سچن کا ریٹائرمنٹ اعلان، بھارت-ویسٹ انڈیز سیریز کی اہمیت دوچند ہوگئی

عظیم بھارتی بلے باز سچن تنڈولکر کے ٹیسٹ کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کے اعلان نے بھارت-ویسٹ انڈیز سیریز کو اہم ترین سیریز بنا دیا ہے۔

ممبئی کے باسیوں کی دلی تمنا ہے کہ سچن اپنی آخری اننگز اپنے ہی شہر میں کھیلیں (تصویر: AFP)

ممبئی کے باسیوں کی دلی تمنا ہے کہ سچن اپنی آخری اننگز اپنے ہی شہر میں کھیلیں (تصویر: AFP)

گو کہ ماضی کی 'کالی آندھی' کی میں اب پہلے والی تندی، تیزی اور قوت نہیں رہی، اس لیے بھارت کو خود کے میدانوں پر زیر کرنا اس کے بس کی بات نظر نہیں آتی۔ یہی وجہ ہے کہ سیریز کا نتیجہ متوقع ہے اور اس کی اہمیت اتنی زیادہ نہیں سمجھی جا رہی۔ لیکن سچن کی ریٹائرمنٹ کے اعلان نے اس 'کم اہمیت' کی حامل سیریز میں گویا نئی روح پھونک دی ہے اور اب سب کو شدت سے انتظار ہے کہ سیریز کا آغاز اور 14 نومبر سے دوسرے ٹیسٹ کا آغاز ہو جس میں سچن آخری بار ٹیسٹ کھیلنے کے لیے میدان میں اتریں گے۔

سچن کے اعلان کے مطابق وہ ویسٹ انڈیز کے خلاف سیریز میں اپنا 200 واں ٹیسٹ کھیلنے کے بعد بین الاقوامی کرکٹ کو خیرباد کہہ دیں گے اور یہی وجہ ہے کہ اب سیریز کے دوسرے ٹیسٹ کی میزبانی کے لیے کھینچاتانی میں بھی اضافہ ہوجائے گا۔

بھارت میں ٹیسٹ مقابلوں کے لیے مختلف میدانوں کو اپنی باری کے مطابق میزبانی دی جاتی ہے جسے 'روٹیشن پالیسی' کہا جاتا ہے اور اس پالیسی کے مطابق ویسٹ انڈیز-بھارت دوسرا ٹیسٹ، جو سچن کے فٹ رہنے اور دونوں ٹیسٹ میچز کھیلنے کی صورت میں ان کا 200 واں ٹیسٹ ہوگا، کولکتہ کے تاریخی میدان ایڈن گارڈنز میں کھیلا جانا ہے لیکن ممبئی کرکٹ ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ سچن کا آخری ٹیسٹ ان کے ہوم گراؤنڈ وانکھیڑے اسٹیڈیم، ممبئی میں ہونا چاہیے تاکہ ان کے شہر کے باسی اس عظیم بلے باز کو اپنے ہی میدان پر الوداع کہہ سکیں۔

یہ معاملہ اس قدر طول پکڑ گیا ہے کہ دو ٹیسٹ میچز کے میزبان شہروں کے ناموں کا اعلان ابھی تک نہیں ہو سکا۔ اگر کرکٹ سے اپنے جذباتی تعلق اور سچن کے 24 سالہ زریں عہد کو دیکھا جائے تو ہماری بھی شدید خواہش ہے کہ ان کا آخری مقابلہ ممبئی میں کھیلا جائے اور اپنے عظیم ہیرو کو کھیلتا دیکھنے کا آخری موقع اسی شہر کے باسیوں کو ملے۔

Facebook Comments