شاہد آفریدی کو واپس لانے کے لیے میڈیا سرگرم

پاکستان کرکٹ کا ایک المیہ ہے، یہاں ایک دو سیریز میں شکست کے بعد بجائے نئے کھلاڑیوں کو آزمانے کے ناقص کارکردگی کے باعث باہر ہونے والے پرانے کھلاڑیوں ہی کو واپس لے لیا جاتا ہے۔ یہاں تک کہ ایسا بھی ہوا کہ نظم و ضبط کی خلاف ورزی پر دو سالوں کی پابندیاں عائد کرنے کے کچھ ہی عرصے بعد ان کھلاڑیوں کے خلاف فیصلے واپس لے لیے گئے، اور وہ ایک مرتبہ پھر قومی کرکٹ ٹیم کی زینت بن گئے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ٹیم میں نیا خون آنا بند ہو گیا اور اب اس کا خمیازہ سب بھگت رہے ہیں، بورڈ کے اعلیٰ عہدیداران سے لے کر ٹیم کے جونیئر ترین کھلاڑی تک سب۔

اگر ٹیم کی فتوحات میں حصہ نہ ڈال سکا تو اس پر بوجھ بھی نہیں بنوں گا: شاہد آفریدی (تصویر: AP)

اگر ٹیم کی فتوحات میں حصہ نہ ڈال سکا تو اس پر بوجھ بھی نہیں بنوں گا: شاہد آفریدی (تصویر: AP)

اب جبکہ قومی کرکٹ کے کھلاڑی چیمپئنز ٹرافی میں بدترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے کے بعد منہ لٹکائے وطن واپس آ گئے ہیں، ٹیم کی بحالی کے لیے بتائے گئے نسخوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ سابق کپتان شاہد آفریدی کو ٹیم میں واپس لیا جائے ۔

معاملات یہاں تک پہنچ گئے ہیں کہ ذرائع ابلاغ کے مختلف ادارے باقاعدہ یہ خبریں تک چلا چکے ہیں کہ سلیکشن کمیٹی دورۂ ویسٹ انڈیز کے لیے شاہد آفریدی کی شمولیت پر سنجیدگی سے غور کر رہی ہے۔ اسی سلسلے کی اہم کڑی یہ ہے کہ ذرائع ابلاغ کی قوت کو استعمال کرتے ہوئے شاہد کو ایک مرتبہ پھر نجات دہندہ کی حیثیت سے واپس لایا جائے۔ گزشتہ روز کھیلوں کے سرکاری چینل پی ٹی وی اسپورٹس نے شاہد خان آفریدی کا ایک تفصیلی انٹرویو نشر کیا جس میں انہوں نے قومی کرکٹ ٹیم کو بحران سے نکالنے کے ٹوٹکے بھی بتائے، چند وضاحتیں بھی پیش کیں اور ماضی کی یادیں بھی تازہ کیں۔

ہمیں شاہد آفریدی کو انٹرویو دینے پر چنداں کوئی اعتراض نہیں، لیکن جس موقع کو استعمال کیا جا رہا ہے، وہ مناسب نہیں ہے۔ اس وقت اگر کھیلوں کی صحافت سے وابستہ افراد ذرّہ برابر بھی قومی کرکٹ کے خیر خواہ ہیں تو انہیں ٹیم میں نئے خون کی شمولیت اور کارکردگی نہ دکھانے والے کھلاڑیوں کو باہر کرنے پر بات کرنی چاہیے، بجائے اس کے کہ کسی ایک فرد کو سامنے لا کر پورے معاملے کو نظروں سے اوجھل کرنے کی کوشش کی جائے، کیونکہ کرکٹ فرد واحد کا کھیل نہیں بلکہ یہ کئی کھلاڑی کھیلتے ہیں، اس لیے کلچر کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہے، چہرے بدلنے یا پرانے چہرے واپس لانے سے کچھ نہ ہوگا۔

