جونٹی کے ہاتھوں انضمام کا رن آؤٹ عالمی کپ 92ء کا یادگار ترین منظر تھا: سچن تنڈولکر

عالمی کپ 1992ء کی یادوں کو تازہ کرنے کے لیے بین الاقوامی کرکٹ کونسل کے اہم کھلاڑیوں سے انٹرویوز کا سلسلہ جاری ہے جس میں عمران خان اور انضمام الحق کی یادیں تو آپ کی نظروں سے گزری ہی ہوں گی اور اب لٹل ماسٹر سچن تنڈولکر نے بھی مذکورہ ٹورنامنٹ کے حوالے سے اپنی یادوں کو پیش کیا ہے۔

ایسا رن آؤٹ شاذونادر ہی دیکھنے کو ملے (فائل فوٹو)

ایسا رن آؤٹ شاذونادر ہی دیکھنے کو ملے (فائل فوٹو)

بین الاقوامی کرکٹ کونسل کی جانب سے بھیجے گئے اعلامیہ کے مطابق سچن کا کہنا ہے کہ 1987ء میں میں ایک بال بوائے تھا، اور میرے لیے تو یہ بہت ہی بڑی خبر تھی کہ میں 1992ء کا عالمی کپ کھیلوں گا۔ مجھے آج بھی یاد ہے کہ عالمی کپ میں شریک تمام ٹیمیں ڈارلنگ ہاربر میں عشائیے پر اکٹھی ہوئی تھیں، ان ٹیموں میں بڑے بڑے کھلاڑی موجود تھے اور میرے لیے ان کو ایک ساتھ دیکھنا ایک بہت خوشگوار احساس تھا۔

تنڈولکر نے کہا کہ اس میگاایونٹ میں این بوتھم، گراہم گوچ، کیپلر ویسلز، عمران خان، جاوید میانداد، وسیم اکرم، رچی رچرڈسن، میلکم مارشل اور کرٹلی ایمبروز کے خلاف کھیلنا کسی اعزاز سے کم نہیں تھا۔ مجھے بہت مایوسی ہوئی تھی کہ ویسٹ انڈین ٹیم میں عظیم ویوین رچرڈ شامل نہ تھے۔ وہ میرے ہیرو تھے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی ٹیم میں عمران خان، جاوید میانداد اور وسیم اکرم جیسے کھلاڑی تھے، گو کہ میں ان کے خلاف 1989ء میں کھیل چکا تھا لیکن ایک عالمی کپ میں پاکستان کے ان کھلاڑیوں کا سامنا کرنے کا احساس ہی جدا تھا۔

انہوں نے پہلی مرتبہ ایک روزہ کرکٹ میں جلوہ گر ہونے والے جنوبی افریقہ کے بارے میں کہا کہ اس وقت ہر کوئی ایلن ڈونلڈ کی تعریفیں کرتا نظر آتا تھا اور پھر جونٹی رہوڈز کی فیلڈنگ میں پھرتیاں، انضمام الحق کو کیا گیا رن آؤٹ تو اس عالمی کپ کا سب سے بہترین لمحہ تھا، ایسا رن آؤٹ بار بار دیکھنے میں نہیں آتا۔ پھر اس عالمی کپ میں برائن لارا، وسیم اکرم، انضمام الحق، مارک گریٹ بیچ اور مارٹن کرو جیسے کھلاڑیوں نے شاندار کارکردگی دکھائی۔ وسیم اکرم کے کیريئر کا تو وہ عروج تھا جبکہ انضمام نے اہم ترین اننگز کھیلی۔

انہوں نے کہا کہ مجھے یاد ہے کہ اس ٹورنامنٹ میں پہلی بار اسپنرز کے ذریعے باؤلنگ کا آغاز بھی کیا گیا، جو اس سے پہلے کرکٹ میں نہیں ہوتا تھا۔

سچن تنڈولکر نے عالمی کپ 1992ء میں 283 رنز بنائے تھے لیکن بھارتی ٹیم پورے ٹورنامنٹ میں صرف دو ہی میچز جیت پائی تھی۔

ٹنڈولکر نے 1992 کے کرکٹ ورلڈکپ میں 283 رنز اسکور کیے تھے تاہم بھارتی ٹیم کی کارکردگی بہت مایوس کن رہی اور سوائے پاکستان کے خلاف یادگار فتح کے انہیں کچھ خاص نہ ملا۔

اب 2015ء کے عالمی کپ میں پاکستان اور بھارت ایک ہی گروپ میں ہیں اور دونوں ٹیمیں 15 فروری 2015ء کو ایڈیلیڈ میں آمنے سامنے ہوں گی۔

Facebook Comments