"جھپٹنا، پلٹنا، پلٹ کر جھپٹنا" پاک-ویسٹ انڈیز سیریز کے دلچسپ اعدادوشمار

جب دورۂ ویسٹ انڈیز کے لیے پاکستان کی ٹیم کا اعلان کیا گیا تو اس کے بعد غالباً پاکستان کرکٹ بورڈ یا سلیکشن کمیٹی کے کسی رکن کی جانب سے ایک بیان جاری ہوا جس میں کہا گیا تھا کہ ہم جو ٹیم ویسٹ انڈیز بھیج رہے ہیں اس کے جیتنے کی گارنٹی نہیں دے سکتے۔ اس سے آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ کرکٹ بورڈ کے اعلیٰ عہدیدار تک اپنی کرسی بچانے کے لیے کس طرح 'سیف سائیڈ' رکھتے ہیں کہ ہارنے کی صورت میں بھی ان کے پاس کہنے کا موقع ہو کہ ہم نے تو پہلے ہی کوئی ضمانت نہیں دی تھی۔ اب جبکہ ٹیم جیت چکی ہے اس کا سہرا اپنے سر لیتے ہوئے مبارکبادیں بھی یہی عہدیدار وصول کر رہے ہیں۔

1993ء سے اب تک پاکستان ویسٹ انڈیز کے خلاف کوئی باہمی ون ڈے سیريز نہیں ہارا (تصویر: WICB)

1993ء سے اب تک پاکستان ویسٹ انڈیز کے خلاف کوئی باہمی ون ڈے سیريز نہیں ہارا (تصویر: WICB)

بہرحال، ہم ادھر ادھر کی بحث میں پڑے بغیر بذریعہ اعدادوشمار پاکستان کی کارکردگی کا جائزہ لیتے ہیں۔ ویسٹ انڈیز کے خلاف ون ڈے سیریز میں کامیابی میں بلے بازوں اور باؤلرز دونوں کی محنت کے ساتھ ساتھ کپتان مصباح الحق نے بھی اہم کردار ادا کیا ہے۔ یہ ویسٹ انڈیز میں پاکستان کی مسلسل تیسری سیریز جیت ہے، 2005ء، 2011ء اور اب 2013ء، اور پاکستان ویسٹ انڈیز میں یہی تین سیریز جیت سکا ہے۔ پاکستان کی طرف سے 2005ء میں یونس خان، 2011ء میں شاہد آفریدی اور 2013ء میں مصباح الحق ہی وہ کپتان ہیں جنہیں ویسٹ انڈیز میں باہمی ون ڈے سیریز جیتنے کااعزاز حاصل ہے۔ علاوہ ازیں یہ پاکستان کی ویسٹ انڈیز کے خلاف مجموعی طور پر آٹھویں سیریز فتح ہے اور دونوں ملکوں کے درمیان پچھلی تمام 7 سیریز میں پاکستان نے فتح حاصل کی ہے۔

آپ کو یاد ہوگا کہ حالیہ چیپمئنز ٹرافی میں پاکستان اپنے تینوں گروپ میچز میں 175 رنز سے پہلے ڈھیر ہو گیا تھا اور بری طرح شکست سے دوچار ہونے کے بعد سال کے اہم ترین ٹورنامنٹ سے باہر ہوا لیکن اس سیریز میں پاکستان پانچوں مقابلوں میں صرف ایک مرتبہ آل آؤٹ ہوا اور صرف یہی میچ تھا جہاں پاکستان کو شکست ہوئی، یعنی 16 جولائی کو پروویڈنس، گیانا کے مقام پر کھیلا گیا مقابلہ۔ اس کے علاوہ تمام میچز میں پاکستان کی پوری ٹیم آؤٹ نہیں ہوئی اور پاکستان نے یا تو مقابلہ جیتا یا پھر وہ ٹائی ہوا۔

سیریز کے بہترین بلے بازوں میں مصباح الحق 65 کے زبردست اوسط سے بنائے گئے 260 رنز کے ساتھ سرفہرست رہے۔ مارلون سیموئلز 60.75 کی اوسط سے 243 رنز بنا کر دوسرے نمبر پر رہے۔ ان دونوں کے علاوہ کوئی بلے باز 200 رنز تک بھی نہیں پہنچ سکا۔ سیریز میں عمر اکمل نے بہت اچھی کارکردگی دکھائی اور 58.33 کی بہترین اوسط سے 175 رنز بنائے اور اس کے لیے انہوں نے صرف 157 گیندیں کھیلیں۔ عمر اکمل نے تمام رنز اس وقت بنائے ٹیم مشکل حالات میں تھی اور انہیں رنز کی اشد ضرورت تھی۔ علاوہ ازیں وکٹ کیپنگ کی اضافی اور بہت بھاری ذمہ داری بھی انہوں نے بہ احسن و خوبی انجام دی۔

