ڈی آر ایس قانون میں تبدیلی، 80 اوورز کے بعد ریویوز کی تعداد دوبارہ 2 کردی جائے گی

بین الاقوامی کرکٹ کونسل نے ٹیسٹ مقابلوں میں امپائروں کے فیصلوں پر نظرثانی کے نظام (ڈی آر ایس) میں تبدیلیوں کا اعلان کیا ہے، جس کے مطابق 80 اوورز کی تکمیل پر دونوں ٹیموں کو امپائر کے فیصلے کے خلاف 2 مزید ریویوز دیے جائیں گے۔

فی الوقت ڈی آر ایس کے تحت ایک ٹیم کو ایک اننگز میں دو مرتبہ امپائر کے فیصلے سے اختلاف کا حق حاصل ہوتا ہے اور دو مرتبہ یہ حق استعمال کیے جانے کے بعد اسے پوری اننگز میں ایسا کرنے کا اختیار نہیں ہوتا۔ لیکن آئی سی سی چیف ایگزیکٹو کمیٹی کے فیصلے کے مطابق 80 اوورز مکمل ہونے پر ٹیم کے ریویوز کی تعداد ایک مرتبہ پھر 2 کردی جائے گی۔ چاہے کسی ٹیم نے ایک استعمال کیا ہو یا دونوں استعمال کر چکی ہو۔

حالیہ ایشیز کے پہلے ٹیسٹ میں اسٹورٹ براڈ کا یہ آؤٹ ڈی آر ایس قوانین میں تبدیلی کا سبب بنا (تصویر: PA Photos)

حالیہ ایشیز کے پہلے ٹیسٹ میں اسٹورٹ براڈ کا یہ آؤٹ ڈی آر ایس قوانین میں تبدیلی کا سبب بنا (تصویر: PA Photos)

ریویوز کی تعداد کے حوالے سے اس وقت ہنگامہ کھڑا ہوا تھا جب حالیہ ایشیز سیریز کے پہلے ٹیسٹ میں انگلستان کے بلے باز اسٹورٹ براڈ اس وقت واضح طور پر کیچ آؤٹ ہوئے لیکن امپائر علیم ڈار نے انہیں ناٹ آؤٹ قرار دیا اور کیونکہ آسٹریلیا اپنے تمام ریویوز ختم کرچکا تھا اس لیے وہ اس فیصلے کے خلاف تیسرے امپائر سے رجوع نہیں کر سکتا تھا۔ نتیجہ اسٹورٹ براڈ اور این بیل کے درمیان شاندار سنچری شراکت داری اور انگلستان کی مقابلے میں بالادست پوزیشن۔

اس مقابلے نے سیریز کے آغاز ہی میں ایک بڑا تنازع کھڑا کردیا اور ریویوز کی تعداد میں کمی کا بہت واویلا مچا۔ یہی وجہ ہے کہ اپنے اگلے ہی اجلاس میں بین الاقوامی کرکٹ کونسل نے ریویوز کی تعداد کے حوالے سے یہ اہم فیصلہ کرڈالا ہے۔

علاوہ ازیں اجلاس میں ایک روزہ مقابلوں میں وکٹ کے دونوں اطراف سے الگ الگ گیند کے استعمال کے حوالے سے بھی غور کیا گیا لیکن رائے منقسم ہونے کی وجہ سے اس پر کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہوا اور پہلے سے موجود قوانین کو برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا۔ البتہ اس امر کا فیصلہ ضرور کیا گیا کہ اگر کوئی ایک روزہ مقابلہ 25 اوورز تک محدود رہتا ہے تو اس میں دونوں اینڈ سے ایک ہی گیند کا استعمال ہوگا۔

اجلاس میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ آئی سی سی ورلڈ چیمپئن شپ کے اجراء کے حوالے سے ایک تقریب اگلے ماہ اکتوبر میں دبئی میں منعقد ہوگی یعنی پاک-جنوبی افریقہ ٹیسٹ سیریز کے آغاز کے موقع پر۔

اس کے علاوہ آئی سی سی کے ضابطہ اخلاق میں بھی تبدیلی کا اعلان کیا گیا جس کے تحت ایک ٹیم کا کپتان سلو اوور ریٹ پر پابندی کے خدشے کے پیش نظر کسی اہم مقابلے میں قیادت کسی اور کھلاڑی کے سپرد کردیتا ہے۔

چیف ایگزیکٹوز کمیٹی آئی سی سی کے 10 مکمل اراکین کے سربراہان اور تین ایسوسی ایٹ اراکین کے نمائندگان پر مشتمل ہے۔

Facebook Comments