[گیارہواں کھلاڑی] سوال جواب قسط 20

رمضان کی مبارک اور عید کی پرمسرت ساعتوں کے بعد "گیارہواں کھلاڑی" ایک مرتبہ پھر حاضر خدمت ہے۔ پاکستان ویسٹ انڈیز کے خلاف کامیابی کے بعد اب دورۂ زمبابوے کے لیے پر تول رہا ہے اور اس کے ساتھ ہی کرکٹ کا ایک مستقل سلسلہ شروع ہوگا جس کے ساتھ کرکٹ بخار اپنے عروج پر پہنچے گا۔ بس کچھ ایسے ہی دنوں کا انتظار ہے کہ جب بھرپور کرکٹ ہو۔ اس حوالے سے اگر کوئی سوال آپ کے ذہن میں ہے تو ہم سے پوچھئے ہم "گیارہواں کھلاڑی" کی اگلی قسط میں آپ کو جواب دینے کی کوشش کریں گے، تب تک آپ قارئین کے بھیجے گئے مندرجہ ذیل سوالات اور ان کے جوابات دیکھیں۔

سوال: میرا یہ سوال ہے کہ وہ کون سا کھلاڑی ہے جس نے اپنے پہلے ہی مقابلے میں میچ کے بہترین کھلاڑی کا اعزاز حاصل کیا ہو۔ منیر احمد بھیو

جواب: ٹیسٹ کرکٹ میں اب تک 35 کھلاڑیوں نے اپنے پہلے ہی ٹیسٹ میں میچ کے بہترین کھلاڑی کا اعزاز حاصل کیا ہے۔ آخری بار بھارت کے شیکھر دھاون نے آسٹریلیا کے خلاف اسی سال کے آغاز میں یہ ایوارڈ جیتا تھا۔ ان 35 کھلاڑیوں میں سے 5 کا تعلق پاکستان سے ہے جن میں محمد زاہد، اظہر محمود، محمد سمیع، یاسر حمید اور فواد عالم شامل ہیں۔

محمد زاہد نے پہلے ہی ٹیسٹ میں 11 وکٹیں لے کر میچ کے بہترین کھلاڑی کا اعزاز حاصل کیا تھا (تصویر: AFP)

محمد زاہد نے پہلے ہی ٹیسٹ میں 11 وکٹیں لے کر میچ کے بہترین کھلاڑی کا اعزاز حاصل کیا تھا (تصویر: AFP)

ایک روزہ کرکٹ میں اب تک 55 کھلاڑی اپنے پہلے ہی ون ڈے میں مین آف دی میچ ایوارڈ حاصل کر چکے ہیں۔ آخری بار بھارت کے موہیت شرما نے زمبابوے کے خلاف حال ہی میں یہ اعزاز حاصل کیا۔ ان55 کھلاڑیوں میں سے 8 کا تعلق پاکستان سے جن میں عبد القادر، منظورالٰہی، ذاکر خان، سلیم الٰہی، شاداب کبیر، شاہد انور، شاہد نذیر اور ناصر جمشید شامل ہیں۔

ٹی ٹوئنٹی کرکٹ میں اب تک 25 کھلاڑی اپنے پہلے مقابلے میں میچ کے بہترین کھلاڑی کا اعزاز لے چکے ہیں۔ آخری بار بنگلہ دیش کے الیاس سنی نے 2012ء میں آئرلینڈ کے خلاف یہ ایوارڈ جیتا تھا۔ ان 25 کھلاڑیوں میں شاہد آفریدی پاکستان کی طرف سے پہلے کھلاڑی ہیں جو اپنے پہلے ٹی ٹوئنٹی ہی میں میچ کے بہترین کھلاڑی قرار پائے۔ یہ 28 اگست 2006ء میں برسٹل کے مقام پر انگلستان کے خلاف کھیلا گیا پاکستان اور شاہد آفریدی کا پہلا ٹی ٹوئنٹی مقابلہ تھا۔

سوال: پاکستان نے اب تک کتنے ایک روزہ میچز کھیلے ہیں، اور کتنے جیتے اور کتنے ہارے ہیں؟ عبد الہادی سہندڑو

جواب: پاکستان نے اب تک 796 ایک روزہ مقابلے کھیلے ہیں جن میں سے 426 جیتے اور 345 ہارے ہیں جبکہ 8 میچ ٹائی ہوئے اور 17 مقابلے مکمل نہ ہو سکے۔ آسٹریلیا نے سب سے زیادہ یعنی 500 ایک روزہ مقابلے جیت رکھے ہیں جس کے بعد پاکستان کا نمبر آتا ہے۔ ان دونوں کے بعد بھارت 418 ایک روزہ مقابلے جیت چکا ہے ان کے علاوہ کوئی ٹیم 400 سے زیادہ ایک روزہ مقابلے نہیں جیت سکی۔ پاکستان نے سری لنکا کے خلاف 77، بھارت کے خلاف 71، ویسٹ انڈیز کے خلاف 55 اور نیوزی لینڈ کے خلاف 51 جیتے ہیں۔

