[باؤنسرز] صہیب مقصود، پراعتماد انداز کاحامل بے مثال بلے باز!

زمبابوے کے خلاف پہلے ٹی20 میں پاکستان کے لیے سب سے بڑی اننگز احمد شہزاد نے کھیلی مگر اس میچ میں ڈیبیو کرنے والے بیٹسمین صہیب مقصود نے جس اعتماد کے ساتھ اپنے کیرئیر کا آغاز کیا وہ قابل دید تھا۔ اپنی چھٹی گیند پر کھاتہ کھولنے کے فوراً بعد لانگ آن کے اوپر جارحانہ انداز میں چھکا لگا کر انہوں نے عزائم کا اظہار کیا ۔صہیب نے اگرچہ 26رنز کی مختصر اننگز کھیلی مگر 16 گیندوں پر ایک چوکا اور دو چھکے لگا کر ملتان کے بیٹسمین نے ٹی وی اسکرین کے سامنے بیٹھے بہت سے شائقین کے علاوہ ماہرین کو بھی اپنا گرویدہ بنالیا بلکہ کچھ لوگوں نے تو جذبات کے عالم میں نوجوان صہیب مقصود کاموازنہ سابق عظیم بلے باز انضمام الحق کے ساتھ بھی کرنا شروع کردیا ہے۔

صہیب مقصود کو صرف ٹی ٹوئنٹی کھلا کر ضایع نہ کیا جائے بلکہ انہيں ایک روزہ اور ٹیسٹ میں بھی جگہ ملنی چاہیے (تصویر: PakPassion.net)

صہیب مقصود کو صرف ٹی ٹوئنٹی کھلا کر ضایع نہ کیا جائے بلکہ انہيں ایک روزہ اور ٹیسٹ میں بھی جگہ ملنی چاہیے (تصویر: PakPassion.net)

26 سالہ صہیب مقصود کا آج ہر کوئی گرویدہ ہورہا ہے اور تجزیہ نگار بزنس میں ماسٹرز ڈگر ی کے حامل اس بیٹسمین کو مستقبل کا بڑا اسٹار بھی قرار دے رہے ہیں مگر چند ماہ پیشتر یہ سب لوگ کہاں تھے جب صہیب مقصود ڈومیسٹک کرکٹ میں رنز کے انبار لگانے کے بعد میڈیا کی سپورٹ کا منتظر تھا؟ مگر آج تعریفوں کے پل باندھنے والوں نے اُس وقت باصلاحیت بلے باز سے منہ موڑے رکھا بلکہ چند ایک نے تو اسے انٹرنیشنل کرکٹ کا ’’مٹیریل‘‘قرار دینے سے بھی انکار کردیا تھا۔

چند ماہ قبل جب لاہور میں سپر ایٹ ٹی 20 کپ کا انعقاد کیا گیا تو اُس ٹورنامنٹ میں ملتان کے کپتان صہیب مقصود نے لاہور لائنز کیخلاف ایک عمدہ اننگز کھیلی اور اپنی بالنگ کا بھی جادو جگایا۔ مجھے اس نوجوان کے بارے میں یہ خبر مل چکی تھی کہ صہیب مقصود کے اسٹروکس ڈیو واٹمور اور کپتان محمد حفیظ کو متاثر کرچکے ہیں مگرٹی 20 کپتان محمد حفیظ نے صہیب کی فٹنس کچھ پریشانی کا اظہارکرتے ہوئے اس نوجوان کو اگلی سیریز میں موقع دینے کی منصوبہ بندی کرلی تھی۔ لاہور لائنز اور ملتان ٹائیگرز کے درمیان کھیلے گئے میچ کے بعد میری محمد حفیظ سے ملاقات ہوئی تو میں نے ’’پروفیسر‘‘سے اس نوجوان بیٹسمین کے بارے میں دریافت کیا تو حفیظ کا کہنا تھا کہ صہیب کا ٹیلنٹ بے مثال ہے جسے اگلے دورے پر قومی ٹیم کا حصہ بنایا جاسکتا ہے۔

