بھارت نے لنکا ڈھا دی، چیمپئنز ٹرافی کے فائنل میں

تمام تر خدشات کے باوجود بھارت نے جس طرح جامع کارکردگی دکھا کر ماہرین کو حیران کیا ہے، اس سے کہیں زیادہ حیرانی انتہائی یکطرفہ سیمی فائنل مقابلوں کو دیکھ کر ہوئی ہے۔ ایک جانب جہاں جنوبی افریقہ میزبان انگلستان کے ہاتھوں بری طرح مات کھا گیا، تقریباً ویسا ہی حال سری لنکا کا بھارت کے خلاف دوسرے سیمی فائنل میں جہاں 8 وکٹوں کی شکست کے ساتھ 'لنکا ڈھا دی گئی'۔

سری لنکن اننگز کی کہانی اس تصویر سے عیاں ہے، انتہائی مایوس کن (تصویر: AFP)

سری لنکن اننگز کی کہانی اس تصویر سے عیاں ہے، انتہائی مایوس کن (تصویر: AFP)

ٹورنامنٹ سے قبل بھارت کے بارے میں اندازہ لگایا جا رہا تھا کہ وہ آئی پی ایل اسپاٹ فکسنگ اسکینڈل کے بوجھ تلے دب جائے گا، لیکن محض چند مقابلوں کے بعد یہ عالم ہے کہ لوگ ایک دہائی تک دنیائے کرکٹ پر حکمرانی کرنے والے آسٹریلیا سے اس کا تقابل کر رہے ہیں۔ وارم اپ مقابلوں سے لے کر سیمی فائنل تک، کوئی ایک بھی ٹیم بھارت کی راہ میں رکاوٹ نہ بن سکی، نہ فیورٹ جنوبی افریقہ، نہ روایتی حریف پاکستان، نہ کالی آندھی کہلانے والا ویسٹ انڈیز اور نہ ہی سری لنکا، سب چاروں شانے چت ہوئے اور اب بھارت کے پاس موقع ہے کہ وہ چیمپئنز ٹرافی کے حتمی مقابلے میں بابائے کرکٹ انگلستان کو ڈھیر کرے اور عالمی کپ کے بعد ایک روزہ کرکٹ کا دوسرا سب سے بڑا اعزاز بھی اپنے نام کرے۔

صوفیہ گارڈنز، کارڈف میں صبح سویرے ہونے والی موسلادھار بارش کی وجہ سے مقابلے کا آغاز تاخیر سے ہوا۔ کنڈیشنز اور پچ کو دیکھتے ہوئے ٹاس بہت اہمیت کا حامل تھا تاکہ دن کے ابتدائی لمحات میں بلے بازی کے 'مضر اثرات' سے محفوظ رہا جا سکے۔ قسمت مہندر سنگھ دھونی کے ساتھ تھی، جنہوں نے ٹاس جیت کر پہلے باؤلنگ کا فیصلہ کیا اور ایسا لگتا تھا کہ کارڈف کی وکٹ میں بارودی سرنگیں ہیں کہ جنہیں دیکھ کر سری لنکن کپتان اینجلو میتھیوز کی ایسی سٹی گم ہوئی کہ وہ اپنی ٹیم میں شامل کھلاڑیوں کے نام تک بھول گئے۔ یہی بدحواسی بعد ازاں سری لنکن اننگز میں بھی نظر آئی۔ وہ بیٹنگ لائن اپ جس نے چند روز قبل میزبان انگلستان کے باؤلرز کو ناکوں چنے چبوائے تھے، مکمل طور پر حریف باؤلرز کے رحم و کرم پر نظر آئی۔

کوشال پیریرا 4، لاہیرو تھریمانے 7 اور کمار سنگاکارا 17 بنانے کے بعد آؤٹ ہوئے جبکہ اس دوران تلکارتنے دلشان بھی اپنی پنڈلی کے پٹھے میں تکلیف کے باعث ریٹائر ہرٹ ہوئے یعنی کہ حقیقتاً 41 کے مجموعے تک تین نہیں بلکہ چار وکٹیں گر چکی تھیں۔ اس مقام پر کپتان مہیلا جے وردھنے اور اینجلو میتھیوز نے اننگز کو سنبھالا۔ اگلے تقریباً 20 اوورز تک انہوں نے بھارتی باؤلرز کا مقابلہ تو کیا لیکن ان پر غالب نہیں آسکے۔ دونوں نے چوتھی وکٹ پر 78 کا اضافہ کیا یہاں تک کہ بیٹنگ پاور پلے کا آغاز ہوا جس میں رویندر جدیجا نے مہیلا کو کلین بولڈ کر کے سری لنکا کی واپسی کے امکانات کو پہلی بڑی ٹھیس پہنچائی۔ جے وردھنے 63 گیندوں پر 38 رنز بنانے کے بعد جدیجا کو کٹ کھیلنے کی کوشش میں ان کی اندر آتی گیند سے دھوکا کھا گئے۔ رنز بننے کی رفتار اور گر گئی۔ اگلے 10 اوورز میں گھونگھے کی رفتار سے بڑھنے کےبعد جیسے ہی سری لنکا نے اننگز کو اگلے گیئر میں ڈالنے کی کوشش کی، شاٹس پکے ہوئے آموں کی طرح فیلڈرز کے ہاتھوں میں گرنے لگے۔ سب سے پہلے میتھیوز روی چندر آشون کی گیند پر کور پر کیچ دے گئے جس کے بعد اگلے اوور میں تھیسارا پیریرا نے ڈیپ مڈ وکٹ پر کھڑے فیلڈر کو آسان کیچ تھمایا۔ آشون نے اپنے اگلے اوور میں بہت ہی خوبصورت کیرم بال پر نووان کولاسیکرا کو کلین بولڈ کیا۔ وہ گیند کو وائیڈ سمجھ کے چھوڑ رہے تھے لیکن وہ پیچھے سے لیگ اسٹمپ اڑا گئی۔ اب تلکارتنے دلشان میدان میں آئے، لنگڑاتے اور ڈگمگاتے ہوئے کچھ دیر وہ کریز پر موجود رہے یہاں تک کہ 50 اوورز مکمل ہوئے جس میں سری لنکا 8 وکٹوں کے نقصان پرصرف 181 رنز بنا سکا۔