شکست خوردہ مقابلوں میں سب سے زیادہ ویسٹ انڈیز کے خلاف ہارے گئے جن کی تعداد 68 ہے، جبکہ پاکستان نے آسٹریلیا کے خلاف 54، بھارت اور سری لنکا کے خلاف 50، 50 مقابلے ہار رکھے ہیں۔

اگر مقام کے اعتبار سے جیتا جائے تو پاکستان نے 108 مقابلے اپنے ہی ملک میں جیتے جبکہ 91 فتوحات متحدہ عرب امارات میں، 37 آسٹریلیا میں، 28، 28 انگلستان اور سری لنکا میں حاصل کیں۔ جبکہ ہارے گئے مقابلوں میں 64 پاکستان میں، 59 آسٹریلیا میں اور 50 عرب امارات میں ہارے۔

سوال: کیا پاکستان کی ٹیم کبھی آئی سی سی کی درجہ بندی میں نمبر ایک پوزیشن پر آئی ہے؟ اور اگر آئی ہے تو اس وقت پاکستان کا کپتان کون تھا؟ ملک عدیل

جواب: بین الاقوامی کرکٹ کونسل کی طرف سے ٹیسٹ کرکٹ کی باضابطہ درجہ بندی کا آغاز 2003ء میں کیا گیا اور ایک روزہ مقابلوں کا 2002ء میں۔ لیکن اب تک پاکستان کی ٹیم درجہ بندی میں پہلی پوزیشن حاصل نہیں کر سکی۔ اس دوران ٹیسٹ میں پاکستان کی بہترین درجہ بندی تیسری ہے جو اس نے 2004ء اور 2006-07ء میں حاصل کی۔ اور اسی عرصے کے دوران ایک روزہ میں پاکستان کی بہترین پوزیشن دوسری رہی جو اگست 2002ء میں تھی۔ 2006ء میں پاکستان ایک روزہ درجہ بندی میں تیسرے نمبر پر تھا۔

پاکستان اگست 1988ء میں ٹیسٹ کی درجہ بندی میں نمبر ایک پر آیا تھا جب عمران خان کپتان تھے (تصویر: PA Photos)

پاکستان اگست 1988ء میں ٹیسٹ کی درجہ بندی میں نمبر ایک پر آیا تھا جب عمران خان کپتان تھے (تصویر: PA Photos)

اب 2002-03ء سے پہلے والی صورتحال پر نظر ڈالتے ہیں جس کو آئی سی سی نے خود ترتیب دیا ہے جس کے مطابق پاکستان اگست 1988ء میں ٹیسٹ کی درجہ بندی میں پہلی پوزیشن پر تھا۔ اس وقت ٹیم کی قیادت عمران خان کے پاس تھی۔ اس عرصے کے دوران جنوری 1988ء سے دسمبر 1989ء تک پاکستان زیادہ عرصہ دوسری پوزیشن پر براجمان رہا جبکہ ویسٹ انڈیز نمبر ایک تھا۔ ایک روزہ درجہ بندی میں پہلی بار اول نمبر دسمبر 1990ء میں رہا جبکہ جنوری 1991ء میں پاکستان ایک مرتبہ پھر پہلے نمبر پر آیا۔ اس دوران ایک روزہ میں پہلی پوزیشن کا کریڈٹ عمران خان اور جاوید میانداد دونوں کو جاتا ہے۔ پھ راگست 1991ء میں ایک مرتبہ پھر پاکستان نمبر ایک پر آیا۔ 1982-83ء میں پاکستان کی ایک روزہ پوزیشن دوسری تھی اور جنوری 1986ء سے دسمبر 1987ء تک بھی پاکستان نے زیادہ عرصہ دوسری پوزیشن پر گزارا۔

سوال: کن پاکستانی کھلاڑیوں کو اب تک آئی سی سی کا 'سال کے بہترین کھلاڑی' اور 'سال کے بہترین ٹیسٹ کھلاڑی' کا اعزاز مل چکا ہے؟ احسان محمد

جواب: آئی سی سی نے 2004ء سے سالانہ ایوارڈز کا سلسلہ شروع کیا ہے جس کے مطابق ہر اگست سے اگلے سال جولائی کے درمیانی عرصے میں ہونے والی کرکٹ سرگرمیوں کو جانچ کر ٹیم کے کھلاڑیوں اور امپائرز وغیرہ کو اعزازات سے نوازا جاتا ہے۔

