پاکستان کا نشہ ہرن، زمبابوے کی تاریخی فتح

کہا جاتا ہے کہ کرکٹ میں مقابلہ جتنا مختصر طرز کا ہوگا، ٹیموں کے درمیان فرق بھی اتنا کم ہوتا جائے گا یعنی کہ اگر دو ٹیمیں ٹی ٹوئنٹی طرز میں آمنے سامنے ہوں تو اس میں اپ سیٹ کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں لیکن ہرارے میں ٹی ٹوئنٹی مقابلوں میں چاروں شانے چت ہوجانے کے بعد زمبابوے نے پہلے ایک روزہ مقابلے میں جس طرح کامیابی حاصل کی ہے اس نے اس مفروضے کو غلط ثابت کر دیا اور ہرارے میں 7 وکٹوں کی تاریخی فتح حاصل کر کے پاکستان کے ٹی ٹوئنٹی میں جیت کے نشے کو پہلے ہی ایک روزہ مقابلے میں ہرن کردیا۔

سین ولیمز کا شاندار چھکا اور ایک یادگار فتح (تصویر: AP)

سین ولیمز کا شاندار چھکا اور ایک یادگار فتح (تصویر: AP)

یہ گزشتہ 15 سالوں میں زمبابوے کی پاکستان پر پہلی جیت ہے۔ جب 1998ء میں زمبابوے اپنے عروج پر تھا تو اس نے شیخوپورہ میں ہونے والے ایک روزہ مقابلے میں پاکستان کو 6 وکٹوں سے ہرایا تھا اور اب ہرارے میں اس وقت جب زمبابوے زوال کی اتھاہ گہرائیوں میں ہے، اس نے ہملٹن ماسکازا کی 85 رنز کی شاندار اننگز اور باقی بلے بازوں کی جرات مندانہ کارکردگی کی بدولت ایک شاندار فتح حاصل کی اور سیریز میں ایک-صفر کی برتری بھی حاصل کرلی۔ یہ اکتوبر 2011ء کے بعد کسی بھی ایک روزہ مقابلے میں بھی زمبابوے کی پہلی جیت ہے۔

ماساکازا نے ووسی سبانڈا کے ساتھ 107 رنز کی افتتاحی شراکت داری قائم کی اور اسی نے زمبابوے کو بنیاد فراہم کی۔ اس شراکت داری اور بعد میں کپتان برینڈن ٹیلر اور سین ولیمز کی بلے بازی اس لیے بھی بہت اہمیت کی حامل ہے کہ انہوں نے پاکستان کے مایہ ناز گیندبازوں کا ڈٹ کر مقابلہ کیا۔ محمد عرفان، جنید خان، سعید اجمل، محمد حفیظ اور شاہد آفریدی جیسے گیندباز جو مختلف طرز کی کرکٹ میں ایک مقام رکھتے ہیں، مل کر بھی 245 رنز کا دفاع نہ کرپائے۔

زمبابوے کے اوپنرز کی رفاقت کا اختتام 24 ویں اوور میں اس وقت ہوا جب سعید اجمل نے ووسی سبانڈا کو ایل بی ڈبلیو کیا اور پاکستان کے پاس یہی موقع تھا کہ وہ مقابلے پر اپنی گرفت مضبوط کرے لیکن ماکاساز اور ٹیلر نے پاکستان کو یہ موقع نہ پانے دیا اور دوسری وکٹ پر 69 رنز کی رفاقت نے مقابلے کو دلچسپ مرحلے میں داخل کر دیا۔ سبانڈا 82 گیندوں پر 54 جبکہ ماساکازا 14 گیندوں پر 85 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے تو تمام تر ذمہ داری کپتان کے کاندھوں پر آ گئی اور انہوں نے اسے بخوبی نبھایا۔ اس سفر میں سین ولیمز نے ان کا بھرپور انداز میں ساتھ دیا اور 23 گیندوں پر ایک چھکے اور 4 چوکوں سے مزید 39 رنز کی بہترین باری کھیلی۔ برینڈن ٹیلر 59 گیندوں پر 43 رنز کے ساتھ ناقابل شکست رہے اور زمبابوے نے 49 ویں اوور میں ولیمز کے شاندار چھکے کے ذریعے مقابلہ اپنے نام کیا۔