مصباح الحق کسی سیریز میں چار نصف سنچریاں بنانے والے واحد پاکستانی کپتان بنے (تصویر: WICB)

مصباح الحق کسی سیریز میں چار نصف سنچریاں بنانے والے واحد پاکستانی کپتان بنے (تصویر: WICB)

مصباح الحق نے سیریز میں 4 بارنصف سنچری بنائی جو کسی بھی ٹیم کے خلاف باہمی ون ڈے سیریز میں یہ کارنامہ انجام دینے والے واحد پاکستانی کپتان ہیں اور ایک روزہ کرکٹ کی تاریخ کے صرف تیسرے کپتان۔ ان سے پہلے رکی پونٹنگ نے 2003-04ء میں سری لنکا کے خلاف اور ابراہم ڈی ولیئرز نے 2013ء ہی میں پاکستان کے خلاف باہمی ون ڈے سیریز میں 4،4 مرتبہ 50 سے زیادہ رنز بنائے تھے۔ پاکستان کی طرف سے اس سے پہلے بحیثیت کپتان سیریز میں سب سے زیادہ مرتبہ 50 یا زیادہ رنز بنانے کا ریکارڈ انضمام الحق اور سلیم ملک کے پاس تھا جنہوں نے ایک سیریز میں تین، تین مرتبہ 50 سے زیادہ رنز کی اننگز کھیلیں۔ انضمام نے یہ کارنامہ 2003ء میں بنگلہ دیش کے خلاف جبکہ سلیم ملک نے 1994ء میں سری لنکا کے خلاف انجام دیا تھا۔

مصباح الحق اور انضمام الحق ہی پاکستان کے ایسے کپتان ہیں جنہوں نے کسی بھی باہمی ون ڈے سیريز میں 250 سے زیادہ رنز بنائے ہوں۔ انضمام نے یہ کارنامہ 2003-04ء میں بھارت کے خلاف ہوم سیریز میں سرانجام دیا جب انہوں نے 340 رنز بنائے تھے جبکہ مصباح نے اس سیریز میں 260 رنز اسکور کیے تھے۔

مصباح الحق نے اپنے قیمتی 260 رنز کے لیے 410 گیندوں کا سامنا کیا اور یوں مصباح دنیا کے پہلے کپتان بن گئے ہیں جنہوں نے 5 میچز کی باہمی سیریز میں 400 سے زیادہ گیندوں کا سامنا کیا ہو۔ جنوبی افریقہ کے کیپلر ویسلز نے 1992-93ء میں بھارت کے خلاف سیریز میں 668 گیندوں کا سامنا کیا تھا اور جنوبی افریقہ ہی کے خلاف اسمتھ نے 2004-05ء میں انگلستان کے خلاف سیریز میں 415 گیندیں کھیلی تھیں لیکن یہ دونوں سیریز 7،7 میچز پر مشتمل تھیں۔

باؤلنگ کے شعبے میں بھی پاکستان کا پلڑا کافی بھاری رہا ہے۔ شاہد آفریدی نے سیریز میں سب سے زیادہ یعنی 10 وکٹیں حاصل کی جن میں 7 وکٹیں انہوں نے پہلے ہی میچ میں حاصل کرلی تھیں۔ یہ چوتھا موقع ہےکہ شاہد آفریدی نےاپنے کیریئر میں کسی باہمی ون ڈے سیریز میں 10 یا اس سے زیادہ وکٹیں حاصل کی ہوں۔ اس سے پہلے وہ یہ کارنامہ سری لنکا، بنگلہ دیش اور آسٹریلیا کے خلاف انجام دے چکے ہیں۔

شاہد آفریدی کی کسی بھی باہمی ون ڈے سیریز میں مجموعی طور پر وکٹوں کی سب سے زیادہ تعداد یہ ہے: 13 وکٹ، بمقابلہ سری لنکا، 2011-12ء، بمقام متحدہ عرب امارات ؛ 12 وکٹ، بمقابلہ بنگلہ دیش، 2007-08ء، بمقام پاکستان ؛ 10 وکٹ، بمقابلہ آسٹریلیا، 2009ء، بمقام متحدہ عرب امارات اور اب 10 وکٹ، بمقابلہ ویسٹ انڈیز، 2013ء، بمقام ویسٹ انڈیز ۔

اس سیریز میں آفریدی کی اوسط 13.50 اور اسٹرائیک ریٹ 20.4 رہا جو کہ مندرجہ بالا تمام سیریز کے مقابلے میں بہترین ہے۔

شاہد آفریدی نے ویسٹ انڈیز کے خلاف 2011ء کی ون ڈے سیریز میں صرف دو وکٹیں حاصل کی تھیں اور اس سیریز میں پاکستان کے کپتان بھی تھے۔

