[اعدادوشمار] مصباح الحق پاکستان کی ٹیسٹ تاریخ کے عمر رسیدہ ترین کپتان

مصباح الحق زمبابوے کے خلاف ہرارے میں آج شروع ہونے والے پہلے ٹیسٹ میں پاکستان کی ٹیسٹ تاریخ کے عمر رسید ترین کپتان بن جائیں گے۔ اس ٹیسٹ کے پہلے روز مصباح کی عمر 39 سال اور 98 دن ہوگی۔

مصباح الحق عمران خان کا سب سے زیادہ عمر میں پاکستان کی قیادت کرنے کا ریکارڈ توڑنے والے ہیں (تصویر: Getty Images)

مصباح الحق عمران خان کا سب سے زیادہ عمر میں پاکستان کی قیادت کرنے کا ریکارڈ توڑنے والے ہیں (تصویر: Getty Images)

اس سے قبل پاکستان کے معمر ترین کپتان رہنے کا اعزاز عمران خان کو حاصل تھا جنہوں نے 39 سال اور 43 دن کی کی عمر میں 7 جنوری 1992ء کو سری لنکا کےخلاف فیصل آباد ٹیسٹ میں پاکستان کی قیادت کی تھی اور یہی ان کے کیریئر کا آخری ٹیسٹ مقابلہ بھی تھا۔

رواں سال اکتوبر میں جب جنوبی افریقہ متحدہ عرب امارات کے دورے پر پاکستان کے خلاف ایک روزہ سیریز کھیلے گا تو مصباح الحق ایک روزہ کرکٹ میں بھی پاکستان کے معمر ترین کپتان بن جائیں گے اور اس طرز میں بھی وہ عمران خان کا سب سے زیادہ عمر میں کپتانی کرنے کا ریکارڈ توڑیں گے۔ واضح رہے کہ مصباح الحق پہلے ہی ٹی ٹوئنٹی کرکٹ میں پاکستان کے معمر ترین کپتان رہنے کا اعزاز رکھتے ہیں۔

مصباح الحق نے 2010ء میں دبئی کے مقام پر جنوبی افیقہ کے خلاف اپنے کیریئر میں پہلی بار ٹیسٹ ٹیم کی قیادت کی۔ اس وقت بھی ان کی عمر 36 سال اور 168 دن تھی۔ یوں انہوں نے سب سے زیادہ عمر میں بحیثیت کپتان پہلا میچ کھیلنے والے کھلاڑی بھی بننے کا قومی ریکارڈ بھی برابر کیا۔ نومبر 1979ء میں آصف اقبال نے بھی 36 سال اور 168 دن کی عمر میں بھارت کے خلاف بنگلور ٹیسٹ میں پہلی بار قیادت کی تھی۔

ذیل میں ہم مصباح الحق اور عمران خان کی کپتانی کے ادوار کو اعدادوشمار کی نظر میں دیکھتے ہیں، چونکہ مصباح الحق عمران خان ہی کا سب سے معمر کپتان کا ریکارڈ توڑ نے جا رہے ہیں، اس لیے صرف مصباح اور عمران ہی کو موضوع بنایا جا رہا ہے۔

مصباح الحق نے اب تک 20 ٹیسٹ میچز میں پاکستان کی قیادت کر رکھی ہےجن میں سے 9 انہوں نے جیتے، 4 ہارے اور 7 بغیر کسی نتیجے تک پہنچے ختم ہوئے۔ مصباح الحق کا جیت/شکست کا تناسب 2.25 ہے اور اگر فیصد کے حساب سے جائزہ لیا جائے تو مصباح کی کپتانی میں پاکستان نے 45 فیصد ٹیسٹ جیتے ہیں، 20 فیصد ہارے ہیں اور 35 فیصد ڈرا ہوئے۔ اس کےمقابلے میں عمران خان نے 48 ٹیسٹ میچز میں پاکستان کی قیادت کی جن میں سے 14 جیتے، 8 ہارے اور 26 ٹیسٹ بغیر کسی نتیجے تک پہنچے ختم ہوئے۔ عمران خان کا جیت/شکست کا تناسب 1.75 ہے جبکہ فیصد کے حساب سے عمران خان کی کپتانی میں پاکستان نے 29.17 فیصد ٹیسٹ میچز جیتے، 16.67 فیصد ہارے جبکہ 54.16 فیصد ڈرا ہوئے۔

