[باؤنسرز] ٹک...ٹک...ٹک...ٹک...

ٹک...ٹک...ٹک...ٹک... جب کوئی ’’ٹھاہ ٹھاہ‘‘ کرنے کے بعد ’’ٹھس‘‘ ہورہا تھا اور کوئی پوری سیریز میں ’’پھس‘‘ ہوا، اس وقت مصباح الحق کی ’’ٹک ٹک‘‘ چلتی رہی اور طوفان میں گھری پاکستانی ٹیم کی کشتی کنارے لگتی رہی ۔جس طرح گھڑی کی سوئی کی ’’ٹِک ٹِک‘‘ ہمیشہ چلتی رہتی ہے، کبھی نہیں رکتی بالکل اسی طرح مصباح الحق کی ٹک ٹک بھی چلتی ہی جاتی ہے جسے کسی ’’صلے کی تمنا ہے اور نا ستائش کی پروا‘‘، جو ٹیم کی کامیابیوں میں اہم ترین کردار ادا کرنے کے بعد پاکستان کی کامیابیوں کو ’’ٹیم ورک‘‘ قرار دیتا ہے حالانکہ اب یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے کہ ویسٹ انڈیز میں سیریز کی کامیابی میں مصباح الحق کے علاوہ اور کتنے کھلاڑیوں نے اپنی ذمہ داری نبھائی۔

مصباح ٹیم کی کامیابیوں میں اہم ترین کردار ادا کرنے کے بعد پاکستان کی کامیابیوں کو ’’ٹیم ورک‘‘ قرار دیتا رہا (تصویر: WICB)

مصباح ٹیم کی کامیابیوں میں اہم ترین کردار ادا کرنے کے بعد پاکستان کی کامیابیوں کو ’’ٹیم ورک‘‘ قرار دیتا رہا (تصویر: WICB)

مجھے نہیں یاد پڑتا ہے ماضی میں قومی ٹیم کے کسی اہم کھلاڑی پر اتنا زیادہ تنقید ہوئی ہو جس کا سامنا مصباح الحق کو کرنا پڑرہا ہے مگر مصباح الحق کسی پر تنقید کے نشتر برسانے اور غیر ضروری قسم کے بیانات دینے کی بجائے تمام تنقید کا جواب اپنے بیٹ سے دیتا ہے کیونکہ جب مصباح الحق کا بلّا بول رہا ہوتا تو پاکستانی کپتان کو کچھ کہنے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ چمپئنز ٹرافی میں بھی یہ مصباح الحق کی غیر معمولی کارکردگی تھی جس نے گرین شرٹس کو مکمل تباہی سے بچالیا اور اگر اب ویسٹ انڈیز کے ٹور پر ون ڈے سیریز میں سے مصباح الحق کی پرفارمنس مائنس کردی جائے تو نحیف ٹانگوں پر کھڑے اعدادوشمار ہی دکھائی دیتے ہیں۔

مصباح الحق پر تنقید کرنے والوں کی کمی نہیں ہے جو کپتان کی عمدہ کارکردگی میں بھی کیڑے نکالنے کی کوشش کرتے ہیں اور اگر کسی کو کچھ ہاتھ نہ آئے تو مصباح الحق کی عمر پر انگلیاں اٹھائی جاتی ہیں کہ39سالہ ’’بوڑھے‘‘ کھلاڑی کو انٹرنیشنل کرکٹ چھوڑ دینا چاہیے۔مصباح الحق اب اپنی چالیسویں سالگرہ کی طرف بڑھ رہا ہے لیکن بڑھتی ہوئی عمر کے باوجود پاکستانی کپتان کئی نوجوان کھلاڑیوں سے زیادہ فٹ ہے جس کی فارم اور فٹنس ہر میچ میں دکھائی بھی دیتی ہے۔

کبھی مصباح الحق کی بیٹنگ کو سست قرار دیا جاتا ہے تو کبھی ٹیم کی ناکامی کا تمام تر ملبہ مصباح الحق پر ڈال کر اسے کپتانی سے ہٹانے کا مطالبہ کردیا جاتا ہے مگر کسی کھلاڑی کی ایک پرفارمنس پر ڈھول پیٹنے والوں کو اس وقت سانپ سونگھ جاتا ہے جب مصباح الحق اپنی مسلسل عمدہ کارکردگی سے گرین شرٹس کیلئے جیت کا سامان کررہا ہوتا ہے۔تنقید کیلئے قینچی کی طرح چلنے والی زبانوں کو اس وقت تالا لگ جاتا ہے جب کارکردگی کے باعث مصباح الحق کی تعریف کرنا ضروری ہوجاتا ہے جبکہ تنقید کرتے ہوئے صفحات کالے کرنے والے قلموں کی سیاہی اُس وقت خشک ہوجاتی ہے جب پاکستانی کپتان قومی ٹیم کیلئے جیت کا سامان کررہا ہوتا ہے ۔

