”وہ آیا، اس نے دیکھا اور فتح کرلیا“ شاہد آفریدی کے ہاتھوں ویسٹ انڈیز چت

"وہ آیا، اس نے دیکھا اور فتح کرلیا" یہ بات غالباً 'کرکٹ کے سکندر' شاہد آفریدی کے لیے کہی گئی ہوگی۔ چیمپئنز ٹرافی جیسے اہم ٹورنامنٹ سے باہر ہونے اور پھر ٹیم کو بدترین شکستیں کھاتے دیکھنے کے بعد جب 'لالا' کو واپس بلایا گیا اور انہوں نے پہلے ہی میچ میں ایسی کارکردگی دکھا ڈالی، جسے بلاشبہ ایک روزہ کرکٹ کی تاریخ کی بہترین آل راؤنڈ کارکردگی میں شمار کیا جا سکتا ہے۔ 55 گیندوں پر 76 رنز اور 12 رنز دے کر 7 وکٹیں۔ اور ایک ہی میچ میں کئی ریکارڈز کو پیروں تلے روند ڈالا۔

پاکستانی اننگز کا آغاز کچھ ایسا تھا، تین بلے باز گیندیں چھوڑتے ہوئے وکٹ گنوا بیٹھے (تصویر: WICB)

پاکستانی اننگز کا آغاز کچھ ایسا تھا، تین بلے باز گیندیں چھوڑتے ہوئے وکٹ گنوا بیٹھے (تصویر: WICB)

شاہد آفریدی نے تاریخ کے بہترین ٹیسٹ میچز میں شمار ہونے والے ٹرینٹ برج ٹیسٹ کا ہنگامہ اسی روز ختم کردیا۔ جہاں انگلستان نے سنسنی خیز مقابلے کے بعد 14 رنز سے فتح حاصل کیں، لیکن جب کچھ دیر بعد پروویڈنس میں لالا کا جادو سر چڑھ کر بولنے لگا تو پوری دنیا کی توجہ ناٹنگھم سے ہٹ کر گیانا پر جم گئی۔

جب مقابلے کا آغاز ہوا تو پاکستان ایک مرتبہ پھر ٹاس نہ جیت سکا اور اسے بادل نخواستہ بیٹنگ کرنا پڑی۔ ایسا لگتا تھا پاکستان کرکٹ کی مشکلات ابھی باقی ہیں، پھر جب جیسن ہولڈر نے اپنی گیندبازی کا جادو دکھانا شروع کیا تو شاید پاکستانیوں کی اکثریت نے اپنے ٹیلی وژن بند کر دیے ہوں گے۔

ہولڈر کی شاندار باؤلنگ کے سامنے پاکستان کے ابتدائی تین کھلاڑی اس طرح آؤٹ ہوئے کہ وہ گیندوں کو چھوڑ رہے تھے۔ احمد شہزاد اور محمد حفیظ کے بری طرح بولڈ ہونے کے بعد ناصر جمشید ایل بی ڈبلیو قرار پائے۔ گو کہ وہ امپائر کے ناقص فیصلے کے باعث بدقسمت رہے لیکن پاکستان کو زبردست دھچکا پہنچ چکا تھا۔ کچھ ہی دیر میں اسد شفیق وکٹوں کے پیچھے جزوقتی وکٹ کیپر جانسن چارلس کے ایک عمدہ کیچ کا نشانہ بنے جبکہ عمر اکمل ایڈونچر کی عادت سے مجبور ہو کر اس وقت اپنی وکٹ دے گئے جب پاکستان کا اسکور محض 47 رنز تھا، 47 رنز پانچ کھلاڑی آؤٹ۔ ایک اور بھیانک کارکردگی!

اس مرحلے پر ٹیم کے دو سینئر ترین اراکین میدان میں موجود تھے، ایک اینڈ پر کپتان مصباح الحق اور دوسرے پر شاہد آفریدی۔ حالات کا تقاضہ تو یہی تھا کہ اگلے 30 اوورز کھیلنے کی کوشش کی جائے لیکن شاہد آفریدی آج نجانے کس ترنگ میں تھے۔ انہوں نے آتے ہی تیسری گیند کو چھکے کی بھرپور راہ دکھائی اور پھر گویا ایک اینڈ سے رنز کا نہ تھمنے والا سیلاب بہہ نکلا۔

وہ ویسٹ انڈین باؤلرز، جن کی ابتدائی کارکردگی دیکھ کر لگ رہا تھا کہ انہیں آج کھیلا نہیں جا سکے گا، شاہد آفریدی کے سامنے ڈھیر ہوگئے۔ شاہد نے 5 شاندار چھکوں کی مدد سے 76 رنز کی شاہکار اننگز کھیلی اور وہ بھی صرف 55 گیندوں پر۔ ان کی اننگز میں 6 چوکے بھی شامل تھے۔ دوسرے اینڈ پر مصباح الحق اپنا روایتی مدافعانہ انداز اپنائے رہے اور بالآخر 48 ویں اوور میں نصف سنچری مکمل کرنے کے بعد وکٹوں کے پیچھے دھر لیے گئے۔

