یووراج سنگھ کی دھماکہ خیز واپسی، بھارت واحد ٹی ٹوئنٹی جیت گیا

طوفانی بلے باز یووراج سنگھ نے بین الاقوامی کرکٹ میں دھماکہ خیز انداز میں واپسی کرتے ہوئے بھارت کو آسٹریلیا کے خلاف واحد ٹی ٹوئنٹی مقابلے میں شاندار فتح سے ہمکنار کردیا۔

یووراج نے صرف 35 گیندوں پر 5 چھکوں کی مدد سے 77 رنز بنائے (تصویر: BCCI)

یووراج نے صرف 35 گیندوں پر 5 چھکوں کی مدد سے 77 رنز بنائے (تصویر: BCCI)

کینسر کو شکست دینے والے یووراج سنگھ نے صرف 35 گیندوں پر 5 چھکوں اور 8 چوکوں کی مدد سے 77 رنز بنا کر بھارت کو 202 رنز کا بھاری ہدف عبور کرنے میں مدد دی اور راجکوٹ میں کھیلا گیا سیریز کا اکلوتا ٹی ٹوئنٹی میزبان کے نام ہوا۔

مقابلے میں ٹاس کا سکہ بھارتی کپتان مہندر سنگھ دھونی کے حق میں گرا جنہوں نے پہلے اپنے گیند بازوں کو آزمایا۔

ٹی ٹوئنٹی کرکٹ کی تاریخ کی سب سے طویل اننگز کے حامل آرون فنچ اور پہلا مقابلہ کھیلنے والے نک میڈنسن نے ٹیم کو 56 رنز کا آغاز فراہم کیا۔ میڈنسن کے 34 رنز بنا کر آؤٹ ہونے کے بعد دو تجربہ کار کھلاڑی شین واٹسن اور کپتان جارج بیلی جلد ہی اپنی وکٹیں دے گغے اور 84 پر آسٹریلیا اپنی تین وکٹیں گنوا چکا تھا۔

گلین میکس ویل نے مختصر لیکن تیز رفتار اننگز کھیلی اور 13 گیندوں پر 4 چھکوں کی مدد سے 27 رنز بنانے کے بعد اس وقت آؤٹ ہوئے جب آسٹریلیا کا مجموعہ 124 تھا۔ آرون نے ایک اینڈ سے بہت عمدہ اننگز کھیلی اور صرف 52 گيندوں پر 89 رنز بنائے۔ ایک چھکے اور 14 چوکوں سے مزین یہ اننگز بلاشبہ سنچری کی حقدار تھی۔

بہرحال بریڈ ہیڈن 5، موئسے اینریک 12، کولٹر نائل 12 اور جیمز فاکنر کے 10 رنز کے ساتھ آسٹریلیا مقررہ 20 اوورز میں 7 وکٹوں کے نقصان پر 201 رنز بنا پایا۔

بھارت کی جانب سے بھوونیشور کمار اور ونے کمار تین، تین وکٹیں حاصل کیں تاہم تجربہ کار ایشانت شرما نے چار اوور میں 52 رنز کی اور روی چندر آشون نے دو اوورز میں 41 رنز کی مار کھائی اور وکٹ سے بھی محروم رہے۔

بھارت کی بلے بازوں کے لیے سازگار وکٹیں اپنی جگہ لیکن کسی بھی 20 اوورز کے مقابلے میں 200 سے زیادہ کے مجموعے کا اپنا نفسیاتی دباؤ ہوتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ بھارت نے وکٹیں گرنے کے باوجود رنز بنانے کی رفتار کو کم نہ ہونے دیا۔ صرف 12 کے مجموعے پر روہیت شرما اور 50 تک پہنچتے پہنچتے رسریش رینا کے بھی آؤٹ ہونے کے باوجود بھارت 9 اوورز میں 80 رنز بنا چکا تھا جب اسے شیکھر دھاون کی قیمتی وکٹ گنوانا پڑی۔ انہوں نے 32 رنز بنائے ۔ لیکن یہ ویراٹ کوہلی کی 19 رنز کی اننگز کا خاتمہ تھا جس نے بھارت کی پیشرفت کو سخت دھچکا پہنچایا۔

200 سے زیادہ کے مجموعے کے تعاقب میں تہرے ہندسے میں پہنچنے سے قبل ہی چار وکٹیں گنوا بیٹھنا کسی اور ٹیم کے لیے تو بہت پریشان کن صورتحال ہوتی لیکن یووراج جیسا دھواں دار بلے باز اور دھونی جیسا عالمی معیار کا اختتامی اوورز کا کھلاڑی جس ٹیم کے پاس ہو اسے پریشانی کی ضرورت نہیں۔

دونوں نے صرف 51 گیندوں پر 102 رنز کی ناقابل شکست اور فتح گر شراکت داری قائم کی جس میں دھونی کا حصہ 21 گیندوں پر 24 رنز کا تھا اور بقیہ تمام کاری وار یووراج نے لگائے۔

اس شاندار فتح کے بعد میچ کے بہترین کھلاڑی کا اعزاز تو یووراج ہی کو ملا لیکن وہ بہت زیادہ خوش نہیں تھے اور گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے اس کا اظہار بھی کیا کہ انہیں فتح گر باری کھیلنے کی خوشی تو ہے لیکن سچن کے ریٹائر ہونے کے اعلان پر افسردگی بھی بہت زیادہ ہے۔ انہوں نے اپنی یہ شاندار اننگز سچن تنڈولکر کے نام کی۔

اب دونوں ٹیمیں 7 ون ڈے میچز کی تیاریں کریں گی جس کا پہلا معرکہ 13 اکتوبر کو پونے میں کھیلا جائے گا۔

Facebook Comments