[ریکارڈز] سہاگ غازی کا انوکھا ریکارڈ، سنچری اور ہیٹ ٹرک

گو کہ بنگلہ دیش اور نیوزی لینڈ کے مابین سیریز کا پہلا ٹیسٹ مقابلہ بغیر کسی نتیجے تک پہنچے اختتام پذیر ہوا لیکن میزبان بنگلہ دیش کے لیے یہ مقابلہ کئی لحاظ سے یادگار رہا، خصوصاً نوجوان سہاگ غازی کے لیے جنہوں نے نہ صرف یہ کہ میچ کے آخری دن ہیٹ ٹرک کی بلکہ پہلی اننگز میں سنچری بھی بنائی۔ یوں وہ ٹیسٹ کرکٹ کی تاریخ کے واحد کھلاڑی بن گئے جنہیں ایک ہی ٹیسٹ میں سنچری بنانے اور ہیٹ ٹرک کرنے کا اعزاز حاصل ہوا ہو۔

سہاگ غازی دوسرے بنگلہ دیشی باؤلر ہیں جنہوں نے ٹیسٹ ہیٹ ٹرک کی ہو (تصویر: AFP)

سہاگ غازی دوسرے بنگلہ دیشی باؤلر ہیں جنہوں نے ٹیسٹ ہیٹ ٹرک کی ہو (تصویر: AFP)

چٹاگانگ ٹیسٹ میں نیوزی لینڈ کی دوسری اننگز کے دوران سہاگ نے دو مسلسل گیندوں پر کوری اینڈرسن اور بریڈلے-جان واٹلنگ کو آؤٹ کرنے کے بعد ڈوگ بریسویل کو سلپ میں شکیب الحسن کے خوبصورت کیچ کے ذریعے پویلین کی راہ دکھائی اور اپنا نام تاریخ میں امر کروا لیا۔ وہ الوک کپالی کے بعد مسلسل تین گیندوں پر تین وکٹیں حاصل کرنے والے دوسرے بنگلہ دیشی باؤلر بنے۔ الوک نے یہ کارنامہ 2003ء میں پاکستان کے خلاف پشاور ٹیسٹ میں انجام دیا تھا۔

قبل ازیں پہلی اننگز میں نیوزی لینڈ کے 469 رنز کے جواب میں 8 رنز پر دو وکٹیں گنوانے والے بنگلہ دیش نے مومن الحق کے 181 اور سہاگ غازی کے ناقابل شکست 101 رنز کی بدولت 501 رنز کا بڑا مجموعہ اکٹھا کیا۔ 161 گیندوں پر 3 چھکوں اور 10 چوکوں کی مدد سے 101 رنز بنانے والے سہاگ نے اپنے کیریئر کی پہلی سنچری ان حالات میں اسکور کی جب بنگلہ دیش کسی طرح نیوزی لینڈ پر برتری حاصل کرتا دکھائی نہ دیتا تھا۔

بہرحال، یہی برتری تھی جس نے نیوزی لینڈ کو پچھلے قدموں پر دھکیلا اور اس نے آخری دنوں میں مقابلہ صرف بچانے کے لیے کھیلا۔ سہاگ غازی کی دوسری اننگز میں 6 وکٹوں اور نیوزی لینڈ کی جانب سے 287 رنز 7 کھلاڑی آؤٹ پر اننگز ڈکلیئر کرنے کے بعد بنگلہ دیش کو 256 رنز کا ہدف ملا لیکن مقابلے میں اتنا وقت نہیں بچا تھا اور آخری روز کھیل مکمل ہونے تک بنگلہ دیش 3 وکٹوں پر 173 رنز ہی بنا پایا۔ اور یوں مقابلہ کسی نتیجے تک نہ پہنچ سکا۔

بنگلہ دیش نے پہلے ہی ٹیسٹ میں نیوزی لینڈ کا جس طرح ڈٹ کر مقابلہ کیا ہے اس نے نیوزی لینڈ کے 2010ء کی سیریز کے زخم تازہ کردیے ہوں گے جب 5 ایک روزہ مقابلوں کی سیریز میں بنگلہ دیش نے نیوزی لینڈ کو چار-صفر سے ہرایا تھا۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ 21 اکتوبر سے ڈھاکہ میں شروع ہونے والے دوسرے ٹیسٹ میں نیوزی لینڈ کس طرح واپس آتا ہے۔

Facebook Comments