کھلاڑیوں کی وطن واپسی، معین خان کو شرمندگی نہیں اور یونس خان کی دوڑیں

دورۂ زمبابوے کا اختتام بدترین شکست کے ساتھ ہونے کے بعد پاکستان کے کھلاڑی وطن واپس پہنچ گئے ہیں۔

کراچی کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر پہنچنے والے کھلاڑیوں میں یونس خان، اسد شفیق، خرم منظور، فیصل اقبال اور ٹیم مینیجر معین خان شامل تھے۔ اس موقع پر ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے معین خان نے ٹیم کی کارکردگی پر معذرت خواہانہ رویہ اختیار کرنے کے بجائے یہ موقف اختیار کیا کہ ہم ٹی ٹوئنٹی اور ون ڈے سیریز جیت کر آئے ہیں، اس لیے صرف ٹیسٹ سیریز برابر ہونے پر آخر کیوں معافی مانگیں؟

یونس خان نے صحافیوں کا سامنا کرنے کے بجائے بھاگنے ہی میں عافیت سمجھی (تصویر: AFP)

یونس خان نے صحافیوں کا سامنا کرنے کے بجائے بھاگنے ہی میں عافیت سمجھی (تصویر: AFP)

معین خان کا کہنا تھا کہ انہوں نے دورۂ زمبابوے میں بری کارکردگی دکھانے والے کھلاڑیوں کی سرزنش کی، اور حوصلہ بڑھانے کے لیے ان کے ساتھ نرمی کا رویہ بھی اختیار کیا، لیکن تکنیکی طور پر وہ کھلاڑیوں کی مدد نہیں کر سکتے کیونکہ ان کا کردار ٹیم کے منتظم کا تھا۔

انہوں نے کہا کہ زمبابوے میں ٹیم کا کھیل بہتر تھا لیکن وہاں کی وکٹیں بہت خراب تھیں جس کی وجہ سے پاکستان کو کچھ مشکلات پیش آئیں۔

سابق وکٹ کیپر کپتان نے کہا کہ آئندہ کرکٹ بورڈ جو بھی ذمہ داریاں انہیں دے گا، وہ اسے نبھانے کے لیے تیار ہیں۔

دورۂ زمبابوے میں بدترین کارکردگی دکھانے والے محمد حفیظ کے بارے میں معین خان کا کہنا تھا کہ حفیظ ایک میچ ونر کھلاڑی ہے، بس اس کی فارم بحال ہونے کی دیر ہے۔

کھلاڑیوں کی آمد پر اس وقت تماشہ کھڑا ہو گیا جب ٹیسٹ سیریز کے بہترین کھلاڑی قرار دیے گئے یونس خان ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو چکمہ دے کر فرار ہونے لگے۔ انہوں نے لاؤنج کے اندر ہی سے ارادہ کرلیا تھا کہ وہ میڈیا کا سامنا کیے بغیر نکلنے کی ٹھانیں گے اور اس مقصد کے لیے انہوں نے بجائے بین الاقوامی آمد کا راستہ استعمال کرنے کے اندرون ملک آمد والا دروازہ استعمال کیا اور نکل بھاگے۔ صحافی بھی ان کے پیچھے دوڑ لگاتے رہے لیکن یونس خان نے ایک لفظ منہ سے نہ نکالا اور اپنی گاڑی میں بیٹھ کر نکل گئے ۔

Facebook Comments