انگلستان کا مسلسل 8 ٹی ٹوئنٹی فتوحات کا عالمی ریکارڈ، آسٹریلیا کو ایک اور شکست

شین واٹسن کی آل راؤنڈ کارکردگی بھی آسٹریلیا کو شکست سے نہ بچا سکی اور انگلستان نے اپنا پہلا بین الاقوامی میچ کھیلنے والے کرس ووکس کی فاتحانہ اننگز کی بدولت آسٹریلیا کے پہلے ٹی ٹوئنٹی میں محض ایک وکٹ سے شکست دے کر مسلسل سب سے زیادہ ٹی ٹوئنٹی میچز جیتنے کا ریکارڈ قائم کر دیا۔

فاتحانہ اسٹروک کھیلنے کے بعد کرس ووکس کا ایک انداز (© گیٹی امیجز)

اس سے قبل مسلسل ٹی ٹوئنٹی میچز جیتنے کا ریکارڈ مشترکہ طور پر پاکستان اور جنوبی افریقہ کے پاس تھا جنہوں نے 7،7 میچز جیت رکھے تھے۔ جبکہ انگلستان نے گزشتہ سال پاکستان کے خلاف دو مسلسل ٹی ٹوئنٹی میچز جیتنے کے بعد سے اب تک کوئی میچ نہیں ہارا اور آسٹریلیا کے خلاف اس ٹی ٹوئنٹی میچ میں فتح سے اس کی مسلسل فتوحات کی تعداد 8 تک پہنچ گئی ہے۔
ایشیز ٹیسٹ سیریز میں بدترین شکست کے بعد آسٹریلیا کے پاس ورلڈ کپ کی تیاری کے لیے ایک اہم موقع انگلستان کے خلاف 7 ون ڈے میچز کی طویل سیریز کی صورت میں موجود ہے لیکن اس اہم سیریز کے آغاز سے قبل اسے دو ٹی ٹوئنٹی میچز کا چیلنج درپیش ہے۔ اسی سلسلے کا پہلا میچ ایڈیلیڈ اوول میں کھیلا گیا جہاں آسٹریلیا نےٹاس جیتا اور پہلے بیٹنگ کرنے کا فیصلہ کیا۔
اوپنر ڈیوڈ وارنر اور شین واٹسن کی شعلہ فشاں اننگز کی بدولت آسٹریلیا کا یہ فیصلہ بالکل درست معلوم ہوتا تھا جنہوں نے نویں اوور سے قبل ہی اسکور کو 83 رنز تک پہنچا دیا تاہم یہاں انگلستان کو شین واٹسن کی صورت میں اک اہم کامیابی ملی جنہوں نے محض 31 گیندوں پر 59 رنز کی جارحانہ اننگز کھیلی۔ ان کی اننگ میں 6 چوکے اور 3 چھکے بھی شامل تھے۔ 92 کے مجموعی اسکور پر وارنر کے 30 رنز پر آؤٹ ہو جانے کے بعد آسٹریلیا کا کوئی بلے باز اننگ کو اس انداز میں آگے نہ بڑھا سکا اور ایک موقع پر جہاں آسٹریلیا کا 170 سے 180 کا اسکور بنانے کی توقع کی جا رہی تھی وہی ٹیم 20 اوورز میں 4 وکٹوں کے نقصان پر محض 157 رنز بنا سکی۔
جواب میں انگلستان کی جانب سے کوئی بہت بڑی شراکت تو قائم نہیں ہوئی تاہم سب بلے بازوں نے اپنی طرف سے بھرپور حصہ ڈالا اور انگلستان فتح کی جانب با آسانی قدم اٹھاتا دکھائی دے رہا تھا تاہم میچ اس وقت سنسنی خیز مرحلے میں داخل ہوگیا جب بلے بازی میں اپنا جادو دکھانے والے واٹسن نے 16 ویں اوور میں دو اہم کھلاڑی مورگن (43 رنز) اور یارڈی (صفر) کو مسلسل دو گیندوں پر ٹھکانے لگا کر انگلستان کے لیے مشکل کھڑی کر دی۔
واٹسن نے مزید تباہیاں اپنے اگلے اوورز میں مچائیں اور 141 کے مجموعی اسکور پر ٹم بریسنن (11رنز) اور آخری اوور میں 154 پر گریم سوان (6 رنز) کو بھی ٹھکانے لگا دیا۔ تاہم اس موقع پر جس کھلاڑی نے اعصاب کو قابو میں رکھا وہ اپنا پہلا بین الاقوامی میچ کھیلنے والے کرس ووکس تھے جنہوں نے اہم موقع پر ایک چھکے اور ایک چوکے کی مدد سے نہ صرف 15 گیندوں پر 19 قیمتی رنز بنائے بلکہ آخری دو گیندوں پر درکار تین رنز بھی انہی کے بلے نےاگلے۔
انگلستان کی جانب سے سب سے زیادہ رنز این مورگن نے بنائے۔ ان کی 43 رنز کی اننگ میں ایک چھکا اور پانچ شاندار چوکے شامل تھے۔ ان کے علاوہ این بیل نے 27 اور کیون پیٹرسن نے محض 11 گیندوں پر 25 رنز بنائے۔
شین واٹسن کو 31 گیندوں پر 59 رنز کی شعلہ فشاں اننگ اور 15 رنز دے کر چار وکٹیں حاصل کر کے آسٹریلیا کو میچ میں واپس لانے کی شاندار کارکردگی پر میچ کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا تاہم حقیقت یہ ہے کہ یہ کارکردگی بھی آسٹریلیا کو شکست سے نہ بچا سکی۔
دونوں ٹیموں کے درمیان دوسرا ٹی ٹوئنٹی بین الاقوامی مقابلہ 14 جنوری بروز جمعہ منعقد ہوگا۔

Facebook Comments