[باؤنسرز] پاکستان کرکٹ کے بے لوث مگر گمنام خادم!

پاکستان کرکٹ بورڈ نے تقریباً ایک عشرہ قبل لاہور میں جدید سہولتوں سے مزین نیشنل کرکٹ اکیڈمی قائم کی تھی جس کا بنیادی مقصد کھلاڑیوں کی خامیوں کو دور کرنا اور ان کی پیشہ ورانہ تربیت کرنا ہے۔ ان دنوں بھی نیشنل اکیڈمی میں ابھرتے ہوئے نوجوان کھلاڑیوں کا ایک کیمپ لگا ہوا ہے جنہیں مستقبل کے لیے تیار کرنے کی کوششیں کی جارہی ہیں ۔

بدقسمتی سے ملک کی نمائندگی نہ کر پانے کے بعد عامر وسیم نے اپنے شہر کے باصلاحیت کھلاڑیوں کو ابھارنے کے لیے اپنی توانائیاں صرف کیں (تصویر: Amir Wasim)

بدقسمتی سے ملک کی نمائندگی نہ کر پانے کے بعد عامر وسیم نے اپنے شہر کے باصلاحیت کھلاڑیوں کو ابھارنے کے لیے اپنی توانائیاں صرف کیں (تصویر: Amir Wasim)

قذافی اسٹیڈیم سے چند قدم کے فاصلے پر قائم نیشنل کرکٹ اکیڈمی کھلاڑیوں کی پیشہ ورانہ نشوونما میں کیا کردار ادا کررہی ہے اس موضوع پر طویل بحث کی جاسکتی ہے مگر اسی اکیڈمی کی دیوار کے دوسری ایل سی سی اے گراؤنڈ پر لگا پی اینڈ ٹی جمخانہ کا نیٹ برسوں سے پاکستان کرکٹ کو اسٹارز فراہم کررہا ہے ۔عبدالرزاق، عمران نذیر، علیم ڈار ،اسد رؤف ایسے ہی نام ہیں جن میں چھپی خام صلاحیت کو کلب کے روح رواں اظہر زیدی نے پہچانا اور پھر ان ہیروں کی مناسب تراش خراش کرکے انہیں عالمی کرکٹ کے تاج پر سجا دیا۔اظہر زیدی تو پاکستان کرکٹ میں جانا پہچانا نام ہیں جو قومی ٹیم کے لیے مینیجر کی حیثیت سے بھی فرائض انجام دے چکے ہیں مگر پاکستان کے مختلف شہر ایسے گمنام اور شہرت سے دور بھاگنے والے آرگنائزرز اور کوچز سے بھرے ہوئے ہیں جنہوں نے کسی صلے یا ستائش کے لیے نہیں بلکہ پاکستان کرکٹ کی خدمت کے جذبے کے تحت اپنے علاقوں میں موجود باصلاحیت کھلاڑیوں کو پروان چڑھایا اور انہیں انٹرنیشنل کرکٹ کی نمائندگی کے قابل بنایا۔

حالیہ برسوں میں چھوٹے شہروں سے پاکستان کرکٹ کو باصلاحیت کھلاڑی مل رہے ہیں اور یہ ٹیلنٹ انہی لوگوں کی بدولت سامنے آیا ہے جو بے لوث انداز میں کرکٹ کی خدمت کررہے ہیں ۔کھیلوں کا سامان بنانے کے ساتھ ساتھ سیالکوٹ باصلاحیت کھلاڑی پیدا کرنے کے معاملے میں بھی کافی زرخیز رہا ہے اور اعجاز احمد سے لے کر حارث سہیل تک باصلاحیت کھلاڑیوں کی ایک قطار ہے، جو پاکستان کی نمائندگی کرچکے ہیں اور بے شمار کھلاڑی ایسے ہیں جو ڈومیسٹک کرکٹ میں اپنی صلاحیتوں کے جوہر دکھاتے ہوئے قومی ٹیم کے دروازے پر دستک دے رہے ہیں ۔

