مقابلہ پاکستان اور گرمی دونوں سے ہوگا: ایلن ڈونلڈ

گیارہ ستمبر 2001ء کو امریکہ میں ورلڈ ٹریڈ سینٹر پر ہونے والے حملے اور اس کے جواب میں افغانستان کے خلاف امریکی کارروائی نے پاکستان میں کرکٹ کو سخت نقصان پہنچایا اور اس کے کچھ ہی عرصے بعد 2002ء میں پاکستان کو آسٹریلیا کے خلاف اپنی ٹیسٹ سیریز متحدہ عرب امارات میں کھیلنا پڑی تھی۔ یہ سیریز جہاں پاکستانی بلے بازوں کی سخت نااہلی کے باعث یاد رکھی جائے گی وہیں اکتوبر کے مہینے میں پڑنے والی سخت گرمی اور نتیجے میں کھلاڑیوں کی حالت زار کے باعث بھی یہ سیریز امر رہے گی۔

باؤلنگ کوچ کے بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ جنوبی افریقہ کے لیے دو معاملات پریشان کن ہیں، ایک پاکستان کا اسپن باؤلنگ اٹیک اور دوسری گرمی (تصویر: Getty Images)

باؤلنگ کوچ کے بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ جنوبی افریقہ کے لیے دو معاملات پریشان کن ہیں، ایک پاکستان کا اسپن باؤلنگ اٹیک اور دوسری گرمی (تصویر: Getty Images)

یہی وجہ ہے کہ جنوبی افریقہ کے باؤلنگ کوچ ایلن ڈونلڈ کہتے ہیں کہ متحدہ عرب امارات میں ان کا مقابلہ پاکستان اور گرمی دونوں سے ہوگا۔

پاکستان کے خلاف ایک طویل سیریز کھیلنے کے لیے چند روز قبل اماراتی سرزمین پر قدم رکھنے والے جنوبی افریقہ کھلاڑیوں نے آج شارجہ کی کڑی دوپہر میں پریکٹس سیشن میں حصہ لیا اور خود کو نئے حالات اور موسم سے مانوس کرنے کی دوسری کوشش کی۔

اس پریکٹس سیشن کا انعقاد دوپہر میں کرنے کی خاص وجہ ہی کھلاڑیوں کو گرمی میں کھیلنے کی عادت ڈالنا ہے کیونکہ انہوں نے ابھی دو ٹیسٹ میچز، پانچ ون ڈے اور دو ٹی ٹوئنٹی مقابلے کھیلنے ہیں۔

آج ہونے والے سیشن کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ڈونلڈ نے کہا کہ پاکستان کی اصل طاقت اس کا اسپن اٹیک ہے لیکن ہمارے تیز باؤلرز بھی کسی سے کم نہیں اور ہم ڈیل اسٹین اور مورنے مورکل کے ذریعے پاکستان کی بیٹنگ لائن اپ کا صفایا کردیں گے۔

سابق تیز گیندباز نے کہا کہ ہمیں اپنی بیٹنگ، باؤلنگ اور فیلڈنگ تینوں پر بھرپور اعتماد ہے ۔ جنوبی افریقہ عالمی معیار کے بلے باز رکھتا ہے جو کسی بھی باؤلنگ اٹیک کا بخوبی سامنا کر سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ان سب باتوں کے باوجود ہم پاکستان کو آسان حریف نہيں سمجھیں گے، اس ٹیم میں جوابی حملہ کرنے کی صلاحیت بہت زیادہ ہے اور یہ بات سب جانتے ہیں۔ اس لیے ہماری واحد حکمت عملی جارحانہ کرکٹ ہوگی جس کے ذریعے ہم حریف کو مدافعانہ انداز اپنانے پر مجبور کریں۔

ڈونلڈ کا یہ بیان ظاہر کرتا ہے کہ اماراتی میدانوں سے وابستہ پاکستان کے اسپنرز کی کارکردگی ان کے ذہنوں میں کس بری طرح سوار ہے۔ کچھ ایسے ہی بیانات 2011ء-12ء کی سیریز سے قبل انگلستان کی جانب سے دیے گئے تھے اور پھر نتیجہ پاکستان کی انگلستان پر تین-صفر کی تاریخی فتح کی صورت میں سامنے آیا۔

ان کے علاوہ آل راؤنڈر ژاں پال دومنی نے بھی صحافیوں سے گفتگو کی اور کہا کہ اگر اسپنرز کے لیے مددگار وکٹ بنائی جائے گی تو ان کا اور عمران طاہر کا استعمال ہو سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ متحدہ عرب امارات میں صبح کے ابتدائی دو گھنٹے تیز باؤلرز کو مدد دیتے ہیں اور اگر موقع ملا تو ہم ان کا بھرپور فائدہ اٹھائیں گے ۔

پاکستان اور جنوبی افریقہ کے درمیان سیریز کا باضابطہ آغاز 14 اکتوبر سے ابوظہبی میں پہلے ٹیسٹ سے ہوگا جبکہ جنوبی افریقہ کا پہلا امتحان کل سے پاکستان 'اے' کے خلاف شارجہ میں ہوگا۔

Facebook Comments