زمبابوے میں شکست، باؤلرز بھی قصور وار، بورڈ تیز باؤلرز کے لیے کیمپ لگائے گا

عالمی نمبر ایک جنوبی افریقہ کا سامنا کرنے سے قبل دورۂ زمبابوے ایک بہت اچھا تربیتی سیشن ثابت ہو سکتا تھا لیکن قومی کرکٹ ٹیم کی مجموعی نااہلی کی وجہ سے زمبابوے جیسا حریف بھی لوہے کا چنا ثابت ہوا اور ٹیسٹ سیریز برابری کی بنیاد پر ختم ہوئی۔ گو کہ بحیثیت مجموعی بلے بازوں کو شکست کا ذمہ دار ٹھہرایا جا رہا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ گیندباز بھی اتنے ہی قصور وار ہیں۔ اور یہی بات کوچ ڈیو واٹمور کی چیئرمین پی سی بی نجم سیٹھی کو پیش کردہ رپورٹ میں کہی گئی ہے۔

کوچ ڈیو واٹمور کی نظر میں تیز باؤلرز بھی شکست کے ذمہ داران میں شامل ہیں (تصویر: AFP)

کوچ ڈیو واٹمور کی نظر میں تیز باؤلرز بھی شکست کے ذمہ داران میں شامل ہیں (تصویر: AFP)

پاکستان کرکٹ بورڈ کے ذرائع کا کہنا ہے کہ قومی ٹیم کی شکست کے جو اسباب بورڈ سربراہ کے روبرو پیش کیے گئے ہیں ان میں تیز گیندبازوں کی کمی کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔

پاکستان جو ماضی میں ہمیشہ تیز باؤلرز کی سرزمین رہا ہے، اب اس کے پاس ایک بھی ایسا عالمی معیار کا تیز باؤلر موجود نہیں جو درجہ بندی میں کوئی اعلیٰ مقام رکھتا ہو۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ نے ہیڈ کوچ کی سفارش پر نیشنل کرکٹ اکیڈمی میں تیز گیندبازوں کے لیے ایک کیمپ لگانے کا فیصلہ کیا ہے جس میں نوجوان فاسٹ باؤلرز پر خصوصی طور پر توجہ دے کر انہیں مستقبل کے لیے تیار کیا جائے گا۔

ہیڈ کوچ ڈیو واٹمور چاہتے ہیں کہ متحدہ عرب امارات میں جنوبی افریقہ اور سری لنکا کے خلاف اہم سیریز کے لیے اسپنرز کے ساتھ ساتھ کچھ تجربہ رکھنے والے تیز باؤلرز کو بھی میدان میں اتارا جائے اور اس کے لیے وہاب ریاض پر ان کی خصوصی نظر ہے۔

پاکستان نے 2009ء میں محمد عامر کے بعد سے کوئی ایسا تیز باؤلر نہیں دریافت کیا، جس نے عالمگیر شہرت سمیٹی ہو اور اپنے ہنر و فن سے دنیا کو اپنا گرویدہ بنایا ہو۔ ماضی میں عمران خان، سرفراز نواز، وسیم اکرم، وقار یونس اور شعیب اختر جیسے باؤلرز کو جنم دینے والی سرزمین پر لگتا ہے قحط الرجال آ گیا ہے۔ اگر جلد از جلد کوئی ایسا باصلاحیت گیندباز نہیں تلاش کیا گیا جو طویل عرصے تک حریف بلے بازوں پر اپنی دھاک بٹھانے کی صلاحیت رکھتا ہو تو پاکستان کے لیے عالمی کرکٹ میں ایک قوت کی حیثیت سے واپسی خواب ہی رہے گی۔

Facebook Comments