صہیب مقصود، پاکستان کے 55 ویں ٹی ٹوئنٹی کھلاڑی بن گئے

پاکستان کے دورۂ زمبابوے کی اہمیت نتائج کے اعتبار سے تو شاید اتنی زیادہ نہ ہو لیکن نسبتاً کمزور ٹیموں کے خلاف نوجوان کھلاڑیوں کو آزمانے کو دیکھیں تو یہ دورہ بہت اہمیت کا حامل ہے۔ پاکستان نے تینوں طرز کی اعلان کردہ ٹیموں میں نوجوان کھلاڑیوں کو بھی طلب کیا ہے، گو کہ ان کی تعداد پر چند حلقے مطمئن نہیں تھے لیکن پہلے ہی مقابلے میں پاکستان نے صہیب مقصود کو اپنے ٹی ٹوئنٹی کیریئر کا موقع دے کر اپنے ارادوں کو ظاہر کر دیا ہے۔

صہیب نے دو چھکوں اور ایک چوکے کی مدد سے 26 رنز بنائے (تصویر: PakPassion.net)

صہیب نے دو چھکوں اور ایک چوکے کی مدد سے 26 رنز بنائے (تصویر: PakPassion.net)

ہرارے اسپورٹس کلب میں ہونے والے سیریز کے پہلے ٹی ٹوئنٹی مقابلے میں پاکستان نے ملتان سے تعلق رکھنے والے صہیب کو کھیلنے کا موقع دیا ۔ وہ ٹی ٹوئنٹی بین الاقوامی کرکٹ میں پاکستان کی نمائندگی کرنے والے 55 ویں کھلاڑی بن گئے ہیں۔

صہیب مقصود نے دورۂ زمبابوے کے لیے منتخب ہونے کے بعد کرک نامہ کو ایک خصوصی انٹرویو میں کہا تھا کہ وہ موقع ملنے پر اپنے انتخاب کو درست ثابت کر دکھائیں گے اور خوش قسمتی سے انہیں پہلے ہی مقابلے میں یہ موقع مل گیا۔ وہ ایسے موقع پر میدان میں اترے جب پاکستان محض 51 رنز پر اپنے تین کھلاڑیوں سے محروم ہو چکا تھا۔ ناصر جمشید اور کپتان محمد حفیظ کے بعد جب عمر امین وکٹوں کے پیچھے کیچ دے گئے تو صہیب کو میدان میں اترنے کا موقع ملا۔

پاکستان کے عظیم بلے باز انضمام الحق کے شہر ملتان سے تعلق رکھنے کے علاوہ صہیب مقصود میں انضمام کے کھیل کی جھلک بھی دکھائی دی۔ شاٹس کے انتخاب اور انداز کے علاوہ کسی حد تک دوڑنے میں بھی وہ انضمام کے مماثلت رکھتے ہیں۔ لیکن اچھی بات یہ ہے کہ وہ پہلے بین الاقوامی مقابلے میں رن آؤٹ نہیں ہوئے۔

صرف 16 گیندوں پر دو زبردست چھکوں اور ایک چوکے کی مدد سے 26 رنز بنانے کے بعد وہ زمبابوے کی پھرتیلی فیلڈنگ کا شکار ہوگئے۔ لانگ آف پر کھڑے ووسی سبانڈا ایک سیدھے اور تیز شاٹ کو پکڑنے کے لیے کافی لمبی دوڑ کے بعد کیچ کرنے میں کامیاب ہوگئے۔ یوں صہیب کی اننگز کا خاتمہ ہوا لیکن جتنی دیر وہ کریز پر موجود رہے، پراعتماد انداز سے ان گیندبازوں کا مقابلہ کیا جن کو کھیلنے میں محمد حفیظ اور ناصر جمشید جیسے تجربہ کار کھلاڑی ناکام رہے۔

Facebook Comments