[باؤنسرز] قومی انڈر 23 ٹیم کی سلیکشن کا معمہ!

ایشین ایمرجنگ ٹورنامنٹ 17 سے 25 اگست تک سنگاپور میں کھیلا جائے گا جس میں افغانستان، نیپال،سنگاپور اور متحدہ عرب امارات کے علاوہ پاکستان،بھارت، سری لنکا اور بنگلہ دیش کی انڈر 23 ٹیمیں شریک ہوں گی۔ یہ ٹورنامنٹ اس اعتبار سے اہمیت کا حامل ہے کہ ایشیا کی چاروں ٹیسٹ ٹیموں کے نوجوان کھلاڑیوں کو اس میں اپنی صلاحیتوں کا ثبوت پیش کرنے کا موقع ملے گا اور ممکن ہے کہ ان ٹیموں کو مستقبل کے حوالے سے کچھ ٹیلنٹ بھی میسر آجائے۔ اس ٹورنامنٹ کے لیے کھلاڑیوں کے نام بھجوانے کی ڈیڈ لائن 15جولائی یعنی پیر تک دی گئی ہے اور آج اتوار کو یہ آرٹیکل لکھتے ہوئے کھلاڑیوں کے ناموں کا اعلان ہونے کا کوئی امکان دکھائی نہیں دے رہا کیونکہ اقبال قاسم کے استعفیٰ کے بعد سلیکشن کمیٹی تحلیل ہوچکی ہے اور تاحال نئی سلیکشن کمیٹی کا اعلان نہیں ہوا جس کی وجہ سے انڈر 23 ٹیم کا اعلان ایک معمہ بنا ہوا ہے اوراگر ایشین کرکٹ کونسل نے کھلاڑیوں کے ناموں کا اعلان کرنے کی ڈیڈ لائن نہ بڑھائی تو ایونٹ میں پاکستانی ٹیم کی شرکت پر بھی سوالیہ نشان لگ سکتا ہے۔

اگر ایشین کرکٹ کونسل نے ٹیموں کے اعلان کی آخری تاریخ آگے نہ بڑھائی تو ایشین ایمرجنگ ٹورنامنٹ میں پاکستان کی شرکت بھی مشکوک ہو سکتی ہے (تصویر : AFP)

اگر ایشین کرکٹ کونسل نے ٹیموں کے اعلان کی آخری تاریخ آگے نہ بڑھائی تو ایشین ایمرجنگ ٹورنامنٹ میں پاکستان کی شرکت بھی مشکوک ہو سکتی ہے (تصویر : AFP)

کل یعنی 15جولائی کو اگر پاکستان کرکٹ بورڈ کے سربراہ اپنے اختیارات استعمال کرتے ہوئے ٹیم کا اعلان کرتے ہیں تو ان کے لیے سب سے بڑی مشکل اس ٹیم کے لیے کھلاڑیوں کا انتخاب ہی ہوگا کیونکہ 23سے کم عمر باصلاحیت کھلاڑیوں کی سلیکشن آسان کام نہ ہوگا۔

سنگاپور میں کھیلا جانے والے اس ٹورنامنٹ کا فارمیٹ پچاس اوورز کے میچز پر مشتمل ہے اس لیے قومی انڈر23ٹیم کے انتخاب کے لیے پریذیڈنٹ کپ ون ڈے ٹورنامنٹ کو پیمانہ بنایا جاسکتا ہے جو ڈومیسٹک سیزن میں ون ڈے فارمیٹ کا آخری ٹورنامنٹ تھا۔اس ٹورنامنٹ کے بیٹنگ ٹیبل پر پہلے دس بیٹسمینوں میں صرف دو ایسے تھے جن کی عمریں 23سال سے کم ہیں لیکن ان میں سے ایک احمد شہزاد پاکستانی ٹیم کے ہمراہ ویسٹ انڈیز کے دورے پر ہے جبکہ دوسرا 16سالہ حسین طلعت اُس وقت قومی انڈر 19ٹیم کے ہمراہ انگلینڈ کے ٹور پر ہوگا جب سنگاپور میں انڈر23ایونٹ کھیلا جارہا ہوگا ۔

پریذیڈنٹ کپ میں عمدہ کارکردگی دکھانے والے بیٹسمینوں میں صرف سابق انڈر 19 کپتان بابر اعظم ہی ایسا بیٹسمین ہے جو ابھی انڈر23ہے اور اپنی صلاحیت کی بنیاد پر بابر کو سنگاپور جانے والی ٹیم کا لازمی حصہ ہونا چاہیے۔اسی طرح حماد اعظم بھی اپنی 23ویں سالگرہ سے کچھ دور ہے جو سینئر ٹیم میں واپسی کا منتظر ہے لیکن انڈر23 ٹیم میں حماد کو شامل کرکے ٹیم کی مضبوطی میں اضافہ کیا جاسکتا ہے۔راولپنڈی سے تعلق رکھنے والا عمر وحید اور محمد نواز بھی ایسے باصلاحیت کھلاڑی ہیں جو اس ٹیم کا حصہ بن سکتے ہیں ۔بالنگ کے شعبے میں ناصر ملک کو اس ٹیم کا حصہ ہونا چاہیے جس نے پریذیڈنٹ کپ میں واپڈا کے لیے کھیلتے ہوئے 13وکٹیں حاصل کیں۔سیالکوٹ کی نمائندگی کرنے والا 21سالہ فاسٹ بالر بلاول بھٹی بھی اس ٹیم میں شمولیت کا مضبوط امیدوار ہے جو 36 ڈومیسٹک ون ڈے میچز میں 57کھلاڑیوں کو میدان بدر کرچکا ہے۔اس ٹیم میں بقیہ کھلاڑیوں کے لیے گزشتہ دو ورلڈ کپ کھیلنے والی انڈر19ٹیموں کے کھلاڑیوں سے استفادہ کیا جاسکتا ہے جو ابھی اپنی23ویں سالگرہ سے دور ہیں ۔

