نجم سیٹھی پی سی بی کے مستقل سربراہ بننے کے خواہاں

پاکستان کرکٹ بورڈ کے عبوری سربراہ نجم سیٹھی نے کہا ہے کہ کھلاڑیوں اور عہدیداروں کے لیے نیا ضابطہ اخلاق لایا جائے گا تاکہ بورڈ اور ٹیم میں کوئی بھی غیر قانونی و غیر آئینی حرکت میں ملوث نہ ہو۔ لاہور میں ذرائع ابلاغ سے گفتگو کرتے ہوئے نجم سیٹھی نے کہا کہ وہ ایسا کوئی بھی قدم نہیں اٹھانا چاہتے، جسے بعد ازاں عدالت میں غیر قانونی قرار دے دیا جائے۔

اگر اصرار کیا گیا تو چیئرمین کے انتخاب کے لیے خود بھی کھڑا ہو سکتا ہوں: نجم سیٹھی (تصویر: AFP)

اگر اصرار کیا گیا تو چیئرمین کے انتخاب کے لیے خود بھی کھڑا ہو سکتا ہوں: نجم سیٹھی (تصویر: AFP)

واضح رہے کہ گزشتہ روز سندھ ہائی کورٹ نے عبوری چیئرمین کے اختیارات کو محدود کرنے کا حکم جاری کیا تھا کہ وہ بورڈ کے سربراہ کی حیثیت سے اہم فیصلے نہیں لے پائیں گے۔ عدالت نے ان کے اختیارات کو پی سی بی کے آئین کے محض چند حصوں تک محدود کیا ہے۔ یہ درخواست قومی کرکٹ کے سابق کپتان راشد لطیف نے دائر کی تھی، جس کے بعد عدالت نے فیصلہ دیا کہ وہ اگلی سماعت تک پاکستان کرکٹ بورڈ کے آئین کے آرٹیکل چھ (1) 'الف' تا 'ہ' کے مطابق ہی اقدامات اٹھائيں۔ یہ شقیں چیئرمین کو صرف بورڈ کے اجلاس طلب کرنے، ان کی صدارت کرنے اور ملتوی کرنے ہی کا اختیار دیتی ہیں۔

ذکا اشرف کی معطلی کے بعد نجم سیٹھی کی تقرری کو ہی متنازع نظروں سے دیکھا جا رہا ہے۔ ان کا معاملہ "سر منڈاتے ہی اولے پڑے" والا ہوا ہے کیونکہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے بھی ایک سماعت کے بعد انہیں اس شرط پر بورڈ کے چیئرمین کی حیثیت سے کام جاری رکھنے کا کہا ہے کہ وہ گزشتہ چیئرمین کی معطلی کے 90 دن کے اندر انتخابات کروائیں۔

لیکن نجم سیٹھی بھی گھاگ صحافی ہیں، انہوں نے ان سب کا جواب اس بات سے دیا "اگر اصرار کیا گیا تو میں چیئرمین کے انتخاب کے لیے خود بھی کھڑا ہو سکتا ہوں اور بورڈ کا مستقل سربراہ بن سکتا ہوں۔"

انہوں نے یہ بھی بتایا کہ گورننگ بورڈ کے اصرار پر وہ چند روز ویسٹ انڈیز کا دورہ کریں گے تاکہ خود ٹیم کے معاملات کو دیکھ سکیں۔ اس وقت پاکستانی کرکٹ ٹیم محدود اوورز کی ایک سیریز کھیلنے کے لیے ویسٹ انڈیز میں موجود ہے۔

Facebook Comments