صرف 63 گیندوں پر 156 رنز، آرون فنچ کی طوفانی بیٹنگ اور آسٹریلیا جیت گیا

آرون فنچ کی طوفانی بلے بازی نے آسٹریلیا کو پہلے ٹی ٹوئنٹی مقابلے میں باآسانی رنز سے جتوا دیا لیکن ساؤتھمپٹن کے باسیوں کو ایسی کارکردگی دیکھنے کو ملی جو شاذونادر ہی کوئی بلے باز دکھاتا ہے۔ صرف 63 گیندوں پر 14 چھکوں اور 11 چوکوں سے مزین 156 رنز کی یادگار باری، جس نے کئی ریکارڈز کو بھی اپنے پیروں تلے روندا اور اسکور بورڈ پر 248 رنز کا بھاری بھرکم مجموعہ بھی اکٹھا کیا۔

صرف 63 گیندیں، 14 چھکے، 11 چوکے اور 156 رنز، آرون فنچ کو کیا کہا جائے؟ طوفان!!!! (تصویر: Getty Images)

صرف 63 گیندیں، 14 چھکے، 11 چوکے اور 156 رنز، آرون فنچ کو کیا کہا جائے؟ طوفان!!!! (تصویر: Getty Images)

ایشیز سیریز میں بدترین شکست کے بعد آسٹریلیا کے کوچ ڈیرن لیمن کا کہنا تھا کہ وہ بے ایمانی کرنے والے اسٹورٹ براڈ کو رلا کر رکھ دیں گے۔ گو کہ ان کا اشارہ رواں سال کےآخر میں آسٹریلیا میں ہونے والی جوابی ایشیز سیریز کی جانب تھا لیکن شاید آسٹریلیا کے کھلاڑیوں نے کوچ کے اس "حکم" کو کچھ زیادہ ہی سنجیدہ لے لیا اور ساؤتھمپٹن میں ہونے والے پہلے ٹی ٹوئنٹی میں انگلستان کی قیادت کرنے والے اسٹورٹ براڈ کو واقعی رلا دیا۔ اور یہ فریضہ انجام دینے میں مرکزی کردار تھا آرون فنچ کا، جنہوں نے اپنی پہلی ہی گیندکو چھکے کی راہ دکھائی اور پھر گویا ایک بگولا تھا جو روز باؤل میں گھومتا رہا اور میدان میں ہر سمت چھکوں اور چوکوں کی برسات کرتا رہا۔ انہوں نے نصف سنچری بھی چھکے کے ساتھ مکمل کی اور سنچری بھی۔

بدقسمتی سے آرون ٹی ٹوئنٹی تاریخ کی تیز ترین سنچری کا ریکارڈ نہ توڑ سکے جو بدستور جنوبی افریقہ کے رچرڈ لیوی کے پاس ہے جنہوں نے 45 گیندوں پر تہرے ہندسے کی اننگزکھیلی تھی جبکہ آرون 47 گیندوں پر اس سنگ میل تک پہنچے۔ البتہ وہ 156 رنز کے ساتھ ٹی ٹوئنٹی تاریخ کی سب سے بڑی اننگز کھیلنے میں ضرورت کامیاب رہے۔

آسٹریلوی اننگز کے 10 ویں اوور میں فنچ نے جو روٹ کو مسلسل تین چھکے اور پھر آخری دو گیندوں پر دو چوکے جڑے اور یوں اوور میں 27 رنز لوٹے۔ بعد ازاں 15 ویں اوور میں انہوں نے لیوک رائٹ کو اور 17 ویں اوور میں ڈینی برگس کو دو مسلسل چھکے رسید کیے ۔ جب 18 ویں اوور کی دوسری گیند پر وہ کلین بولڈ ہوئے تو اس وقت آسٹریلیا کا اسکور 226 رنزتک پہنچ چکا تھا۔ فنچ میدان سے لوٹے تو روزباؤل میں موجود تماشائیوں نے کھڑے ہو کر انہیں داد دی۔ بلاشبہ یہ ٹی ٹوئنٹی کی تاریخ کی بہترین اننگز میں سے ایک تھی اور ایشیزمیں ایک مایوس کن شکست کے بعد آسٹریلیا کے حوصلوں کو بلند کرنے والی باری بھی۔

آرون کی اپنی طوفانی اننگز کے دوران دوسری وکٹ پر شان مارش کے ساتھ 55 وکٹوں پر 114 اور پھر شین واٹسن کے ساتھ 41 گیندوں پر 101 رنز کی شراکت داریاں قائم کیں جن میں شان مارش کا حصہ صرف 28 اور واٹسن کا صرف 37 رنز کا تھا۔

آسٹریلیا نے اننگز کے آخری 10 اوورز میں 153 اور 5 اوورز میں 91 رنز بنائے اور20 اوورز کی تکمیل پر اس کا مجموعہ 248 رنز تھا جو ٹی ٹوئنٹی کی تاریخ میں کسی بھی ٹیم کی جانب سے بنایا گیا دوسرا سب سے بڑا اسکور تھا۔

