[آج کا دن] ”بازو اور وکٹ توڑ باؤلر“سکندر بخت کا یوم پیدائش

منحنی اور دراز قد گیند باز جس کی بجلی کی سی کوندتی ہوئی اور باہر کو جاتی ہوئی گیندوں نے اسے عالمی شہرت بخشی۔ عمران خان اور سرفراز نواز کے عروج کے عہد میں پاکستان کی ٹیم میں مقام حاصل کرنے والے سکندر بخت 1957ء میں آج ہی کے دن یعنی 25 اگست کو کراچی میں پیدا ہوئے۔

سکندر بخت کے کیریئر کے دو لمحات ایسے ہیں جو 70ء اور 80ء کی دہائی کے کرکٹ پرستاروں کو ہمیشہ یاد رہیں گے۔ ایک انگلستان کے خلاف نمائشی ایک روزہ مقابلے میں حریف کپتان مائیکل بریئرلی کا بازو توڑنا اور دوسرا بھارت کے خلاف 1979ء کے دہلی ٹیسٹ میں 11 وکٹیں حاصل کرنا۔

مائیک بریئرلی کا بازو توڑنے کا واقعہ بھی بہت دلچسپ ہے۔ 1978ء میں جب ان کی زیر قیادت انگلش دستہ پاکستان کے دورے پر آیا تو اس وقت کیری پیکر کا تنازع اپنے عروج پر تھا۔ نظروں کو چکاچوند کر دینے والی کرکٹ میں دنیا کے اہم ترین کھلاڑیوں کو بھاری معاوضوں پر طلب کیا گیا تھا اور پاکستان کے پانچوں بڑے نام عمران خان، ظہیر عباس، مشتاق محمد، آصف اقبال اور ماجد خان کیری پیکر کی ورلڈ سیریز کھیلنے آسٹریلیا گئے اور بورڈ نے سب کھلاڑیوں پر پابندی عائدکردی۔ اس دوران انگلستان کے خلاف اولین دونوں ٹیسٹ میچزبغیر کسی نتیجے تک پہنچے ختم ہوئے اور سیریز کا آخری مقابلہ کراچی میں کھیلا جانا تھا جس سے قبل ایک روزہ نمائشی مقابلہ کراچی جیم خانہ میں ہوا۔

سکندر بخت بہرصورت اپنے آبائی شہر میں ٹیسٹ مقابلہ کھیلنا چاہتے تھے لیکن بورڈ کی جانب نے سیریز جیتنے کے لیے پانچوں کھلاڑیوں کو واپس طلب کرنے کے اعلان نے سکندر کے لیے مسئلے کھڑے کر دیے کیونکہ سرفراز کی موجودگی اور عمران خان کی واپسی سے ان کے ٹیم میں برقرار رہنے کے امکانات ختم ہو جاتے۔ بہرحال، نمائشی ایک روزہ مقابلے میں سکندر بخت نے انگلش کپتان مائیک بریئرلی کو ایک اٹھتی ہوئی گیند پھینکی جسے کھیلنے میں وہ نہ صرف ناکام رہے بلکہ گیند سیدھا ان کی کہنی پر جا لگی۔ وہ وہیں وکٹ پر ہی دراز ہوگئے اور بعد ازاں ان کی ہڈی ٹوٹنے کا انکشاف ہوا۔ یوں فیصلہ کن ٹیسٹ سے پہلے سکندر نے حریف قائد کو چت کر کے کافی شہرت سمیٹی۔ بعد ازاں انگلش کپتان جیفری بائیکاٹ کی دھمکی کہ کیری پیکر کھیلنے والے کھلاڑیوں کو پاکستانی ٹیم میں شامل کیا گیا تو وہ دورہ چھوڑ دیں گے، کام آ گئی اور پاکستان نے ان کھلاڑیوں کو ٹیم میں شامل نہ کیا اور یوں سکندر بخت کو اپنے میدان پر کھیلنے کا موقع ملا۔

ان کے کیریئر کا دوسرا اہم مرحلہ 1979ء کا دورۂ ہند تھا جس کے دہلی ٹیسٹ میں انہوں نے ایک بے جان وکٹ پر بھارتی بلے بازوں کو تگنی کاناچ نچا دیا لیکن مقابلہ نتیجہ خیز نہ ہو سکا۔

دسمبر کے ابتدائی ایام میں ہونے والے اس مقابلے میں پاکستان نے سکندر بخت کی تباہ کن باؤلنگ کی بدولت بھارت کو صرف 126 رنز پر ڈھیر کیا اور بھاری برتری حاصل کی۔ مقابلے کا نتیجہ ضرور پاکستان کے حق میں نکلتا اگر عمران خان زخمی نہ ہوتے، جو پہلی اننگز میں صرف سات اور دوسری میں ایک اوور پھینک پائے۔

بہرحال، سکندر بخت نے بھارت میں کھیلے گئے اپنے پہلے ہی ٹیسٹ میں اپنے وقت کے مایہ ناز کھلاڑیوں سنیل گاوسکر، دلیپ وینگسارکر اور کپل دیو سمیت میچ میں کل 11 وکٹیں حاصل کر کے سرحد کے اُس پار بھی خوب شہرت سمیٹی۔

سکندر بخت نے مجموعی طور پر 26 ٹیسٹ مقابلوں میں پاکستان کی نمائندگی کی جس میں 36 کے اوسط سے 67 وکٹیں انہیں ملیں۔ ان کی بہترین باؤلنگ دہلی ٹیسٹ ہی میں رہی، اننگز میں 69 رنز دے کر 8 وکٹیں اور میچ میں 190 رنز دے کر 11 وکٹیں۔ یہی ان کا میچ میں 10 یا زیادہ وکٹیں حاصل کرنے کا واحد کارنامہ بھی تھا۔ علاوہ ازیں انہوں نے 27 ون ڈے مقابلے بھی کھیلے جہاں 26.06 کے بہتر اوسط کے ساتھ انہوں نے 33 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا اور 34 رنز دے کر 4 وکٹیں حاصل کرنا ان کی بہترین گیندبازی رہی۔

سکندر بخت کرکٹ چھوڑنے کے بعد رواں تبصرہ کار (کمنٹیٹر) کی حیثیت سے مختلف اداروں سے وابستہ رہے اور آجکل کرکٹ ماہر و تبصرہ کار کی حیثیت سے ایک نجی ٹیلی وژن چینل سے وابستہ ہیں۔

Facebook Comments