50 اوورز مکمل ہونے پر پاکستان کا اسکور 9 وکٹوں پر 224 رنز تک پہنچا۔ چیمپئنز ٹرافی کی کارکردگی کو دیکھتے ہوئے یہ کچھ بہتری ضرورتھی۔ وہاں پاکستان تینوں میچز میں آل آؤٹ ہوا تھا، 200 رنز پر بھی نہیں پہنچ پایا تھا اور تمام 50 اوورز بھی نہیں کھیل پایا تھا۔ یہاں پاکستان نے یہ تینوں اہداف حاصل کیے لیکن پھر بھی 225 رنز کے ہدف کا دفاع کرنا ایک مشکل کام ضرور لگ رہا تھا۔

ویسٹ انڈیز کی جانب سے ہولڈر نے کمال کی گیندبازی کی۔ انہوں نے اپنے 10 اوورز میں صرف 13 رنز دیے اور 4 ابتدائی وکٹیں حاصل کیں۔ دو، دو وکٹیں کیمار روچ اور ڈیوین براوو کو بھی ملیں جبکہ ایک وکٹ کیرون پولارڈ نے حاصل کی۔

کچھ ہی دیر میں ویسٹ انڈیز 225 رنز کے بظاہر معمولی دکھائی دینے والے ہدف کے تعاقب کے لیے میدان میں اترا۔ لیکن طویل قامت محمد عرفان نے پہلے ہی اوور میں ایک فل ٹاس نما یارکر پر جانسن چارلس کی آف اسٹمپ ڈھیر کردی۔ پانچویں اوور میں محمد عرفان نے ڈیرن براوو کو وکٹوں کے پیچھے کیچ آؤٹ کرایا اور مقابلہ دلچسپ مرحلے میں داخل ہو گیا۔

محض 7 رنز پر دو وکٹیں حاصل کرنے کے بعد پاکستان کے حوصلے یکدم بلند ہو گئے اور عرفان کے اسی اوور کی آخری گیند پر مصباح الحق کی براہ راست تھرو نے کرس گیل کی اننگز کا خاتمہ کیا تو پاکستانی کھلاڑی خوشی سے پھٹ پڑے۔ فٹ بال انداز کے جشن کے بعد پاکستان مکمل طور پر کھیل پر حاوی ہوگیا۔ لینڈل سیمنز اور مارلون سیموئلز نے چوتھی وکٹ پر 17 اوورز تک مزاحمت کی لیکن رنز بڑھنے کی رفتار کچھ نہ تھی۔ 22 اوورز میں صرف 41 رنز۔

شاہد آفریدی نے 76 رنز بنائے اور 7 وکٹیں بھی حاصل کیں (تصویر: WICB)

شاہد آفریدی نے 76 رنز بنائے اور 7 وکٹیں بھی حاصل کیں (تصویر: WICB)

جب شاہد آفریدی کو متعارف کروایا گیا تو انہوں نے آتے ہی ویسٹ انڈیز کے پیروں تلے سے زمین نکال دی۔ باقی رہ جانے والی تمام 7 وکٹیں انہوں نے سمیٹیں، جو عام لیگ بریک، گوگلی اور تیز گیندوں کے ملاپ کا نتیجہ تھیں۔ شاہد آفریدی کی سب سے مزیدار وکٹ کیرون پولارڈ کی تھی، جنہوں نے بیٹنگ کے دوران شاہد کو کافی تنگ بھی کیا تھا اور بالآخر شاہد کی وکٹ بھی لی۔ اپنے تئیں یہ پولارڈ یہ سمجھ بیٹھے کہ انہوں نے بولتی بند کر دی ہے۔ جب شاہد نے انہیں لانگ آف پر کیچ کرایا تو گیا حساب برابر ہو گیا۔

ویسٹ انڈیز کی پوری ٹیم 41 ویں اوور کی آخری گیند پر 98 رنز پر ڈھیر ہو گئی اور پاکستان 126 رنز کے واضح مارجن سے جیتنے میں کامیاب ہو گیا۔

شاہد آفریدی نے 9 اوورز میں صرف 12 رنز دے کر 7 وکٹیں حاصل کیں جو ایک روزہ کرکٹ کی تاریخ کی دوسری بہترین باؤلنگ ہے اور پاکستان کی جانب سے کسی بھی باؤلر کی بہترین باؤلنگ کارکردگی۔ انہوں نے وقار یونس کی 36 رنز دے کر 7 وکٹیں حاصل کرنے کے قومی ریکارڈ کو توڑا۔ اگر شاہد ایک اور وکٹ لینے میں کامیاب ہو جاتے تو شاید چمندا واس کا 19 رنز دے کر 8 وکٹیں حاصل کرنے کا عالمی ریکارڈ توڑ دیتے۔