انگلستان کے باؤلرز کی حالت قابل رحم تھی۔ جیڈ ڈرنباخ نے آخر میں دو اچھے اوورز پھینکے لیکن پھر بھی ان کے 4 اوورز میں 34 رنز بنےالبتہ انہیں 3 وکٹیں ضرور ملیں۔ ان کے علاوہ اسٹیون فن کو مقررہ 4 اوورز میں 45، براڈ کو 7 اور ڈینی برگس کو 51 رنز پڑے۔ تینوں کو ایک، ایک وکٹ بھی ملی۔ جبکہ لیوک رائٹ کے دواور جو روٹ کے ایک اوور میں 27، 27 رنز بھی پڑے۔

جواب میں انگلستان کو ابتداء ہی میں پے در پے وار سہنے پڑ ےجب چار گیندوں پر اس کی تین وکٹیں گر گئیں۔ سب سے پہلے مائیکل لمب آؤٹ ہوئے اور اس کے بعد اگلی ہی گیند پر، جو دوسرے اینڈ سے پھینکی گئی، ایلکس ہیلز وکٹ دے گئے۔ رہی سہی کسر ایک چوکا رسید کرنے کے بعد لیوک رائٹ کے آؤٹ ہونے نے پوری کردی اور یوں انگلستان صرف 37 رنز پر اپنی تین ابتدائی وکٹیں گنوا بیٹھا تھا۔ امید کی ایک کرن ایون مورگن کی صورت میں کریز پر موجود تھی لیکن دو گیندوں پر رن بنانے میں ناکامی کے بعد وہ تیسری گیند پر کیچ دے کر چلتے بنے۔ اسکور بورڈ پر صرف 42 کا ہندسہ جگمگا رہا تھا اور اس کے ساتھ 4 وکٹیں گرنا، اتنے بڑے مجموعے کے حصول میں بڑی رکاوٹ دکھائی دیتا تھا۔

اس موقع پر جو روٹ اور روی بوپارہ نے 9 اوورز میں 95 رنز کی اچھی شراکت داری قائم کی۔ اچھی اس لحاظ سے کہ عام حالات میں اسے ایک عمدہ رفاقت کہا جا سکتا تھا لیکن جن حالات سے انگلستان کو آج سامنا تھا اس لحاظ سے یہ 10 رنز فی اوورز سے بھی زیادہ کے اوسط سے بنائی گئی شراکت داری کسی کام کی نہ تھی۔ رن آؤٹ پر موقع ملنے کے کچھ ہی دیر بعد 14 ویں اوور میں روی بوپارا آؤٹ ہو گئے۔ ان کی 29 گیندوں پر مشتمل 45 رنز کی اننگز 4 چوکوں اور ایک چھکے سے مزین تھی۔ دوسرے اینڈ سے جو روٹ کی شاندار بلے بازی جاری تھی لیکن وہ فتح گر ثابت نہ ہوسکی۔

جب آخری اوور کا کھیل شروع ہوا تو وہ 89 پر ناٹ آؤٹ تھے لیکن پہلی گیند پر جوس بٹلر کے دو رنز اور اس کے چھکے اور تیسری گیند پر آؤٹ ہونے سے تین گیندوں تک وہ سامنے نہ آ سکے۔ چوتھی گیند پر نئے آنے والے بلے باز اسٹورٹ براڈ نے چوکا مارا اور پانچویں پر بائے کا رن دوڑے تو ہی موقع ملا کہ جو روٹ سامنے آئیں۔ آخری گیند پر وہ ایک رن ہی بنا پائے اور یوں 90 رنز پر ناقابل شکست میدان سے لوٹے۔ ان کی ایک چھکے اور 13 چوکوں سے سجی اننگز صرف 49 گیندوں پر مشتمل تھی۔

آسٹریلیا کی جانب سے سب سے کامیاب باؤلر مچل جانسن رہے جنہوں نے 4 اوورز میں 41 رنز کے بدلے 2 وکٹیں سمیٹیں جبکہ جوش ہیزل ووڈ کو 43 رنز کے عوض دو وکٹیں ملیں۔ ایک، ایک وکٹ شین واٹسن اور جیمز فاکنر کو بھی ملی۔ واحد محروم گیندباز پاکستانی نژاد فواد احمد رہے جنہوں نے آج آسٹریلیا کی جانب سے اپنے بین الاقوامی کیریئر کا آغاز کیا لیکن مقررہ 4 اوورز میں 43 رنز دینے کے باوجود انہیں کوئی وکٹ نہ ملی۔

انگلش اننگز کے اختتام کے ساتھ آج کے مقابلے میں 40 اوورز میں کل 457 رنز بنے، جو ایک ریکارڈ ہے، اور 12 وکٹیں گریں۔ جبکہ 43 چوکے اور 23 چھکے لگائے گئے یعنی کہ تماشائیوں کی لذت کا تمام تر سامان موجود رہا۔

بہرحال، مرد میدان کون ہو سکتا ہے؟ جی ہاں، آرون فنچ کو ان کی شاندار بلےبازی پر میچ کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا۔

اب سیریز کا دوسرا و آخری ٹی ٹوئنٹی ہفتہ 31 اگست کو چیسٹر-لی-اسٹریٹ میں کھیلا جائے گا ۔ جس کے بعد آسٹریلیا ایک روزہ سیریز کے آغاز سے قبل اسکاٹ لینڈ کے خلاف ایک ٹی ٹوئنٹی مقابلہ کھیلنے کے لیے ایڈنبرا جائے گا۔

Facebook Comments