ووٹنگ میں 56 اراکین کی اکیڈمی حصہ لیتی ہے جن کی ترتیب کچھ اس طرح سے ہوتی ہے: 10 موجودہ ٹیسٹ کپتان، 18 آئی سی سی ایلیٹ پینل کے ریفریز اور امپائرز اور 28 سابق لیجنڈری کھلاڑی اور ذرائع ابلاغ کے اراکین۔

2004ء میں 8 مختلف زمروں میں ایوارڈ ترتیب دیے گئے لیکن بدقسمتی سے کوئی بھی پاکستانی کھلاڑی کسی بھی زمرے میں نہ جیت سکا۔

محمد یوسف پاکستان کے واحد کھلاڑی ہیں جنہوں نے 2007ء میں سال کے بہترین ٹیسٹ کھلاڑی کا ایوارڈ جیتا (تصویر: Getty Images)

محمد یوسف پاکستان کے واحد کھلاڑی ہیں جنہوں نے 2007ء میں سال کے بہترین ٹیسٹ کھلاڑی کا ایوارڈ جیتا (تصویر: Getty Images)

2005ء میں بھی 8 مختلف زمروں میں اعزازات دیے گئے اور اس مرتبہ پاکستان کی طرف سے انضمام الحق نے ورلڈ ٹیسٹ الیون اور ورلڈ او ڈی آئی الیون میں جبکہ رانا نوید الحسن نے ورلڈ او ڈی آئی الیون میں جگہ پائی۔

2006ء میں 10 مختلف زمروں میں اعزازات دیے گئے اور اس بار پاکستان کی طرف سے محمد یوسف نے ورلڈ ٹیسٹ الیون میں جگہ بنائی۔

2007ء میں 11 مختلف زمروں میں ایوارڈ دیے گئے۔ اس مرتبہ پاکستان کی طرف سے محمد یوسف نے سال کے بہترین ٹیسٹ کھلاڑی کا اعزاز حاصل کیا۔ یہ پہلا موقع تھا کہ پاکستان آئی سی سی ایوارڈز میں کوئی بڑا اور باضابطہ اعزاز جیتنے میں کامیاب رہا ہو۔ اس کے علاوہ محمد یوسف اور محمد آصف ورلڈ ٹیسٹ الیون میں جگہ بنانے میں بھی کامیاب رہے۔

2008ء میں بھی 11 مختلف زمرے ترتیب دیے گئے لیکن پاکستان کیطرف سے صرف سلمان بٹ ورلڈ او ڈی آئی الیون میں 12 ویں کھلاڑی کی حیثیت سے جگہ بنا سکے۔

2009ء میں 11 مختلف زمروں میں ایوارڈ دیے گئے اور اس مرتبہ پاکستان کی طرف سے علیم ڈار نے سال کے بہترین امپائر کا ایوارڈ حاصل کیا۔ اس کے علاوہ شعیب ملک اور عمر گل ورلڈ او ڈی آئی الیون میں شامل ہوئے۔

2010ء میں 14 مختلف زمروں کے ایوارڈز دیے گئے۔ پاکستان کی طرف سے ایک مرتبہ پھر علیم ڈار نے سال کے بہترین امپائر کا ایوارڈ حاصل کیا ۔ اس کے علاوہ کوئی پاکستانی کسی بھی زمرے میں نہ جیت سکا۔

2011ء میں 12 مختلف زمروں میں دیے گئے اعزازات میں صرف علیم ڈار ہی تھے جنہوں نے مسلسل تیسری بار سال کے بہترین امپائر کا ایوارڈ جیت کر ہیٹ ٹرک مکمل کی۔ ان کے علاوہ عمر گل نے ورلڈ او ڈی آئی الیون میں جگہ پائی۔

2012ء میں آئی سی سی نےایک مرتبہ پھر 12 مختلف زمروں میں اعزازات دیے۔ پاکستان کی طرف سے سعیداجمل نے ورلڈ ٹیسٹ الیون اور او ڈی آئی الیون دونوں میں جبکہ شاہد آفریدی نےاو ڈی آئی الیون میں جگہ پائی۔ لیکن کوئی پاکستانی کھلاڑی کوئی بڑا اعزاز حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکا۔

یوں محمد یوسف اور علیم ڈار ہی پاکستان کے واحد نمائندہ ہیں جنہوں نے گزشتہ 9 تقاریب میں پاکستان کی جانب سے کوئی بڑا اعزاز حاصل کیا ہو۔

Facebook Comments