دورۂ زمبابوے کے لیے قومی ٹیم کا اعلان، عمران فرحت اور فیصل اقبال شامل

پاکستان نے دورۂ زمبابوے کے لیے اپنی تینوں طرز کی ٹیموں کا اعلان کر دیا ہے، اور نہ چاہتے ہوئے بھی ہمیں ایسا لگتا ہے کہ نوجوان کھلاڑیوں کو صرف خانہ پری کے لیے شامل کیا گیا ہے۔ اللہ نہ کرے ایسا ہو، اس دورے میں نوجوان کھلاڑیوں کو موقع ملے اور وہ اپنی کارکردگی کے جوہر بھی دکھائیں لیکن چند ایسے پرانے چہروں کی شمولیت 'دودھ میں مینگنی' جیسی لگتی ہے، جو آزمائے بلکہ لاکھ مرتبہ آزمائے ہوئے ہیں۔ جی ہاں! عمران فرحت اور فیصل اقبال کو دورے کے لیے ٹیسٹ ٹیم میں جگہ دی گئی ہے، وہ بھی اس حال میں کہ ٹیم میں موجودہ بلے بازوں کا ساتھ دینے کے لیے یونس خان اور اظہر علی بھی موجود ہوں گے۔

عمران فرحت اور فیصل اقبال کی شمولیت نے کئی پیشانیوں پر بل ڈال دیے ہیں (تصویر: AFP)

عمران فرحت اور فیصل اقبال کی شمولیت نے کئی پیشانیوں پر بل ڈال دیے ہیں (تصویر: AFP)

علاوہ ازیں دورے کے لیے اس اعلان کے ذریعے نوازنے کے کلچر کی تاریخ میں بھی ایک نئے باب کا اضافہ کیا گیا ہے، وہ ہے معین خان کی دورے کے لیے بطور ٹیم مینیجر تقرری۔ سابق وکٹ کیپر کپتان حال ہی میں عدالت کی مداخلت کے باعث چیف سلیکٹر کا عہدہ حاصل نہیں کرپائے تھے لیکن بورڈ نے انہیں ٹور مینیجر بنا کر کافی حد تک ازالہ کر دیا ہے۔

بہرحال، بات کرتے ہیں اعلان کردہ دستے کی، جس میں ٹیسٹ اور ایک روزہ اسکواڈز کی قیادت بدستور مصباح الحق اور ٹی ٹوئنٹی کی محمد حفیظ کریں گے۔ سب سے پہلا امتحان ٹی ٹوئنٹی ٹیم کا ہوگا جو دورے کا آغاز 23 اور 24 اگست کو دو ٹی ٹوئنٹی میچز سے کرے گی۔ اس دستے میں قابل ذکر اضافہ نوجوان بلے باز صہیب مقصود اور آل راؤنڈر انور علی کا ہے۔

2006ء کے انڈر 19 ورلڈ کپ میں تاریخی کارکردگی دکھانے والے انور علی کو پاکستان کے باصلاحیت ترین کھلاڑیوں میں شمار کیا جاتا ہے، لیکن بدقسمتی سے انہیں ملک کی نمائندگی کا موقع بہت ہی کم دیا گیا۔ اگر انہیں ٹیم میں شامل بھی کیا گیا تو وہ محض سیر سپاٹے تک ہی محدود رہا۔ اس مرتبہ انور علی کو ایک روزہ ٹیم میں وہاب ریاض کی جگہ دی گئی ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ جنید خان، محمد عرفان اور سعید اجمل کی موجودگی میں وہ فائنل الیون میں آ بھی پاتے ہیں یا نہیں۔ ان کے علاوہ صہیب مقصود ٹی ٹوئنٹی دستے کا حصہ ہیں۔ صہیب مقصود کو حماد اعظم کی جگہ ٹیم میں شامل کیا گیا ہے۔ حالیہ دورۂ ویسٹ انڈیز میں اپنی بہترین کارکردگی سے پاکستان کو ناقابل یقین انداز میں میچ جتوانے والے ذوالفقار بابر اور حارث سہیل کو ٹی ٹوئنٹی دستے میں برقرار رکھا گیا ہے۔