محمد حفیظ کے ساتھ ہونے والی اس گفتگو کے بعد میں نے ایک سوشل ویب سائٹ پر لکھا کہ صہیب مقصود اگلی سیریز میں پاکستانی ٹیم کا حصہ ہوگا ۔صہیب مقصود نے ٹی20 فارمیٹ میں عمدہ کارکردگی دکھائی تھی اس لیے محمد حفیظ بھی صہیب کو ٹی20ٹیم میں ہی شامل کرنے کے خواہش مند تھے اور اگلی سیریز سے میری مراد بھی ٹی20سیریز ہی تھی مگر یہ بات لکھنے کی دیر تھی کہ قذافی اسٹیڈیم لاہور کے پریس باکس میں میرے پیچھے بیٹھے ایک غیر ملکی ویب سائٹ کے نمائندے نے فوراً سوال کرڈالا کہ پاکستان کی اگلی سیریز چمپئنز ٹرافی ہے اور کیا سلیکشن کمیٹی صہیب مقصود کو اتنے بڑے ایونٹ کے لیے منتخب کرلے گی؟ تو میں نے اُس ’’نوجوان انٹرنیشنل صحافی‘‘ کو یہی جواب دیا کہ صہیب مقصود کو اگلی ٹی20 سیریز میں موقع ملے گا تو جواباًاس صحافی کا ردعمل ’’مجھے نہیں لگتا‘‘ کی صورت میں سامنے آیا ۔

اسی طرح قومی ٹی 20میں عمدہ پرفارمنس کے بعد میں نے ملتان ٹائیگرز کے کپتان صہیب مقصود کے بارے میں ایک تحریر لکھی جس کا عنوان میں’’صہیب مقصود: ملتان کا ’’ٹائیگر‘‘ جس کے رنز کی بھوک ختم نہیں ہوتی‘‘ اور ایسا کہنا کچھ غلط بھی نہ تھا کہ کسی ٹائیگر کی طرف مخالف باؤلرز پر حملہ آور ہونے والا صہیب مقصود ہر فارمیٹ میں رنز کے انبار لگا رہا تھا۔ چند ماہ پہلے لکھی گئی اُس تحریر میں میں نے واضح طور پر لکھا تھا کہ ’’رواں سیزن میں ٹاپ کلاس پرفارمنس کا مظاہرہ کرنے کے باوجود صہیب مقصود کو چمپئنز ٹرافی کے لیے ابتدائی 30کھلاڑیوں میں شامل نہیں کیا گیا مگر میں پورے وثوق کے ساتھ یہ سطریں لکھ رہا ہوں کہ ملتان کے اس ’’ٹائیگر‘‘ صہیب مقصود کو زیادہ دن تک قومی ٹیم سے دور نہیں رکھا جاسکے گا جس کی رنز کی بھوک کسی طرح بھی ختم نہیں ہورہی‘‘

فروری میں افغانستان کیخلاف سیریز کے لیے پاکستان کی اے ٹیم کے اسکواڈز کی خبرمیں نے رات کو سوشل نیٹ ورک کی ایک ویب سائٹ پر شائع کی تو مجھے تھوڑی دیر بعد ایک ٹیکسٹ میسج موصول ہوا جس میں صرف اتنا لکھا تھا کہ ’’کیا واقعی میرانام بھی ٹیم میں شامل ہے ؟‘‘ اور میں نے جواب میں لکھا ’’ہاں...کیونکہ تم اس چانس کے حقدار ہو‘‘ یہ صہیب مقصود کا ٹیکسٹ میسج تھا جسے اے ٹیم میں شمولیت کا یقین نہیں آرہا تھا کیونکہ ٹیم کے ناموں کی خبر اگلے دن کے اخبارات میں ابھی شائع ہونا تھی۔اس کے بعد صہیب مقصود کیساتھ فون پر کچھ دیر گفتگو ہوئی اور میں نے اس نوجوان کا حوصلہ بڑھاتے ہوئے یہی کہا کہ تم باصلاحیت ہو اور ڈومیسٹک میں پرفارم کرتے ہوئے آرہے ہو اس لیے تم اس موقع کے حقدار تھے ۔صہیب کو جب ملتان اور بہاولپور کی مشترکہ ٹیم میں موقع ملا تو دائیں ہاتھ کے بیٹسمین نے صرف 36بالز پر 9چوکوں کی مدد سے 42رنز کی متاثر کن اننگز کھیل ڈالی۔

