آسٹریلیا نے کوچ مکی آرتھر کو فارغ کر دیا

چیمپئنز ٹرافی میں دو ٹیموں کی کارکردگی بدترین رہی، جن میں سے ایک تو پاکستان جس نے ایک بھی میچ نہ جیتا جبکہ دوسرا آسٹریلیا جسے ملنے والا واحد پوائنٹ بارش سے متاثرہ میچ کا تھا۔ کہاں وہ عظمتیں اور جلال اور کہاں یہ حال، یہی وجہ ہے کہ کرکٹ آسٹریلیا نے ٹیم کے ہیڈ کوچ مکی آرتھر کو فارغ کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔

ڈیرن لیمن اس عہد میں آسٹریلیا کی نمائندگی کر چکے ہیں جب وہ ناقابل شکست تصور کیا جاتا تھا (تصویر: Getty Images)

ڈیرن لیمن اس عہد میں آسٹریلیا کی نمائندگی کر چکے ہیں جب وہ ناقابل شکست تصور کیا جاتا تھا (تصویر: Getty Images)

ایشیز سیریز سے محض چند ہفتے قبل آسٹریلیا نے مکی آرتھرکی جگہ سابق بلے باز ڈیرل لیمن کو قومی کرکٹ ٹیم کا ہیڈ کوچ مقرر کر دیا ہے جبکہ حالات کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے مائیکل کلارک نے بھی سلیکشن کمیٹی کی رکنیت سے استعفیٰ دے دیا ہے۔

ڈیرن لیمن کی تقرری فوری طور پر نافذ العمل ہوگی اور وہ یہ ذمہ داری عالمی کپ2015ء تک نبھائیں گے۔ ان کا پہلا امتحان چند ہفتوں بعد شروع ہونے والی ایشیز سیریز ہوگی جس میں روایتی حریف انگلستان کو اس کی اپنی سرزمین پر زیر کرنے کا کٹھن کام انجام دینا ہوگا۔

مکی آرتھر جنوبی افریقہ کی کوچنگ بھی کر چکے ہیں اور وہ آسٹریلیا کی تاریخ کے پہلے غیر ملکی کوچ تھے۔ ابتدائی طور پر ان کا معاہدہ 2015ء کے عالمی کپ تک کے لیے تھا لیکن پے در پے شکستوں اور نظم و ضبط کی خامیوں کے باعث انہیں آج اچانک ہی فارغ کر دیا گیا

ان کے مختصر عہد میں آسٹریلیا زوال کی اتھاہ گہرائیوں تک پہنچا خصوصاًرواں سال دورۂ بھارت میں نہ صرف میدان میں بلکہ میدان سے باہر بھی اسے خفت کا سامنا کرنا پڑا۔ ابتدائی دو ٹیسٹ میچز کے بعد نائب کپتان شین واٹسن سمیت چار کھلاڑیوں کو نظم و ضبط کی مبینہ خلاف ورزی پر کوچ مکی آرتھر نے باہر کر دیا اور اس متنازع فیصلے نے آسٹریلیا میں ان کی ساکھ کو شدید نقصان پہنچایا۔ رہی سہی کسر اب چیمپئنز ٹرافی میں کارکردگی نے پوری کر دی جہاں آسٹریلیا درحقیقت چاروں شانے چت ہوا۔

کرکٹ آسٹریلیا کے چیف ایگزیکٹو جیمز سدرلینڈ نے کہا ہے کہ یہ فیصلہ بہت مشکل لیکن اتنا ہی ضروری بھی تھا۔ ہم ایک ایسی کرکٹ ٹیم تشکیل دینا چاہتے ہیں جو عرصے تک مستقل بہتر کارکردگی دکھائے اور اس مقصد کے حصول کے لیے ہمیں درست سمت میں چلنے کی ضرورت ہوگی۔

علاوہ ازیں انہوں نے تصدیق کی کہ مائیکل کلارک نے سلیکشن پینل میں اپنی رکنیت سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ اپنے ہی میدانوں میں انگلستان کے ہاتھوں ایشیز میں بھاری شکست کے بعد آسٹریلیا نے تحقیقات کے لیے آرگس کمیشن مقرر کیا تھاجس کی سفارشات کی بنیاد پر کچھ تبدیلیاں کی گئی تھیں اور کپتان اور کوچ دونوں کو کھلاڑیوں کے انتخاب کے عمل میں شامل کیا گیا تھا۔

1998ء سے 2005ء کے دوران 27 ٹیسٹ اور 117 ایک روزہ مقابلوں میں آسٹریلیا کی نمائندگی کرنے والے ڈیرن لیمن اب کوچنگ سے وابستہ ہیں اور تقریباً ڈھائی سال سے کوئنزلینڈ کے کوچ ہیں، بگ بیش لیگ میں برسبین ہیٹ جبکہ انڈین پریمیئر لیگ میں کنگز الیون پنجاب کی کوچنگ بھی کر چکے ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ ٹیسٹ کرکٹ کی دنیا میں پاکستان کے بعد جو ٹیم اس وقت سنگین ترین بحران سے دوچار ہے، وہ اسے کیسے نکالتے ہیں۔ ساتھ ساتھ آسٹریلیا کی جانب سے سخت اقدامات اٹھائے جانے کے بعد اب سب کی نظریں پاکستان پر ہیں کہ کیا وہ بدترین کارکردگی پر کوچ کو واپسی کا راستہ دکھائے گا؟

Facebook Comments