پاکستان کے خلاف سیریز، جنوبی افریقہ نے ٹیسٹ اور ون ڈے ٹیموں کا اعلان کردیا

پاکستان اس وقت زمبابوے سے نبرد آزما ہے لیکن اسے آگے دنیا کی نمبر ایک ٹیسٹ ٹیم سے سابقہ پیش آنا ہے جب جنوبی افریقہ اگلے ماہ متحدہ عرب امارات کا دورہ کرے گا یعنی "ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں"

گزشتہ سال آسٹریلیا کے خلاف ٹیسٹ میں بدترین ناکامی کے بعد عمران طاہر کو پہلی بار جنوبی افریقہ نے ٹیسٹ ٹیم میں طلب کیا ہے (تصویر: Getty Images)

گزشتہ سال آسٹریلیا کے خلاف ٹیسٹ میں بدترین ناکامی کے بعد عمران طاہر کو پہلی بار جنوبی افریقہ نے ٹیسٹ ٹیم میں طلب کیا ہے (تصویر: Getty Images)

جنوبی افریقہ نے اس اہم دورے کے لیے اپنے ٹیسٹ اور ایک روزہ دستوں کا اعلان کر دیا ہے جس میں گریم اسمتھ اور ڈیل اسٹین جیسے اہم کھلاڑیوں کی واپسی ہوئی ہے جبکہ عمران طاہر کو ایک مرتبہ پھر ٹیسٹ اور ون ڈے دونوں طرز کی کرکٹ میں اپنی صلاحیتوں کو آزمانے کا موقع دیا گیا ہے۔

دراصل یہ پاکستان کا دورہ تھا لیکن پاکستان میں امن و امان کی ناقص صورتحال کے باعث کوئی غیر ملکی ٹیم دورۂ پاکستان کے لیے تیار نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان گزشتہ ساڑھے تین سال سے اپنے تمام مقابلے متحدہ عرب امارات اور دیگر ملکوں میں کھیل رہا ہے۔ پاکستان 2010ء میں بھی متحدہ عرب امارات کے انہی میدانوں میں جنوبی افریقہ کی میزبانی کر چکا ہے جہاں دو ٹیسٹ مقابلوں سیریز تو برابر ٹھہری لیکن ایک روزہ اور ٹی ٹوئنٹی مقابلوں میں اسے پروٹیز کے ہاتھوں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔

اب جبکہ جنوبی افریقہ چند شاندار فتوحات کے بعد ٹیسٹ کی نمبر ایک ٹیم ہے اور ایک روزہ میں بھی اس کی کارکردگی نمایاں ہے، پاکستان کو سخت آزمائش کا سامنا ہوگا، خصوصاً گزشتہ پاک-جنوبی افریقہ مقابلوں کے نتائج کو مدنظر رکھیں تو حالت اور واضح ہو جاتی ہے۔ پاکستان رواں سال جنوبی افریقہ کے ہاتھوں ٹیسٹ سیریز میں تین-صفر اور ایک روزہ سیریز میں تین-دو سے شکست کھاچکاہے۔

جنوبی افریقہ نے فی الوقت اس سیریز کے ٹیسٹ و ایک روزہ مرحلوں کے لیے دستوں کا اعلان کیا ہے جس میں سب سے اہم کپتان گریم اسمتھ کی واپسی ہے۔ اسمتھ رواں سال جولائی کے مہینے میں ٹخنے کی تکلیف کی وجہ سے کرکٹ سے باہر ہو گئے تھے جبکہ دنیا کے نمبر ایک ٹیسٹ گیندباز ڈیل اسٹین، آل راؤنڈر ژاں پال دومنی اور پاکستانی نژاد عمران طاہر بھی اعلان کردہ ٹیموں کا حصہ ہیں۔

ڈیل اسٹین ران اور ٹخنے کی تکلیف کی وجہ سے چیمپئنز ٹرافی سے باہر ہو گئے تھے لیکن اب کھیلنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں جبکہ دومنی پنڈلی کی تکلیف کی وجہ سے رواں سال پاکستان کے خلاف ہوم سیریز نہیں کھیل پائے تھے اور اب مکمل طور پر صحت یاب ہیں۔ جنوبی افریقہ نے عمران طاہر کے علاوہ وین پارنیل کو ایک مرتبہ پھر ون ڈے کرکٹ میں اپنی صلاحیتیں آزمانے کا موقع دیا ہے۔ عمران طاہر کو دونوں جبکہ پارنیل کو صرف ون ڈے ٹیم میں جگہ دی گئی ہے۔

پاکستان و جنوبی افریقہ کے درمیان اس اہم سیریز کا آغاز 14 اکتوبر کو ابوظہبی میں پہلے ٹیسٹ سے ہوگا جس کے بعد دونوں ٹیمیں دو ٹیسٹ، 5 ایک روزہ اور 2 ٹی ٹوئنٹی مقابلوں میں کھیلیں گی۔

جنوبی افریقہ کے اعلان کردہ اسکواڈز ان کھلاڑیوں پر مشتمل ہیں۔

ٹیسٹ دستہ:

گریم اسمتھ (کپتان)، ابراہم ڈی ولیئرز، الویرو پیٹرسن، تھامی سولی کیلے، ڈیل اسٹین ، ڈین ایلگر، رابن پیٹرسن، روری کلائن ویلٹ، ژاک کیلس، ژاں پال دومنی، عمران طاہر، فف دو پلیسی، مورنے مورکل، ہاشم آملہ اور ویرنن فلینڈر۔

ایک روزہ دستہ:

ابراہم ڈی ولیئرز (کپتان)، ڈیل اسٹین، ڈیوڈ ملر، رابن پیٹرسن، راین میک لارن، ژاں پال دومنی، عمران طاہر، کوئنٹن ڈی کوک، گریم اسمتھ، لونوابو سوٹسوبے، مورنے مورکل، ہاشم آملہ، ویرنن فلینڈر اور وین پارنیل۔

Facebook Comments