سری لنکن بیٹنگ کے حال کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ سازگار حالات کو دیکھتے ہوئے بھارتی کپتان دھونی تک کو باؤلنگ کی مستی سوجھی اور انہوں نے دستانے اور پیڈ اتار کر گیند پر طبع آزمائی کی اور 4 اوورز بھی پھینک ڈالے۔وہ تو پہلے ہی اوور میں مہیلا کی وکٹ بھی لے چکے تھے، بس انہیں تیسرے امپائر نے ریویو پر بچا لیا۔

بھارت کی جانب سے تمام ہی گیندبازوں نے بہت زبردست کارکردگی دکھائی۔ بھوونیشور کمار نے اپنے 9 اوورز میں صرف 18 رنز دیے اور 1 وکٹ بھی حاصل کی جبکہ ایشانت شرما نےاتنے ہی اوورمیں 33 رنز دے کر 3 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔ 3 ہی وکٹیں روی چندر آشون اور ایک رویندر جدیجا کو بھی ملی۔

شیکھر دھاون نے ایک اور عمدہ اننگز کھیلی، لیکن اس مرتبہ وہ قسمت کے گھوڑے پر سوار تھے (تصویر: ICC)

شیکھر دھاون نے ایک اور عمدہ اننگز کھیلی، لیکن اس مرتبہ وہ قسمت کے گھوڑے پر سوار تھے (تصویر: ICC)

بھارت کی بیٹنگ لائن اپ اور ٹاپ آرڈر بلے بازوں کی فارم کو دیکھا جائے تو اس کے لیے 300 رنز کا ہدف بھی کچھ نہیں تھا، 182 رنز تو اس کے بائیں ہاتھ یعنی شیکھر دھاون کا کھیل تھا۔ انہوں نے روہیت شرما، اور قسمت، کے ساتھ مل کر پہلی وکٹ پر 77رنز کی ساجھے داری بنا کر سری لنکا کےلیے امید کی کسی کرن کو روشن ہونے سے پہلے ہی گل کردیا۔ نویں اوور کی آخری گیند پر نووان کولاسیکرا کی ایک خوبصورت گیند شیکھر کے بلّے کا باہری کنارہ لیتی ہوئی پہلی سلپ میں گئی جہاں میتھیوز نے ایک ایسا کیچ چھوڑ دیا، جو وہ عموماً پکڑ لیتے ہیں۔ اگلے ہی اوور میں روہیت کے بلّے سے چھوتی ہوئی گیند پہلی سلپ سے چند انچ کے فاصلے پر گری۔ سری لنکا کی بدقسمتی یہ رہی کہ اس کے اگلے ہی اوور میں کولاسیکراکی گیند پر وکٹ کیپر کے پاس ایک اور موقع گیا، لیکن کیونکہ وہ شیکھر کو روکنے کے لیے بالکل وکٹوں سے چپک کر کھڑے تھے، اس لیے کیچ ضایع کر بیٹھے۔ مسلسل تین اوورز میں تین مواقع، اس کے بعد بھلا کون سی امید باقی رہ جانی تھی؟ اگر اس فیلڈنگ کا تقابل کیا جائے تو سری لنکا کی ابتدائی تینوں وکٹیں گرنے میں سلپ میں کھڑے سریش رینا کی پھرتیلی فیلڈنگ کا ہاتھ تھا جبکہ سری لنکن فیلڈرز نے مواقع گنوا کر خود ہی اپنی قبر کھودی۔ ویسے وقفے کے دوران چند خوش فہم افراد کو توقع تھی کہ نیوزی لینڈ کے خلاف جس طرح 130 رنز کا دفاع کرتے ہوئے سری لنکا مقابلے کو سوئی کی نوک پر لے آیا تھا، یہاں بھی ایسا ہوگا، لیکن یہ سوچنے والے شاید یہ بھول رہے تھے کہ نیوزی لینڈ اور بھارت کی بلے بازی قوت میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ پھر اس پر طرّہ سری لنکا کی فیلڈنگ کا۔

