فواد احمد کی درخواست قبول، شراب ساز ادارے کی شرٹ پہننے سے مستثنیٰ قرار

کرکٹ آسٹریلیا نے اسپنر فواد احمد کی شراب ساز ادارے کے لوگو کی حامل شرٹ نہ پہننے کی درخواست قبول کر لی ہے۔ پاکستانی نژاد فواد احمد نے حال ہی میں انگلستان کے خلاف دو ٹی ٹوئنٹی مقابلوں کے ذریعے اپنے بین الاقوامی کرکٹ کیریئر کی شروعات کی او ران مقابلوں میں وہ جو شرٹ پہن کر میدان میں آئے اس پر قومی ٹیم کے اسپانسر شراب ساز ادارے "وی بی"کا لوگو نہیں تھا۔

آسٹریلیا کی قومی ٹیم کا اسپانسر ایک شراب ساز ادارہ ہے (تصویر: Getty Images)

آسٹریلیا کی قومی ٹیم کا اسپانسر ایک شراب ساز ادارہ ہے (تصویر: Getty Images)

فواد نے کرکٹ آسٹریلیا سے درخواست کی تھی کہ وہ اپنے اسلامی عقائد کے باعث ایک شراب بنانے والے ادارے کی تشہیر نہیں کر سکتے ۔ جس پر کرکٹ آسٹریلیا کے ایگزیکٹو جنرل مینیجر آپریشنز نے آج ذرائع ابلاغ کو بتایا کہ کرکٹ آسٹریلیا فواد کے اعتقادات کا احترام کرتا ہے اور وہ لوگو کی حامل شرٹ پہننے سے مستثنیٰ ہوں گے۔

ماضی میں فواد وکٹوریا کی جانب سے کھیلتے ہوئے بھی شراب ساز ادارے کے لوگو کی حامل شرٹ پہننے سے انکار کر چکے ہیں۔

فواد احمد آسٹریلیا کی جانب سے کھیلنے والے دوسرے پاکستانی نژاد کھلاڑی ہیں۔ حالیہ ایشیز سیریز میں عثمان خواجہ نے بھی آسٹریلیا کی نمائندگی کی اور وہ "وی بی" کے لوگو کی حامل شرٹ کے ساتھ کھیلے لیکن فواد نے ایسا کرنے سے انکار کردیا۔

اس وقت آسٹریلیا اور جنوبی افریقہ ایسی عالمی ٹیمیں ہیں جن کے اسپانسر شراب ساز ادارے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ چند مسلمان کھلاڑی اپنے ایمانی تقاضوں کے باعث متعلقہ کرکٹ بورڈز سے خصوصی استثنیٰ لینے کی کوشش کرتے ہيں ، گو کہ اس کا مالی طور پر انہیں خاصا نقصان ہوتا ہے۔ ماضی میں پاکستان کے اظہر محمود کاؤنٹی کرکٹ میں اور جنوبی افریقہ کے ہاشم آملہ، عمران طاہر اور وین پارنیل قومی ٹیم کے اسپانسر شراب ساز ادارے کے لوگو والی شرٹیں پہنے بغیر کھیلے۔

فواد احمد اپنے بین الاقوامی کیریئر کے پہلے مقابلے میں تو کوئی وکٹ نہ لے سکے لیکن دوسرے ٹی ٹوئنٹی میں انہوں نے 25 رنز دے کر 3 انگلش کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔

فواد احمد 2010ء میں پاکستان چھوڑ کو آسٹریلیا چلے گئے تھے اور وہاں سیاسی پناہ کی درخواست دی۔ ابتداء میں تو ان کی درخواست رد کردی گئی لیکن یہ ان کے کلب کی کوششیں اور خود فواد کی اسپن باؤلنگ کی صلاحیتیں تھیں، جن کی بدولت ان کی درخواست بالآخر قبول کر لی گئی اور یوں کچھ عرصہ بعد انہیں آسٹریلیا کی نمائندگی کا موقع مل گیا۔

ماضی کے عظیم آسٹریلوی بلے باز ڈیمین مارٹن نے فواد کو شین وارن کے بعد آسٹریلیا کا دوسرا بہترین اسپنر قرار دیا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ وہ توقعات کے اس بوجھ تلے کامیابی کی منازل طے کر پاتے ہیں یا نہیں؟ البتہ شراب ساز ادارے کی اسپانسرشپ سے انکار سے انہوں نے خود کو اصول پسند ضرور ثابت کیا ہے۔

Article Tags

Facebook Comments