2012ء کے جونیئر ورلڈ کپ میں پاکستانی ٹیم اچھی کارکردگی نہیں دکھا پائی اس لیے کھلاڑیوں کی پرفارمنس بھی نمایاں ہو کر سامنے نہیں آ سکی۔ دو برس پہلے کی جونیئر ٹیم سے بابر اعظم،عمر وحید اور محمد نواز کا تذکرہ پہلے ہوچکا ہے جبکہ حال ہی میں پاکستان کی طرف سے ٹیسٹ اور ون ڈے کھیلنے والا فاسٹ بالر احسان عادل بھی اس ٹیم کا حصہ تھا، جسے اگر پی سی بی چاہے تو انڈر23ٹیم کے ساتھ سنگاپور بھیج سکتی ہے۔2010ء کے جونیئر ورلڈ کپ میں پاکستانی ٹیم نے فائنل تک رسائی حاصل کی تھی اور انفرادی طور پر کئی کھلاڑیوں نے عمدہ کارکردگی دکھا کر شہرت حاصل کی تھی ۔ ان کھلاڑیوں میں حماد اعظم سرفہرست تھا جس نے ویسٹ انڈیز کے خلاف کواٹر فائنل میں فتح گر اننگز کھیلی تھی، اس کے علاوہ پاکستان کی اسپن جوڑی رضا حسن اور عثمان قادر نے مخالف بیٹسمینوں کو مشکلات سے دوچار کیے رکھا۔ان دونوں اسپنرز کو انڈر23ٹیم کا حصہ بنانا چاہیے جو ان کے مستقبل کے لیے مفید ہوگا۔کراچی سے تعلق رکھنے والا بیٹسمین رمیز عزیز بھی 2010ء کی جونیئر ٹیم کا حصہ تھا جو فرسٹ کلاس کرکٹ کے تجربے کے ساتھ پختگی کے مراحل طے کررہا ہے جبکہ شہر قائد سے ہی تعلق رکھنے والے وکٹ کیپر انوپ سنتوش کو سنگاپور لے جانا غلط فیصلہ نہ ہوگا جو پی آئی اے میں معین خان جیسے وکٹ کیپر کی نگرانی میں اپنی صلاحیتوں کو پروان چڑھا رہا ہے۔

چار برس قبل کھیلے گئے جونیئر ورلڈ کپ میں پاکستانی ٹیم نے حیدرآباد سے تعلق رکھنے والے اوپننگ بیٹسمین عظیم گھمن کی کپتانی میں فائنل تک رسائی حاصل کی تھی مگر عظیم گھمن چار برس کے عرصے میں وہ مقام حاصل نہیں کرپایا جہاں اسے ہونا چاہیے تھا ۔ڈومیسٹک سرکٹ میں حیدرآباد کے علاوہ سوئی ناردرن گیس کی نمائندگی کرنے والے اوپنر کو اسٹارز سے بھری ہوئی ٹیم میں کھیلنے کے مواقع بہت کم میسر آتے ہیں جس کی وجہ سے عظیم گھمن کا کیرئیر پھل پھول نہیں سکا لیکن سنگاپور میں ہونے والا ایونٹ عظیم گھمن کی صلاحیتوں کو نکھارنے کا بہترین موقع ہے جبکہ جونیئر سطح پر کپتانی کا تجربہ عظیم گھمن کو اس ٹیم کا بنانے کا بھی سبب بن سکتا ہے جو انڈر 19 لیول پر کامیابی سے پاکستان کی قیادت کے فرائض انجام دینے بعد سری لنکا کے ٹور پر پاکستان اے کی بھی کپتانی کرچکے ہیں۔

چند دن قبل عظیم گھمن نے اپنے ایک انٹرویو میں اس عزم کا اظہارکیا تھا کہ سنگاپور کا ٹورنامنٹ انہیں انٹرنیشنل کرکٹ میں واپس لانے کا سبب بنے گا۔23سال سے کم عمر کھلاڑیوں کی بات کریں تو 44فرسٹ کلاس اور 26ون ڈے میچز کے تجربے کے علاوہ مختلف سطح پر پاکستان کی ٹیموں کی قیادت کا تجربہ عظیم گھمن کو دیگر کھلاڑیوں سے ممتاز کرتا ہے ۔پی سی بی ایمرجنگ ٹورنامنٹ میں کن کھلاڑیوں کا انتخاب کرتی ہے اس کا فیصلہ جلد ہی ہوجائے گا مگر کپتانی کے لیے عظیم گھمن ایک بہترین چوائس ہے جو ممکن ہے جونیئر کرکٹ کھیلنے کے بعد اپنی راہ سے ہٹ گیا ہو لیکن یہ ایمرجنگ ٹورنامنٹ اس نوجوان بیٹسمین کو دوبارہ نمایاں کرنے میں معاون ثابت ہوسکتا ہے ۔

Facebook Comments