے اور سری لنکا کے ہاتھوں کے طوطے اڑ گئے تھے کہ شکست کی صورت میں انہیں بھی آسٹریلیا کے ساتھ وطن واپس واپسی کی پرواز پکڑنا ہوگی۔ لیکن اس مقام پر کہ آسٹریلیا کو 46 گیندوں پر صرف 21 رنز کی ضرورت تھی دلشان نے اپنی ہی گیند پر کلنٹ میک کے کا ایک ناقابل یقین کیچ تھام کر تمام تر خدشات کا خاتمہ کر دیا۔ میک کے نے 58 گیندوں پر 30 بنائے۔

سری لنکا کی جانب سے نووان کولاسیکرا نے 3، رنگانا ہیراتھ نے 2 اور شامنڈا ایرنگا، لاستھ مالنگا، اینجلو میتھیوز اور دلشان نے ایک، ایک وکٹ حاصل کی۔

مہیلا جے وردھنے کو میچ کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا۔

درحقیقت سری لنکا کے پاس ایک اور موقع تھا کہ اگر وہ آسٹریلیا کو 164 رنز سے پہلے ڈھیر کر دیتا تو وہ گروپ میں سرفہرست پوزیشن حاصل کرلیتا اور اس کا مقابلہ سیمی فائنل میں جنوبی افریقہ سے ہوتا لیکن وہ ایسا کرنے میں کامیاب نہ ہو سکا جس کی وجہ سے اب وہ سیمی فائنل بھارت کے خلاف کھیلے گا۔

چیمپئنز ٹرافی کا پہلا سیمی فائنل 19 جون کو اوول میں انگلستان اور جنوبی افریقہ کے درمیان ہوگا جبکہ دوسرا سیمی فائنل اگلے ہی دن سری لنکا اور بھارت کے درمیان کارڈف میں ہوگا۔

آسٹریلیا بمقابلہ سری لنکا

چیمپئنز ٹرافی 2013ء، 12 واں مقابلہ

17 جون 2013ء

بمقام: اوول، لندن

نتیجہ: سری لنکا 20 رنز سے کامیاب

میچ کے بہترین کھلاڑی: مہیلا جے وردھنے

سری لنکا رنز گیندیں چوکے چھکے
کوشال پیریرا ایل بی ڈبلیو ب جانسن 4 3 1 0
تلکارتنے دلشان ک واٹسن ب ڈوہرٹی 34 58 1 0
کمار سنگاکارا ک میکس ویل ب میک کے 3 11 0 0
لاہیرو تھریمانے ک واٹسن ب جانسن 57 6 4 0
مہیلا جے وردھنے ناٹ آؤٹ 84 81 11 0
اینجلو میتھیوز ب فاکنر 12 20 1 0
دنیش چندیمال ک ہیوز ب جانسن 31 32 1 1
نووان کولاسیکرا رن آؤٹ 6 5 0 0
رنگانا ہیراتھ رن آؤٹ 2 5 0 0
لاستھ مالنگا ناٹ آؤٹ 2 1 0 0
فاضل رنز ب 5، ل ب 7، و 4، ن ب 2 18
مجموعہ 50 اوورز میں 8 وکٹوں کے نقصان پر 253

 

آسٹریلیا (گیند بازی) اوورز میڈن رنز وکٹیں
مچل جانسن 10 0 48 3
کلنٹ میک کے 10 1 51 1
جیمز فاکنر 9 0 60 1
شین واٹسن 4 0 14 0
زاویئر ڈوہرٹی 10 1 30 1

 

آسٹریلیاہدف: 254 رنز رنز گیندیں چوکے چھکے
شین واٹسن ب کولاسیکرا 5 7 1 0
فلپ ہیوز ک سنگاکارا ب کولاسیکرا 13 10 3 0
گلین میکس ویل ب مالنگا 32 20 5 1
جارج بیلی رن آؤٹ 4 7 0 0
ایڈم ووجس ک ایرنگا ب ہیراتھ 49 62 2 0
مچل مارش ب میتھیوز 4 14 0 0
میتھیو ویڈ ک دلشان ب کولاسیکرا 31 23 4 1
جیمز فاکنر ک سنگاکارا ب ہیراتھ 17 14 3 0
مچل جانسن ک کولاسیکرا ب ایرنگا 4 4 1 0
کلنٹ میک کے ک و ب دلشان 30 58 2 0
زاویئر ڈوہرٹی ناٹ آؤٹ 15 37 0 0
فاضل رنز ل ب 11، و 17، ن ب 1 29
مجموعہ 42.3 اوورز میں تمام وکٹوں کے نقصان پر 233

 

سری لنکا (گیند بازی) اوورز میڈن رنز وکٹیں
شامنڈا ایرنگا 8 1 40 1
نووان کولاسیکرا 9 0 42 3
لاستھ مالنگا 9 0 60 1
رنگانا ہیراتھ 10 0 48 2
اینجلو میتھیوز 3 0 21 1

Facebook Comments