مصباح الحق کی کپتانی ٹھنڈے مزاج والی ہے یعنی دفاعی حکمت عملی کی حامل جبکہ عمران خان نے زیادہ تر ٹیسٹ مقابلوں میں جارحانہ کپتانی کی ہے اور نتیجے پر نظر رکھی ہے۔

مصباح کی کپتانی کے دور میں اب تک پاکستان نے 8 ٹیسٹ سیریز کھیلی ہیں جن میں سے 4 جیتیں (انگلستان، بنگلہ دیش، نیوزی لینڈ اور سری لنکا کے خلاف) اور 2 سیریز ہاریں (سری لنکا اور جنوبی افریقہ کے خلاف)۔ واضح رہے کہ پاکستان 2012ء میں سری لنکا کے خلاف 3 میچز کی سیریز 1-0 سے ہارا تھا جس کے پہلے ٹیسٹ میں قیادت محمد حفیظ نے کی تھی جس میں پاکستان کو شکست کا منہ دیکھنا پڑا اور اگلے دونوں مقابلوں میں مصباح الحق کپتان تھے اور دونوں مقابلے ڈرا ہوئے۔ مصباح کے دور میں اب تک 2 سیریز ڈرا پر ختم ہوئیں (ویسٹ انڈیز اور جنوبی افریقہ کے خلاف) اس کے علاوہ 2011ء میں زمبابوے کے دورے میں صرف ایک ٹیسٹ کھیلا گیا تھا اور وہ بھی مصباح کی قیادت میں پاکستان نے جیتا تھا۔

مصباح الحق کی سب سے بڑی کامیابی 2012ء کے اوائل میں اس وقت کے عالمی نمبر ایک انگلستان کے خلاف تھی۔ انگلستان کو متحدہ عرب امارات میں 3 ٹیسٹ میچز کی سیریز میں وائٹ واش کرنا اور 2010ء میں جنوبی افریقہ کے خلاف دو ٹیسٹ میچز کی سیریز 0-0 سے ڈرا کرنا مصباح کے دو کارنامے تصور کیے جاتے تھے۔ جنوبی افریقہ کے خلاف مذکورہ سیریز میں مصباح نے پہلی بار قیادت کے فرائض سر انجام دیے اور یہ اس وقت کھیلی گئی جب اسپاٹ فکسنگ اسکینڈل کی وجہ سے ٹیم منتشر تھی اور سخت دباؤ کا شکار تھی۔ یہی وجہ تھی کہ ماہرین کی رائے میں جنوبی افریقہ یہ سیریز باآسانی جیتے گا لیکن اس وقت مصباح الیون نے جنوبی افریقہ کا ڈٹ کر مقابلہ کیا اور سیریز ڈرا کرنے میں کامیاب رہی۔ جبکہ مصباح کے دور میں ٹیم کی سب سے بری کارکردگی رواں سال دورۂ جنوبی افریقہ میں رہی جہاں اسے 3 ٹیسٹ میچز کی سیریز میں 3-0 کی شکست ہوئی۔

مصباح نے اپنی کپتانی کے دور میں اب تک صرف 4 ٹیسٹ میچز ہارے ہیں جن میں جنوبی افریقہ کے خلاف رواں سال جنوری فروری کی سیریز میں 3 ٹیسٹ ہارے جبکہ ایک ٹیسٹ ویسٹ انڈیز کے خلاف 2011ء کی سیریز میں ہارا۔