شاہد آفریدی نے سیریز میں سب سے زیادہ یعنی 10 وکٹیں حاصل کیں (تصویر: WICB)

شاہد آفریدی نے سیریز میں سب سے زیادہ یعنی 10 وکٹیں حاصل کیں (تصویر: WICB)

محمد عرفان نے اس سیریز میں 9 وکٹیں حاصل کیں۔ عرفان کی باؤلنگ پوری سیریز میں زبردست رہی۔ خاص طور پر انہوں نے جس طرح کرس گیل کو باؤلنگ کی وہ قابل دید تھی۔ گیل مجبور ہو کر آخری دو میچز میں اوپننگ کے بجائے مڈل آرڈر میں بیٹنگ کرنے آئے تاکہ نئی گیند کے ساتھ عرفان کا سامنا کرنے سے بچا جا سکے۔محمد عرفان نے اس سیریز میں جانسن چارلس کو تین بار، مارلون سیموئلز کو دو بار، کرس گیل، ڈیرن براوو اور ڈیرن سیمی کو ایک، ایک بار آؤٹ کیا۔

سیریز میں کرس گیل کی بیٹنگ بری طرح ناکام رہی اور پوری سیریز میں صرف 12.20 کے اوسط سے 61 رنز بنا سکے۔ یہ گیل کے پورے کیریئر میں چوتھا موقع ہے کہ وہ کسی بھی باہمی ون ڈے سیریز کے تمام پانچ میچز میں کھیلنے کے باوجود مجموعی طور پر 100 رنز بھی نہ بنا سکے۔ اس سیریز سے پہلے گیل نے یہ ہزیمت بنگلہ دیش کے خلاف نومبر/دسمبر 2012ء کی سیریز میں 72 رنز، نیوزی لینڈ کے خلاف 2005-06ء کی سیریز کے پانچ میچز میں 51 رنز اور آسٹریلیا کے خلاف 2009-10ء کی سیریز میں 55 رنز بناکر اٹھائی تھی۔

اس سیریز میں پاکستان کی طرف سے اسد شفیق وہ واحد بلے باز تھے جو صفر پر آؤٹ ہوئے جبکہ ویسٹ انڈیز کی جانب سے یہ "اعزاز" پانچ بلے بازوں نے حاصل کیا۔ جانسن چارلس، ڈیوین براوو، جیسن ہولڈر، کیرون پولارڈ اور کیمار روچ۔

پاک-ویسٹ انڈیز سیریز میں پاکستان کی طرف سے ناصر جمشید واحد بلے باز رہے جو رن آؤٹ ہوئے۔ جبکہ ویسٹ انڈیز کے چاربلے باز ڈیوین براوو، کرس گیل، کیمار روچ اور ڈیرن سیمی پاکستانی فیلڈرزکی پھرتی نشانہ بنے ۔ واضح رہے کہ ناصر جمشید اس سیریز میں دو مرتبہ رن آؤٹ ہوئے۔

سیریز میں سعید اجمل اور محمد عرفان نے سب سے زیادہ اوورز پھینکے۔ دونوں نے 47، 47 اوورز کیے جبکہ ہولڈر اور روچ نے سب سے زیادہ یعنی 6، 6 اوورز میڈن کیے۔

اس سیریز میں سب سے زیادہ چوکے عمر اکمل نے لگائے اور جبکہ چھکے لگانے کا اعزاز شاہد آفریدی کے پاس رہا۔

عمر اکمل نے سیریز میں سب سے زیادہ چوکے لگائے (تصویر: AFP)

عمر اکمل نے سیریز میں سب سے زیادہ چوکے لگائے (تصویر: AFP)

سیریز کا آخری مقابلہ بحیثیت کپتان مصباح الحق کا 50 واں میچ تھا۔ البتہ یہ بحیثیت کپتان ان کا مسلسل49 واں مقابلہ تھا۔ ان سے قبل پاکستان کی جانب سے سب سے زیادہ مسلسل ون ڈے میچز میں قیادت کرنے والے وقار یونس تھے جنہوں نے مسلسل 47 مقابلوں میں پاکستان کی قیادت کی ۔

سیریز کے آخری میچ کی جیت شاہد آفریدی کی 200 ویں ایک روزہ فتح بھی تھی۔ جس میں 199 ایک روزہ انہوں نے پاکستان کی طرف سے جیتے جبکہ ایک مقابلہ ایشین الیون کی جانب سے جیتا۔ پاکستان کی طرف سے انضمام الحق ہی ایسے دوسرے کھلاڑی ہیں جنہوں نے 200 سے زیادہ ایک روزہ فتوحات دیکھ رکھی ہیں۔ ان کی موجودگی میں 215 مرتبہ ان کی ٹیم نے ون ڈے مقابلہ جیتا۔

Facebook Comments