پانچ میچز کی سیریز میں چار نصف سنچریاں مصباح الحق کی مستقل مزاجی کا ثبوت ہیں جس نے ویسٹ انڈیز کے خلاف تینوں فتوحات میں اہم کردار ادا کیا اور جس ایک میچ میں مصباح الحق 17 رنز بنا کر آؤٹ ہوا وہاں پاکستان کو شکست کا سامنا کرنا پڑا ورنہ بقیہ چاروں میچز میں ویسٹ انڈین ٹیم پاکستان کو شکست دینے میں ناکام رہی۔دورہ جنوبی افریقہ سے لے کر ویسٹ انڈیز کے ٹور تک مصباح الحق نے 16 میچز میں 9 نصف سنچریاں اسکور کی ہیں جو نہایت عمدہ اور ٹاپ کلاس پرفارمنس ہے اور جس نے مصباح الحق کو رواں سال ون ڈے انٹرنیشنل مقابلوں میں سب سے زیادہ رنز کا بھی مالک بنادیا ہے جبکہ نصف سنچریوں کی یہ تعداد بھی دیگر کھلاڑیوں سے زیادہ ہے اور سب سے دلچسپ بات یہ ہے کہ ایسی مستقل مزاج پرفارمنس ٹیم کے سب سے معمر رکن کی جانب سے آرہی ہے جس پر ہر وقت کپتانی سے ہٹانے اور ٹیم سے باہر کرنے کی تلوار لٹکتی رہتی ہے۔

مصباح الحق پر سست روی کا الزام لگانے والے یہ بات اکثر بھول جاتے ہیں کہ اکثر اوقات اننگز کے ابتدائی اوورز میں ہی دو یا تین وکٹیں گر جانے کے باعث مصباح الحق کو میدان میں قدم رکھنا پڑتا ہے اور اس نزاعی صورتحال میں پاکستانی کپتان ماردھاڑ کرنے کا خطرہ مول نہیں لے سکتا بلکہ اسے ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے پاکستان کو جتوانے یا پہلی اننگز میں بیٹنگ کرنے کی صورت میں اچھا مجموعہ دلوانے کی کوشش کرنا ہوتی ہے جبکہ دوسری جانب جب ٹیم کو مصباح الحق کی جانب سے جارحانہ بیٹنگ کی ضرورت ہوتی ہے تو اس وقت بھی پاکستانی کپتان مایوس نہیں کرتا جس کا ثبوت بارش سے متاثرہ سیریز کا چوتھا ون ڈے ہے جہاں مصباح الحق نے آٹھ سے زائد رنز کا مطلوبہ رن ریٹ حاصل کرتے ہوئے قومی ٹیم کو کامیابی سے ہمکنار کیا۔

دورہ جنوبی افریقہ سے لے کر ویسٹ انڈیز کے ٹور تک ٹاپ آرڈر مسلسل ناکامی کا شکار ہورہا ہے جس کی وجہ سے مڈل آرڈر پر دباؤ بڑھ جاتا ہے جہاں مصباح الحق کا ساتھ دینے کیلئے صرف جونیئر بیٹسمین ہی ہیں جن سے بہت زیادہ توقعات وابستہ نہیں کی جاسکتی لیکن ٹاپ آرڈر کی اس مسلسل ناکامی کے ساتھ مصباح الحق بھی مسلسل عمدہ کارکردگی دکھانے کیلئے کمر بستہ ہے جن کی میدان کے وسط میں موجودگی میں دیگر کھلاڑیوں کے اعتماد میں بھی اضافہ کرتی ہے مگر مضحکہ خیز بات یہ ہے کہ ٹیم کیلئے سب سے زیادہ اچھی کارکردگی دکھانے والے کھلاڑی کو ہی سب سے زیادہ تنقید کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے حالانکہ حالیہ عرصے میں ملنے والی کامیابیوں کا محور اور مرکز مصباح الحق ہی رہا ہے۔

ویسٹ انڈیز میں مصباح الحق کی فتح گر کارکردگی نے یقینا کئی سابق کھلاڑیوں اور ناقدین کو بغلیں جھانکنے پر مجبور کردیا ہے جو اس سیریز میں مین آف دی سیریز کا ایوارڈ حاصل کرتے ہوئے اپنے کیرئیر کی بہترین رینکنگ نمبر سات پر پہنچ گیا ہے اور شاید پاکستانی کپتان پر طنز کرنے والوں کو بھی سکون مل گیا ہو جو ’’ٹک ٹک‘‘ کی گردان کرتے نہیں تھکتے۔ مصباح الحق کو بیٹنگ لائن کی ناکامی کے باعث ’’ٹک ٹک‘‘ کا سہارا لینا پڑتا ہے جو صورتحال پر قابو پانے کے بعد ’’ٹھک ٹھک‘‘ اور پھر بالرز کی ’’ٹھکائی‘‘ میں بدل جاتی ہے ۔پاکستانی ٹیم کو فی الوقت مصباح الحق جیسے کھلاڑی اور کپتان کی بہت زیادہ ضرورت ہے جو نا صرف لیڈنگ فرام فرنٹ کی مثال ہے بلکہ اپنی مستقل مزاج پرفارمنس سے قومی ٹیم کی کامیابیوں کا مرکزی کردار بھی بنا ہوا ہے ۔جس طرح مصباح الحق میدان میں اپنی پوری جان لڑا کر پاکستانی ٹیم کوکامیابی دلوانے کی بھرپور کوشش کرتا ہے اسی طرح ٹی وی کے سامنے بیٹھے لاکھوں شائقین اور سابق کھلاڑیوں کو بھی پاکستانی کپتان کو اپنے دلوں میں جگہ دینے اور سراہنے کی بھرپور کوشش کرنی چاہیے۔

Facebook Comments