عمران خان کی کپتانی کے دور میں پاکستان نے 14 ٹیسٹ سیریز کھیلیں جن میں سے 5 جیتیں (دو بھارت کے خلاف، جبکہ انگلستان، آسٹریلیا اور سری لنکا کے خلاف ایک، ایک سیریز)، 3 سیریز میں عمران الیون کو ناکامی ہوئی (دو آسٹریلیا کے خلاف اور ایک انگلستان کے خلاف) اور 6 سیریز ڈرا ہوئیں (ویسٹ انڈیز اور سری لنکا کے خلاف دو، دو، جبکہ بھارت اور نیوزی لینڈ کے خلاف ایک، ایک سیریز بغیر کسی نتیجے تک پہنچے ختم ہوئی۔ عمران خان کی سب سے بڑی کامیابی آسٹریلیا کو 1982-83ء کی ہوم سیریز میں 3 ٹیسٹ میچز کی سیریز میں وائٹ واش کرنا اور 1986-87ء کی ہوم سیریز میں ویسٹ انڈیز کے خلاف 3 ٹیسٹ میچز کی سیریز میں 1-1 سے برابر کرنا شامل ہیں۔ یہ وہ دور تھا جب ویسٹ انڈیز کے خلاف کسی بھی ٹیم کا سیریز جیتنا تو درکنار ڈرا کرنا بھی ایک خواب ہوتا تھا۔

عمران خان نے اپنے کپتانی کے دور میں کسی بھی ٹیسٹ سیریز میں صرف ایک بار 1 سے زیادہ ٹیسٹ ہارے جب 1982ء میں انگلستان کے خلاف 3 ٹیسٹ میچز کی سیریز میں پاکستان کو 1-2 سے ناکامی ہوئی۔

پاکستان کے ان کپتانوں میں جنہوں نے کم از کم 10 ٹیسٹ میچز میں قیادت کی ہو، ان میں فتوحات کے تناسب سے مصباح الحق کا نمبر چوتھا ہے جنہوں نے اب تک اپنی قیادت میں 45 فیصد ٹیسٹ میچز جیت رکھے ہیں۔ پہلے نمبر پر وقار یونس (58.82 فیصد)، دوسرے نمبر پر سلیم ملک (58.33 فیصد) اور تیسرے نمبر پر وسیم اکرم (48 فیصد) ہیں۔

مصباح الحق نے اپنی کپتانی کے تمام 20 ٹیسٹ میچز پاکستان کی سرزمین سے باہر کھیلے ہیں اس طرح ہم کہہ سکتے ہیں کہ مصباح نے زیادہ سخت صورتحال اور حالات میں بھی پاکستان کی ٹیم کی بہترین رہنمائی کی ہے اور سرزمین پاکستان سے باہر سب سے زیادہ یعنی 9 ٹیسٹ جیت رکھے ہیں۔ ان کے بعد وقار یونس اور وسیم اکرم کا نمبر آتا ہے جنہوں نے پاکستان سے باہر کھیلتے ہوئے 7،7 ٹیسٹ میچز جیتے ہیں۔

پاکستان نے ٹیسٹ کرکٹ میں ب تک 5 بار 3 ٹیسٹ میچز کی سیریز میں مختلف ٹیموں کو وائٹ واش کیا ہے جن میں سے 1،1 بار یہ اعزاز عمران خان اور مصباح الحق کی قیادت میں ملا۔

عمران خان کی قیادت میں جب پاکستان نے آسٹریلیا کو 1982-83ء کی سیریز میں 3-0 سے ہرایا تھا تو یہ پاکستان کی طرف سے کسی بھی ٹیم کو پہلی بار ٹیسٹ میں ہونے والا وائٹ واش تھا اور جب مصباح کی قیادت میں پاکستان نے 2011-12ء میں متحدہ عرب امارات میں انگلستان کو 3-0 سے ہرایا تھا تو یہ پاکستان کا کسی بھی ٹیم کے خلاف آخری وائٹ واش تھا۔

Facebook Comments