[آج کا دن] پاکستان کرکٹ تاریخ کا بدترین دن

گزشتہ کئی دہائیوں سے پاکستان کے لیے دورۂ انگلستان ہمیشہ نت نئے تنازعات کا باعث بنتا ہے۔ 1992ء میں بال ٹمپرنگ تنازع اور اس کے بعد 2006ء میں اوول ٹیسٹ کا معاملہ اپنی نہاد میں بہت بڑے معاملات تھے لیکن تین سال پہلے آج کے روز اٹھنے والا معاملہ بلاشبہ کرکٹ کی تاریخ کی سب سے تنازع تھا۔ اسپاٹ فکسنگ اسکینڈل، جس نے پاکستان کرکٹ کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا۔

اسپاٹ فکسنگ تنازع کے چار مرکزی کردار، سلمان بٹ، محمد آصف، محمد عامر اور سٹے باز مظہر مجید

اسپاٹ فکسنگ تنازع کے چار مرکزی کردار، سلمان بٹ، محمد آصف، محمد عامر اور سٹے باز مظہر مجید

سن 2010ء میں آج ہی کے دن انگلستان کے متنازع اخبار "نیوز آف دی ورلڈ"نے دعویٰ کیا تھا کہ پاکستان کے دو باؤلرز محمد آصف اور محمد عامر نے لارڈز ٹیسٹ کے دوران جان بوجھ کر چند نو بالز پھینکی ہیں اور اس معاملے میں کپتان سلمان بٹ بھی شامل تھے۔ ان گیندوں کے بدلے میں ان تینوں کھلاڑیوں نے سٹے باز مظہر مجید سے بھاری رقوم وصول کیں۔

اس خبر کے ساتھ ہی ایک ہنگامہ برپا ہو گیا کیونکہ یہ صرف اخبار میں چھپنے والی خبر نہ تھی بلکہ نیوز آف دی ورلڈ کی ویب سائٹ پر اس کے وڈیو ثبوت تک موجود تھے جس میں چند پاکستانی کھلاڑیوں کو سٹے بازوں سے رقم وصول کرتے تک دکھایا گیا۔

بین الاقوامی کرکٹ کونسل نے تحقیقات کے بعد تینوں کھلاڑیوں پر طویل پابندیاں عائد کیں اور کیونکہ فکسنگ کے جرم میں ملوث ہونے کی کم از کم سزا پانچ سال کی پابندی ہے اس لیے 18 سالہ محمد عامر بھی اپنے کیریئر کے اہم ترین مرحلے پر کرکٹ سے جدا کردیے گئے۔ باقی دونوں کھلاڑیوں سلمان بٹ اور محمد آصف پر بھی کم از کم پانچ سال کی پابندی عائد کی گئی۔ انہیں پابندی کی خلاف ورزی اور انسداد بدعنوانی کے لیے پاکستان کرکٹ بورڈ کا کورس مکمل نہ کرنے پر بالترتیب مزید پانچ اور دو سال کی پابندی بھگتنا پڑے گی۔

معاملہ صرف یہیں تک نہیں رکا، کیونکہ جرم برطانیہ میں سرزد ہوا تھا اس لیے سرکار نے کھلاڑیوں کے خلاف عدالت سے رجوع کیا اور انہیں بدعنوانی و دھوکہ دہی کے مقدمات میں گھسیٹ لیا۔ کئی دنوں تک سماعت کے بعد بالآخر عدالت نے تینوں کھلاڑیوں کو اس قبیح فعل کا مرتکب قرار دیا اور سلمان بٹ کو ڈھائی سال، محمد آصف کو ایک سال اور محمد عامر کو چھ ماہ قید کی سزائیں سنا دیں اور تینوں کھلاڑی اپنی سزائیں برطانیہ میں کاٹنے کے بعد اب وطن واپس آ گئے ہیں اور ذلت آمیز زندگی گزار رہے ہیں۔

محمد آصف تو بہرحال عادی مجرم سمجھے جاتے تھے کیونکہ وہ اس سے قبل بھی منشیات اور نظم و ضبط کی خلاف ورزی کی زد میں آ چکے تھے لیکن سلمان بٹ جیسے پڑھے لکھے فرد کا جان بوجھ کر فکسنگ جیسے جرم میں ملوث ہونا پاکستان کے لیے لمحہ فکریہ تھا۔ نہ صرف یہ کہ سلمان نے خود اس دلدل میں قدم رکھا بلکہ اپنے ساتھ 18 سالہ محمد عامر کو بھی گھسیٹا اور یوں پاکستان اپنے ایک ہونہار گیندباز سے محروم ہو گیا۔ وہ باؤلر کہ جس کے کرکٹ سے جدا ہونے پر مائیکل ہولڈنگ جیسا عظیم گیندباز بھی آبدیدہ ہوگیا۔

محمد عامر نے آئی سی سی کی تحقیقات کے دوران تو زبان نہ کھولی، اور دیگر دونوں ساتھیوں کی طرح خود کو بے گناہ ثابت کرتے رہے لیکن جب معاملہ برطانیہ کی عدالت میں پہنچا توانہوں نے پہلی پیشی سے قبل ہی اعتراف جرم کرلیا لیکن کافی تاخیر ہو چکی تھی۔ اگر وہ یہ اعتراف آئی سی سی کی تحقیقات سے قبل کرتے تو شاید منظرنامہ مختلف ہوتا۔ بہرحال، اب محمد عامر کو ستمبر 2015ء تک انتظار کرنا ہوگا۔

اگر پاکستان کرکٹ کی تاریخ میں کسی دن کو بدترین قرار دیا جائے تو بلاشبہ یہ 28 اگست کا دن ہی ہوگا جب دہشت گردی کے واقعات کی وجہ سے پہلے ہی سے متاثر قومی کرکٹ لب گور پہنچ گئی۔ اگر پاکستان بعد ازاں چند شاندار فتوحات نہ حاصل کرتا اور ٹیم کا شیرازہ نہیں سمٹتا تو خدشہ تھا کہ پاکستان میں کرکٹ کے کھیل کا ہی خاتمہ ہو جاتا۔

Facebook Comments