قومی ون ڈے کپ میں صہیب نے ملتان ٹائیگرز کی نمائندگی کرتے ہوئے چھ اننگز میں 95کی بھاری بھر کم اوسط کے 475 رنز بنا کر ٹورنامنٹ کے بہترین بیٹسمین کا ایوارڈ حاصل کیا۔ اس میں کراچی ڈولفنز کے خلاف صرف 95 بالز پر 13 چوکوں اور 10 فلک شگاف چھکوں کی آمیزش سے 156رنز کی کیرئیر بیسٹ اننگزبھی شامل تھی۔

دس برس قبل صہیب مقصود نے اپنا فرسٹ کلاس ڈیبیوآف اسپنر کی حیثیت سے کیا مگر ابتدائی دنوں میں ہر طرح کی ناکامی کے بعد صہیب مقصود صرف گریڈ ٹو کرکٹ یا ڈسٹرکٹ کی سطح تک محدود ہوکر رہ گیا۔2007-08ء کے ڈومیسٹک سیزن میں جب صہیب مقصود کی واپسی ہوئی تو وہ بالکل ایک بدلا ہوا کھلاڑی لگ رہا تھا جس نے نیٹ پر کئی کئی گھنٹوں کی مشق کے بعد خود کو ایک عمدہ بیٹسمین کے قالب میں ڈھالا تھا اور قائد اعظم ٹرافی میں اپنے دوسرے ہی میچ میں صہیب مقصود نے کراچی وائٹس کیخلاف چھٹے نمبر پر کھیلتے ہوئے 123رنز کی اننگز کھیل ڈالی۔اس سیزن میں صہیب مقصود نے 12اننگز کے دوران 53.70کی اوسط سے 537رنز بنا کر آف اسپنر سے بیٹسمین تک کا سفر مکمل کرلیااور اب 2012-13ء کا سیزن صہیب کے لیے ٹرننگ پوائنٹ ثابت ہوا جس میں دائیں ہاتھ کے بیٹسمین نے ہزار سے زائد رنز کا سنگ میل عبور کرنے کے ساتھ ون ڈے فارمیٹ میں بھی ٹاپ بیٹسمین کا اعزاز حاصل کیا اور ٹی20میچز میں بھی دیکھنے والوں کو متاثر کیاجس کے بعد صہیب کو دورہ ویسٹ انڈیز کے لیے ٹیم میں شامل کرنے کی کوشش کی مگر فٹنس ٹیسٹ میں ناکامی کے باعث صہیب ویسٹ انڈیز نہ جاسکا۔

صہیب مقصود کی شکل میں کافی عرصے بعد پاکستان کرکٹ کو ایک ایسا بیٹسمین میسر آیا ہے جس کے پاس اسٹروکس کی بھرپور رینج موجود ہے اور وہ خود کو ہر فارمیٹ کے مطابق ڈھال سکتا ہے اور فرسٹ کلاس کرکٹ میں 43سے زائد اور ون ڈے میچز میں 51سے زائد کی اوسط صہیب مقصود کی صلاحیتوں کی عکاس ہے مگر پی سی بی کو چاہیے کہ اس بیٹسمین کو صرف ٹی 20 کرکٹ کھلا کر ضائع نہ کیا جائے بلکہ صہیب کو ون ڈے اور ٹیسٹ ٹیموں میں بھی شامل کرنا چاہیے کیونکہ ملتان کے اس بیٹسمین میں لمبی اننگز کھیلنے کا حوصلہ موجود ہے اوریہ ایسا ٹیلنٹ ہے جسے ضائع کرنے کی پاکستان کرکٹ متحمل نہیں ہوسکتی!!

Facebook Comments