بھارت کی جانب سے گرنے والی پہلی وکٹ روہیت شرما کی تھی جو 33 رنز بنانے کے بعد شاٹ کے انتہائی ناقص انتخاب کے باعث اپنی وکٹ گنوا بیٹھے۔ ایک مشکل وکٹ پر آگے بڑھ کر اینجلو میتھیوز کی گیند کو کور باؤنڈری کی راہ دکھانے کی کوشش وکٹ گنوانے کا سبب بنی۔ ان کے بعد شیکھر نے ویراٹ کوہلی کے ساتھ مل کر مزید 65 رنز جوڑ ڈالے۔ شیکھر جیون مینڈس کی ایک گیند پر وکٹوں کے پیچھے اسٹمپ ہو گئے لیکن اس سے قبل انہوں نے نصف سنچری ضرور مکمل کی اور بدستور ٹورنامنٹ کے بہترین بلے باز رہے۔ وہ 92 گیندوں پر 68 رنز بنا کر میدان سے لوٹے۔ ویراٹ کوہلی اور سریش رینا نے بقیہ 40 رنز بنانے میں صرف 3 اوورز صرف کیے اور 35 ویں اوور کی آخری گیند پر رینا کا چوکا فاتحانہ شاٹ قرار پایا۔ کوہلی 58 اور رینا 7 رنز پر ناقابل شکست رہے۔

ایشانت شرما کو تین وکٹیں حاصل کرنے پر میچ کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا۔

اب بھارت کا مقابلہ 23 جون بروز اتوار گرینڈ فائنل میں میزبان انگلستان سے ہوگا، جس نے سیمی فائنل میں بلند حوصلہ جنوبی افریقہ کے ارمان ٹھنڈے کر کے فائنل میں جگہ پائی ہے۔ اگر مسلسل کارکردگی کو مدنظر رکھا جائے تو بلاشبہ بھارت فائنل میں بھی فیورٹ کی حیثیت سے میدان میں اترے گا۔ جبکہ انگلستان کے لیے امکان صرف یہ ہے کہ اس کے باؤلرز بھارتی بیٹنگ لائن اپ کو نکیل ڈالیں، بصورت دیگر 'یہ کپ کہیں نہیں جائے گا' 🙂

بھارت بمقابلہ سری لنکا

چیمپئنز ٹرافی 2013ء، دوسرا سیمی فائنل

20 جون 2013ء

بمقام: صوفیہ گارڈنز، کارڈف

نتیجہ: بھارت 8 وکٹوں سے فتح یاب

میچ کے بہترین کھلاڑی: ایشانت شرما

سری لنکا رنز گیندیں چوکے چھکے
کوشال پیریرا ک رینا ب بھوونیشور 4 8 1 0
تلکارتنے دلشان ناٹ آؤٹ 18 21 2 0
کمار سنگاکارا ک رینا ب ایشانت 17 44 1 0
لاہیرو تھریمانے ک رینا ب ایشانت 7 31 1 0
مہیلا جے وردھنے ب جدیجا 38 63 3 0
اینجلو میتھیوز ک بھوونیشور ب آشون 51 89 1 1
جیون مینڈس اسٹمپ دھونی ب آشون 25 35 1 0
تھیسارا پیریرا ک دھاون ب ایشانت 0 4 0 0
نووان کولاسیکرا ب آشون 1 3 0 0
لاستھ مالنگا ناٹ آؤٹ 7 2 1 0
فاضل رنز ل ب 2، و 11 13
مجموعہ 50 اوورز میں 8 وکٹوں کے نقصان پر 181

 

بھارت (گیند بازی) اوورز میڈن رنز وکٹیں
بھوونیشور کمار 9 2 18 1
امیش یادیو 8 2 30 0
ایشانت شرما 9 1 33 3
رویندر جدیجا 10 1 33 1
مہندر سنگھ دھونی 4 0 17 0
روی چندر آشون 10 1 48 3

 

بھارتہدف: 182 رنز رنز گیندیں چوکے چھکے
روہیت شرما ب میتھیوز 33 50 4 0
شیکھر دھاون اسٹمپ سنگاکارا ب مینڈس 68 92 6 1
ویراٹ کوہلی ناٹ آؤٹ 58 64 4 1
سریش رینا ناٹ آؤٹ 7 4 1 0
فاضل رنز ب 1، ل ب 5، و 10 16
مجموعہ 35 اوورز میں 2 وکٹوں کے نقصان پر 182

 

سری لنکا (گیند بازی) اوورز میڈن رنز وکٹیں
نووان کولاسیکرا 10 0 45 0
لاستھ مالنگا 8 0 54 0
تھیسارا پیریرا 6 0 25 0
اینجلو میتھیوز 4 0 10 1
رنگانا ہیراتھ 4 0 14 0
جیون مینڈس 3 0 28 1

Facebook Comments