باؤلنگ کے دوران شاہد نے جب ڈیوین براوو کو آؤٹ کیا تو یہ ان کی کیریئر کی 350 ویں وکٹ تھی۔ وہ اس سنگ میل کو عبور کرنے والے تیسرے پاکستانی اور مجموعی طور پر اٹھارہویں باؤلر ہیں۔ اس طرح وہ 7 ہزار رنز اور 350 وکٹیں حاصل کرنے والے تاریخ کے واحد کھلاڑی بن چکے ہیں۔

علاوہ ازیں ایک ہی میچ میں نصف سنچری اور 5 یا زائد وکٹیں حاصل کرنے کا کارنامہ بھی انہوں نے تیسری بار انجام دیا۔ ان کے علاوہ دنیا کا کوئی کھلاڑی دو مرتبہ بھی ایسی کارکردگی نہیں دکھا سکا۔

شاہد آفریدی کو شاندار کارکردگی پر میچ کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا۔ یعنی کہ کیریئر میں 30ویں مرتبہ انہوں نے مین آف دی میچ ایوارڈ جیتا جو پاکستان کی جانب سے سب سے زیادہ تعداد ہے۔

پاکستان اور ویسٹ انڈیز کے درمیان دوسرا ایک روزہ مقابلہ 16 جولائی کو پروویڈنس کے اسی میدان پر کھیلا جائے گا۔ دیکھنا یہ ہے کہ شاہد آفریدی اپنی کارکردگی کے تسلسل کو جاری رکھ پاتے ہیں یا ہمیشہ کی طرح واپس آتے ہی پہلے میچ کی کارکردگی کے بعد اگلے درجنوں میچز تک ٹیم پر بوجھ بننے کی روایت کو برقرار رکھتے ہیں۔

ویسٹ انڈیز بمقابلہ پاکستان

پہلا ایک روزہ بین الاقوامی مقابلہ

14 جولائی 2013ء

بمقام: پروویڈنس، گیانا

نتیجہ: پاکستان 126 رنز سے فتح یاب

میچ کے بہترین کھلاڑی: شاہد آفریدی

پاکستان رنز گیندیں چوکے چھکے
ناصر جمشید ایل بی ڈبلیو ب ہولڈر 6 17 1 0
احمد شہزاد ب ہولڈر 5 12 1 0
محمد حفیظ ب ہولڈر 1 13 0 0
مصباح الحق ک چارلس ب ڈیوین براوو 52 121 1 0
اسد شفیق ک چارلس ب ہولڈر 0 1 0 0
عمر اکمل ک ڈیوین براوو ب روچ 19 34 0 1
شاہد آفریدی ک سیمی ب پولارڈ 76 55 6 5
وہاب ریاض ک ہولڈر ب روچ 7 21 0 0
سعید اجمل ناٹ آؤٹ 15 19 1 0
اسد علی ب ڈیوین براوو 11 6 0 1
محمد عرفان ناٹ آؤٹ 4 1 1 0
فاضل رنز ب 1، ل ب 4، و 23 28
مجموعہ 50 اوورز میں 9 وکٹوں کے نقصان پر 224

 

ویسٹ انڈیز (گیند بازی) اوورز میڈن رنز وکٹیں
کیمار روچ 10 0 38 2
جیسن ہولڈر 10 4 13 4
ڈیرن سیمی 8 2 35 0
ڈیوین براوو 10 3 52 2
سنیل نرائن 3 0 32 0
مارلون سیموئلز 3 0 24 0
کیرون پولارڈ 6 0 25 1

 

ویسٹ انڈیزہدف: 225 رنز رنز گیندیں چوکے چھکے
کرس گیل رن آؤٹ 1 8 0 0
جانسن چارلس ب عرفان 0 1 0 0
ڈیرن براوو ک عمر اکمل ب عرفان 5 18 1 0
مارلون سیموئلز ایل بی ڈبلیو ب آفریدی 25 75 2 0
لینڈل سیمنز اسٹمپ عمر اکمل ب آفریدی 10 46 0 0
ڈیوین براوو ایل بی ڈبلیو ب آفریدی 0 1 0 0
کیرون پولارڈ ک وہاب ریاض ب آفریدی 3 10 0 0
ڈیرن سیمی ناٹ آؤٹ 21 43 1 0
کیمار روچ ک و ب آفریدی 1 9 0 0
سنیل نرائن ک ناصر جمشید ب آفریدی 14 31 2 0
جیسن ہولڈر ایل بی ڈبلیو ب آفریدی 0 4 0 0
فاضل رنز ب 1، ل ب 6، و 11 18
مجموعہ 41 اوورز میں تمام وکٹوں کے نقصان پر 98

 

پاکستان (گیند بازی) اوورز میڈن رنز وکٹیں
محمد عرفان 7 2 17 2
اسد علی 5 0 13 0
وہاب ریاض 5 1 8 0
سعید اجمل 7 0 25 0
محمد حفیظ 8 1 16 0
شاہد آفریدی 9 3 12 7

Facebook Comments