سادہ لوح سعید اجمل بے خیالی میں واٹمور کے خلاف بیان دے بیٹھے

پاکستان کے سعید اجمل جتنے عمدہ باؤلر ہیں اتنے ہی سادہ انسان بھی ہیں اور یہی وجہ ہے کہ تیز طرار ذرائع ابلاغ کے سامنے وہ بے خیالی میں ہیڈ کوچ ڈیو واٹمور کے خلاف ایسا بیان دے بیٹھے ہیں جو ان کے لیے سنگین مسائل کھڑے کر سکتا ہے۔

ڈیو واٹمور کا کہنا ہے کہ سعید اجمل نے اس بیان پر ان سے معافی طلب کی ہے (تصویر: AFP)

ڈیو واٹمور کا کہنا ہے کہ سعید اجمل نے اس بیان پر ان سے معافی طلب کی ہے (تصویر: AFP)

نجی ٹیلی وژن چینل 'جیو سوپر' کو دیے گئے ایک انٹرویو میں غیر ملکی اور ملکی کوچ کے فرق کے حوالے سے پوچھا گیا سوال کن مقاصد کے لیے تھا، اس سے قطع نظر سعید اجمل اس سوال کی تاب نہ لا سکے اور کہہ ڈالا کہ ملکی اور غیر ملکی کوچ میں فرق صرف تنخواہ کا ہے۔ سعید اجمل نےدوران گفتگو کہا کہ ڈیو واٹمور کی آمد سے کوئی خاص فرق نہیں پڑا بلکہ ہماری زبان نہ آنے کی وجہ سے کھلاڑیوں اور کوچ کے درمیان رابطے کی ایک رکاوٹ موجود ہے۔

سعید اجمل نے اپنے طویل انٹرویو میں کہا کہ غیر ملکی کوچ اور مقامی کوچ میں محض اتنا فرق ہے کہ ہم ان کو تنخواہ زیادہ دے رہے ہیں، اس کے علاوہ مجھے تو کوئی فرق نظر نہیں آتا۔ انہوں نے کہا کہ ڈیو سے قبل وقار یونس نے ٹیم پر اچھی گرفت رکھی ہوئی تھی، محسن خان کی کارکردگی بھی اچھی تھی اور وہ وکٹیں نہ لینے یا رنز نہ بنانے والے کھلاڑی کی پوری ٹیم کے سامنے سرزنش کرتے تھے، چاہے وہ سینئر ہو یا جونیئر۔

گو کہ سعید اجمل کو پاکستان کرکٹ بورڈ کے حکم کی تکمیل کرتے ہوئے اس بیان پر کوچ سے معافی مانگنا پڑے گی لیکن اس کے باوجود حقیقت کو جھٹلایا نہیں جا سکتا۔ آسٹریلیا سے تعلق رکھنے والے ڈیو واٹمور کی زیر قیادت ڈیڑھ سال میں پاکستان کوئی ٹیسٹ سیریز نہیں جیت پایا حتیٰ کہ اسے اس پورے عرصے میں صرف ایک ٹیسٹ میچ میں کامیابی حاصل ہوئی اور وہ بھی زمبابوے کے خلاف اور بدترین مقام یہ ہے کہ زمبابوے کے خلاف بھی پاکستان سیریز نہ جیت پایا۔ جبکہ واٹمور کی تقرری سے محض چند ماہ قبل محسن خان کی زیر تربیت پاکستان کی اسی ٹیم نے انگلستان کو تین-صفر کی تاریخی شکست دی تھی۔

ڈیو واٹمور سعید اجمل کے بیان پر خوش نہیں دکھائی دیے اور اس کا برملا اظہار انہوں نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر کیا لیکن بعد ازاں وضاحت کی کہ سعید نے ان سے بالمشافہ اس پر معافی مانگي ہے، جو انہوں نے قبول کرلی۔

Facebook Comments