پھر شاہد آفریدی کی حالیہ کارکردگی بھی دیکھیں، دورۂ جنوبی افریقہ بیٹنگ میں سوائے ایک اننگز کے، جو پاکستان کو فتح سے ہمکنار بھی نہ کر سکی، ان کے پاس کچھ نہیں تھا جبکہ باؤلنگ میں تو وہ پوری سیریز میں ایک وکٹ بھی حاصل نہ کر سکے۔ یہی وجہ ہے کہ انہیں چیمپئنز ٹرافی کے لیے دستے کا حصہ نہیں بنایا گیا، اور اس امر کا اعتراف خود شاہد بھی کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ میری باؤلنگ فارم اس وقت اچھی نہیں ہے لیکن میرے اندر کرکٹ ابھی باقی ہے، اور اگر وہ ٹیم کی فتوحات میں حصہ نہ ڈال سکے تو اس پر بوجھ بھی نہیں بنیں گے۔

شاہد آفریدی نے کہا کہ میں جی حضوری والا آدمی نہیں ہوں، جب وقار یونس کوچ تھے تو ٹیم انتظامیہ یہ توقع رکھتی تھی کہ میں ان کی ہر بات پر جی سر، جی سر کروں گا، یہ میرے لیے ممکن نہ تھا اس لیے میں نے وقار کی موجودگی میں کرکٹ نہ کھیلنے کا فیصلہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ذکا اشرف کے چیئرمین بننے کے بعد انہیں کپتان بننے کی پیشکش کی گئی تھی لیکن انہوں نے انکار کردیا اور کہا کہ وہ مصباح الحق اور محمد حفیظ کو سپورٹ کرنا چاہتے ہیں۔

نوجوان کھلاڑیوں کو قومی ٹیم میں لانے کی حمایت کرتے ہوئے شاہد آفریدی نے چند کھلاڑیوں کی نشاندہی بھی کی جن میں احمد شہزاد، عمر اکمل، فواد عالم اور عمر امین کے علاوہ عدیل ملک، ذوالفقار بابر اور رضا حسن شامل تھے۔ انہوں نے کہا کہ عمر اکمل کو ہیرو بننے کے بجائے اپنی بیٹنگ پر توجہ دینی چاہیے، اس کے پاس بہت اچھے شاٹس ہیں اور وہ دیگر کھلاڑیوں کے ساتھ مل کر پاکستانی بیٹنگ لائن اپ کی ریڑھ کی ہڈی بن سکتا ہے۔

شاہد آفریدی نے کہا کہ مجھے سمجھ نہیں آتی کہ لوگ مصباح الحق پر اعتراض کیوں کرتے ہیں، جبکہ وہ اس وقت بہترین فارم میں ہیں ۔ ذرائع ابلاغ کو آگے بڑھ کر مصباح کو سپورٹ کرنا چاہیے۔

شاہدآفریدی نے ماضی کی چند متنازع یادیں بھی تازہ کیں، جن میں انگلستان کے خلاف فیصل آباد ٹیسٹ میں وکٹ کو خراب کرنے کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ وکٹ باؤلرز کو بالکل مدد نہیں دے رہی تھی اور دراصل اس وقت سینئر کھلاڑیوں نے انہیں اکسایا تھا کہ وہ یہ قدم اٹھائیں، اور وہ یہ حرکت کر گزرے۔ اس کے علاوہ 2009-10ء کے دورۂ آسٹریلیا میں گیند چبانے کے حوالے سے بھی ان کا یہی کہنا تھا کہ وہ گیند کو ریورس سوئنگ کے قابل بنا کر پاکستان کو میچ جتوانا چاہتے تھے لیکن ناکام رہے۔ انہوں نے کہا کہ اس حرکت کے بعد اب میں اس بارے میں کبھی سوچنابھی نہیں چاہتا۔

اب دیکھنا یہ ہے کہ ذرائع ابلاغ کی کوششوں کے نتیجے میں شاہد آفریدی ٹیم میں واپس آ پاتے ہیں یا نہیں۔ قوی امید تو یہی ہے کہ وہ ایک مرتبہ پھر قومی کرکٹ ٹیم کا حصہ ہوں گے۔

Article Tags

Facebook Comments