چھ گیندیں، چھ چھکے

کرکٹ شائقین، خصوصاً نوجوانوں کی اکثریت کو تو یووراج سنگھ کے ہاتھوں اسٹورٹ براڈ کو ایک اوور میں پڑنے والے 6 چھکے ضرور یاد ہوں گے لیکن کرکٹ تاریخ میں پہلی بار یہ انوکھا کارنامہ انجام دینے والے کھلاڑی ویسٹ انڈیز کے شہرۂ آفاق آل راؤنڈر سر گارفیلڈ سوبرز تھے۔ انہوں نے 1968ء میں آج ہی کے دن یعنی 31 اگست کو 6 گیندوں پر 6 چھکے جڑ کر ایک تاریخ رقم کی تھی۔

گیری سوبرز نے 31 اگست 1968ء کو سوانزی کے مقام پر تماشائیوں کو کرکٹ کا وہ شاندار نظارہ دکھایا، جو کیمرے کے آنکھ کی بدولت آج بھی شائقین کرکٹ کے لیے محفوظ ہے۔ وہ ناٹنگھم شائر کی جانب سے گلیمورگن کے خلاف قیادت کر رہے تھے اور 308 رنز 5 کھلاڑی آؤٹ کے مستحکم مجموعے تک پہنچنے کے بعد تیزی سے رنز بڑھاتے ہوئے دن کے آخری لمحات میں حریف ٹیم کے بلے بازوں کو میدان میں اتارنا چاہتے تھے۔ اننگز ڈکلیئر کرنے سے قبل سوبرز تیزی سے رنز بڑھانا چاہتے تھے اور اس مقصد کے حصول کی خاطر ان کے ہاتھوں وہ کارنامہ ہو گیا جو آج بھی تاریخ کے صفحات میں سنہری الفاظ میں رقم ہے۔

بدقسمت گیندباز جس نے کرکٹ میں پہلی بار اوور میں 6 چھکوں کی مار سہی 23 سالہ میلکم ناش تھے۔ بائیں ہاتھ سے سیم باؤلنگ کرنے والے ناش اس روز اسپن گیندبازی میں تجربات کر رہے تھے اور یہ تجربہ انہیں بہت مہنگا پڑا کیونکہ دنیا آج انہیں 991 فرسٹ کلاس وکٹیں لینے والے باؤلر کی حیثیت سے نہیں بلکہ سوبرز کے ہاتھوں 36 رنز کھانے والے باؤلر کی حیثیت سے یاد رکھتی ہے۔

بہرحال، سوبرز نے ناش کی پہلی گیند کو مڈ وکٹ پر میدان سے باہر اور دوسری کو اسی سمت تماشائیوں میں پھینکا۔ تیسری گیند نے لانگ آن کی راہ پکڑی جبکہ چوتھی بیک وارڈ اسکوائر لیگ پر رسی کے اُس طرف جا گری۔

بعد ازاں سوبرز نے بتایا کہ یہ چوتھی گیند پر چھکا تھا جس کے بعد انہوں نے پہلی بار سوچا کہ اب تمام چھ گیندوں پر چھکے لگانے کی کوشش کرنی چاہیے۔ پانچویں گیند بلّے پر ٹھیک سے نہ آئی لیکن لانگ آن پر کھڑے راجر ڈیوس کے کیچ پکڑنے کے باوجود وہ چھکا قرار پایا کیونکہ اس کوشش میں وہ باؤنڈری پر گر گئے تھے۔

اب سوبرز کی نظریں ایسے سنگ میل پر تھیں، جو اس سے پہلے کوئی عبور نہیں کرسکا تھا۔ چھٹی گیند پر جو چھکا انہوں نے لگایا وہ بلاشبہ پورے اوور کا سب سے خوبصورت شاٹ تھا۔ گیند میدان سے کہیں باہر سوانزی کی گلیوں میں جا گری اور کھوگئی۔ ہشاش بشاش سوبرز نے اننگز ڈکلیئر کرنے کا اعلان کیا اور ناش کے چہرے پر مایوسی تھی۔

کھو جانے والی گیند اگلے روز ایک طالب علم نے انتظامیہ کو واپس لا کر دی اور اب یہ گیند ٹرینٹ برج کے عجائب گھر میں موجود ہے۔

یہ وہ زمانہ تھا جب ٹی ٹوئنٹی تو کجا ایک روزہ کرکٹ نے بھی جنم نہیں لیا تھا لیکن سوبرز جنم لے چکا تھا، ایک ایسا آل راؤنڈر جس پر کرکٹ کو ہمیشہ فخر رہے گا۔

Facebook Comments