جب ہم نے سیالکوٹ میں کلب کرکٹ کا آغاز کیا تو اُس وقت بائیں ہاتھ کے اسپنر عامر وسیم کا شہر میں بہت نام تھا۔جو ڈومیسٹک کرکٹ میں بیٹسمینوں کو اپنی انگلیوں پر نچانے کے بعد قومی ٹیم کے بھی کافی قریب پہنچ چکے تھے اور 1987ء کے ورلڈ کپ میں عامر وسیم کھیلتے کھیلتے رہ گئے۔جو لوگ عامر وسیم کے ساتھ کھیل چکے ہیں وہ آج بھی تسلیم کرتے ہیں کہ پاکستان نے اگر اقبال قاسم کے بعد کوئی اچھا بائیں ہاتھ کا اسپنر پیدا کیا ہے تو وہ عامر وسیم ہے مگر چھوٹے شہر سے تعلق ہونے کے باعث عامر وسیم پاکستان کی نمائندگی نہ کرسکے جن کی باؤلنگ پر تربیتی کیمپوں کے دوران ٹیم کے کپتان مشکل میں نظر آتے تھے مگر وہ اس باصلاحیت بالر کو قومی ٹیم میں نہ پہنچا سکے۔

عامر وسیم کا کیرئیر بدقسمتی کا شکار رہا جنہوں نے دو عشروں تک فرسٹ کلاس کرکٹ کھیلی لیکن اپنا بہترین وقت گزارنے کے بعد انہوں نے اپنے شہر کے باصلاحیت کھلاڑیوں کو ابھارنے کے لیے اپنی توانائیاں صرف کیں ۔ان کھلاڑیوں میں سرفہرست نام شعیب ملک کا ہے جبکہ عبدالرحمٰن کو بھی اسپن باؤلنگ کے گر سکھانے میں عامر وسیم نے اہم کردار ادا کیا ۔اس کے علاوہ منصور امجد، انڈر19 میں پاکستان کی نمائندگی کرنے والے انعام الحق، ماجد جہانگیر، فیاض بٹ، اسامہ میر اور زاہد سعید سمیت متعدد کھلاڑیوں نے عامر وسیم کی رہنمائی میں انٹرنیشنل کرکٹ تک رسائی حاصل کی ۔

عامر وسیم آج بھی پاکستان کرکٹ کی خدمت کی غرض سے سیالکوٹ میں اپنی کوچنگ اکیڈمی چلارہے ہیں جس میں متعددنوعمر کھلاڑی تربیت حاصل کررہے ہیں اور عامر وسیم کا ماننا ہے کہ صلاحیت کے اعتبار سے سیالکوٹ دوسرے شہروں سے کافی آگے ہے اور آنے والے عرصے میں بھی وہ پاکستان کرکٹ کو ایسے کھلاڑی فراہم کریں گے جو انٹرنیشنل کرکٹ میں ملک کا نام روشن کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں گے۔

پاکستان کرکٹ بورڈ عامروسیم کی صلاحیتوں کے استفادہ کرنے کے لیے تیار نہیں ہے جس کا ماضی کے کھبے اسپنر کو دکھ ہے لیکن سیالکوٹ میں نوجوانوں کو اپنا فن منتقل کرنے کے علاوہ عامر وسیم بحرین کی قومی ٹیم کی کوچنگ بھی کررہے ہیں لیکن پی سی بی کو چاہیے کہ وہ ایسے لوگوں کی قدر کرے جن کا اوڑھنا بچھونا ہی کرکٹ ہے اور انہوں نے اپنی زندگیاں کرکٹ کے لیے وقف کررکھی ہیں ۔عامر وسیم جیسے لوگ حقیقتاً پاکستان کرکٹ کے وہ بے لوث خادم ہیں جو گمنامی رہتے ہوئے کسی صلے کی پرواہ کیے بغیر صرف اور صرف کرکٹ کی خدمت کررہے ہیں۔

Facebook Comments