پاکستان کا "مایہ ناز باؤلنگ اٹیک" صرف تین وکٹیں حاصل کر سکا جن میں سے دو سعید اجمل اور ایک جنید خان کو ملی۔ جنید خان اور شاہد آفریدی سب سے مہنگے باؤلرز ثابت ہوئے جنہوں نے اپنے 9، 9 اوورز میں بالترتیب 55 اور 51 رنز کھائے۔

قبل ازیں پاکستان نے ٹاس جیت کر پہلے بلے بازی کا فیصلہ کیا اور 56 رنز کا سست آغاز پایا۔ احمد شہزاد، جنہوں نے ٹی ٹوئنٹی سیریز میں زمبابوین باؤلرز کو چھٹی کا دودھ یاد دلا دیا تھا، آج گزشتہ ہفتے کی کارکردگی نہ دہرا سکے اور 47 گیندوں پر صرف 24 رنز بنانے کے بعد پراسپر اتسیا کے ہاتھوں آؤٹ ہو گئے۔ ناصر جمشید نے 53 گیندوں پر 27 رنز بنائے اور 80 رنز پر دونوں کھلاڑی پویلین لوٹ چکے تھے۔

اس موقع پر محمد حفیظ اور مصباح الحق کے درمیان 99 رنز کی قیمتی شراکت داری قائم ہوئی۔ محمد حفیظ کی 71 گیندوں پر 70 اور مصباح الحق کی 85 گیندوں پر 83 رنز کی باریوں نے پاکستان کو بہترین پلیٹ فارم مہیا کیا کہ وہ حتمی اوورز میں رنز کی رفتار بڑھا کر زمبابوے کو ایک بڑا ہدف دے لیکن محمد حفیظ کے آؤٹ ہونے اور اس کے بعد دوسرے اینڈ سے وکٹوں کے گرنے سے پاکستان کے مقاصد کو سخت ٹھیس پہنچی۔ مصباح الحق نے اپنی سی کوشش کی لیکن عمر امین کے 1، شاہد آفریدی کے 11، حارث سہیل کے 2 اور سرفراز احمد کے 7 رنز پر آؤٹ ہوجانے کی وجہ سے پیشقدمی کو بہت نقصان پہنچا اور جب 50 اوورز مکمل ہوئے تو 7 وکٹوں کے نقصان پر پاکستان کا اسکور 244 رنز تھا۔

زمبابوے کی جانب سے نوجوان ٹینڈائی چتارا نے اپنے 10 اوورز میں صرف 32 رنز دے کر دو وکٹیں حاصل کیں جبکہ دو وکٹیں برائن وٹوری کو بھی ملیں۔ پراسپر اتسیا نے ایک وکٹ ضرور حاصل کی لیکن وہ بہت مہنگے ثابت ہوئے کیونکہ پاکستانی باؤلرز نے ان سے 60رنز سمیٹے۔ تناشے پنیانگرا نے اپنے 10 اوورز میں صرف 38 رنز دیے اور ان گیندبازوں کی کفایتی باؤلنگ ہی بعد ازاں نتیجے میں اہم عنصر ثابت ہوئی۔

آخر میں ہملٹن ماساکازا میچ کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا۔

اب دیکھنا یہ ہے کہ پاکستان 29 اگست کو اسی میدان میں کس حکمت عملی کے ساتھ آتا ہے کیونکہ پہلے ہی ایک روزہ مقابلوں میں پاکستان کی اسپن باؤلنگ ویسی کارگر نہیں دکھائی دی جیسا کہ وہ فیصلہ کن عنصر کی حیثیت سے ٹی ٹوئنٹی میں تھی۔ دوسری جانب فیلڈنگ کے شعبے میں بھی مزید محنت کی ضرورت ہے ۔ آج جس طرح پاکستانی فیلڈرز نے کیچ چھوڑے اور مس فیلڈ کر کے رنز دیے، اس سے اندازہ ہو رہا تھا کہ ٹی ٹوئنٹی میں جیتنے کے بعد پاکستان نے زمبابوے کو واقعتاً کمزور حریف سمجھ لیا تھا اور جیسے ہی یہ سوچ غالب آئی زمبابوے نے جوابی وار کر کے اپنی صلاحیتوں کا اظہار کردیا۔

Facebook Comments