ایک روزہ ٹیم کو دیکھا جائے تو وہ بلے بازی کے لحاظ سے اتنی مضبوط نہیں دکھائی دیتی۔ کپتان مصباح الحق کے علاوہ پاکستان کا کوئی بلے باز فارم میں نہیں اور درمیان میں مصباح کے ساتھ کم از کم دو ایسے بلے بازوں کی ضرورت ہے جو طویل اننگز کھیل سکیں، جیسا کہ اظہر علی اور یونس خان لیکن ان دونوں کو دورے کے لیے صرف ٹیسٹ دستے میں منتخب کیا گیا ہے جبکہ ایک روزہ میں یہ ذمہ داری اسد شفیق کو سونپی گئی کہ وہ ٹاپ آرڈر کی ناکامی کی صورت میں مصباح الحق کا ساتھ دیں۔ لیکن اگر وہ بھی ناکام ہوئے تو گویا 'آخری سپاہی' صرف مصباح ہی ہوں گے۔

حیرتناک امر یہ ہے کہ پاکستان نے ایک مرتبہ پھر محدود اوورز کے مقابلوں کے لیے وکٹ کیپر نہ لے جانے کا فیصلہ کیا ہے۔ گو کہ دورۂ ویسٹ انڈیز میں محمد رضوان ہمراہ تھے لیکن وکٹوں کے پیچھے ذمہ داری صرف عمر اکمل ہی نے نبھائی اور زمبابوے میں بھی کچھ ایسا ہی دیکھنے کو ملے گا۔

پاکستانی ٹیم سب سے آخر میں دو ٹیسٹ میچز کھیلے گی جس کے لیے اعلان کردہ دستے میں عمران فرحت اور فیصل اقبال کی شمولیت کا حیران کن فیصلہ بھی موجود ہے اور ان کے علاوہ خرم منظور کو بھی جگہ دی گئی ہے۔ دستے میں یونس خان اور اظہر علی کی صورت میں دو ایسے بلے باز بھی موجود ہیں جو طویل اننگز کھیل سکتے ہیں۔ جبکہ باؤلنگ کے شعبے میں عبد الرحمٰن کی صورت میں ایک اسپن آپشن موجود ہوگا۔ راحت علی اور احسان عادل ضرورت پڑنے پر جنید خان اور وہاب ریاض کا ساتھ دینے کے لیے موجود ہوں گے۔

دورے میں ٹیسٹ دستہ ہی واحد ہوگا جس میں عدنان اکمل کی صورت میں ایک خاص وکٹ کیپر موجود ہوگا۔

آج چند گھنٹے قبل ہی زمبابوے نے پاکستان کے دورے کی باضابطہ طور پر تصدیق کی جس کے مطابق دونوں ٹیمیں 23 اگست سے 14 ستمبر کے درمیان دو ٹیسٹ، تین ون ڈے اور دو ٹی ٹوئنٹی میچز کھیلیں گی۔

یہ سیریز اصل میں گزشتہ سال دسمبر میں کھیلی جانی تھی لیکن پاکستان اور بھارت کے درمیان تاریخی سیریز طے ہو جانے کی وجہ سے اسے موخر کر دیا گیا تھا۔

دورۂ زمبابوے کے لیے اعلان کردہ ٹیمیں

ٹیسٹ دستہ: مصباح الحق (کپتان)، احسان عادل، اسد شفیق، اظہر علی، جنید خان، خرم منظور، راحت علی، سعید اجمل، عبد الرحمٰن، عدنان اکمل (وکٹ کیپر)، عمران فرحت، فیصل اقبال، محمد حفیظ، وہاب ریاض اور یونس خان۔

ایک روزہ دستہ: مصباح الحق (کپتان)، احمد شہزاد، اسد شفیق، اسد علی، انور علی، جنید خان، حارث سہیل، سعید اجمل، شاہد آفریدی، عبد الرحمٰن، عمر اکمل (وکٹ کیپر)، عمر امین، محمد حفیظ، محمد عرفان اور ناصر جمشید۔

ٹی ٹوئنٹی دستہ: محمد حفیظ (کپتان)، احمد شہزاد، اسد علی، انور علی، جنید خان، حارث سہیل، ذوالفقار بابر، سعید اجمل، سہیل تنویر، شاہد آفریدی، صہیب مقصود، عمر اکمل (وکٹ کیپر)، عمر امین، محمد عرفان اور ناصر جمشید۔

Facebook Comments