آئی سی سی بورڈ اجلاس، محمد عامر کا معاملہ زیر بحث آنے کا امکان

بین الاقوامی کرکٹ کونسل کا بورڈ اجلاس آج برطانیہ کے دارالحکومت لندن میں منعقد ہو رہا ہے جس میں ممکنہ طور پر پاکستان کرکٹ بورڈ تیز باؤلر محمد عامر کو تربیت شروع کرنے کی اجازت کا مطالبہ کیا جائے گا۔

ستمبر 2015ء میں پابندی کے باضابطہ خاتمے سے چھ سات ماہ قبل تربیت کی اجازت دینے کا مطالبہ کیا جائے گا (تصویر: AFP)

ستمبر 2015ء میں پابندی کے باضابطہ خاتمے سے چھ سات ماہ قبل تربیت کی اجازت دینے کا مطالبہ کیا جائے گا (تصویر: AFP)

اجلاس میں پی سی بی کی نمائندگی ایڈہاک کمیٹی کے چیئرمین نجم سیٹھی کریں گے اور وہ اس معاملے کے لیے دو روزہ اجلاس میں شریک اراکین کو قانونی راہ دکھائیں گے۔

سال 2013ء کا آخری بورڈ اجلاس دو روز تک جاری رہے گا۔ گو کہ اجلاس کے ایجنڈے میں محمد عامر کا معاملہ شامل نہیں تاہم انسداد بدعنوانی (اینٹی کرپشن) کے معاملے پر ضرور بات ہوگی اور اسی وقت نجم سیٹھی پاکستانی باؤلر کے بارے میں نرمی برتنے کا مطالبہ کریں گے۔ امکان ہے کہ ستمبر 2015ء، جب محمد عامر پر عائد 5 سالہ پابندی کا خاتمہ ہوگا، سے سات آٹھ ماہ قبل انہیں پاکستان کی نیشنل کرکٹ اکیڈمی میں تربیت کی اجازت دے دی جائے گی۔

یاد رکھیے یہ معاملہ صرف تربیت کی اجازت دینے کی حد تک ہے۔ بہت سارے نجی ٹیلی وژن چینل یہ سمجھ رہے ہیں کہ محمدعامر پر عائد پانچ سالہ پابندی ہی کا خاتمہ ہونے جا رہا ہے۔ آئی سی سی ماضی میں بارہا اس امر کی تردید کرچکا ہے اور اس کا کہنا ہے کہ محمد عامر کو دی گئی سزا ناقابل واپسی ہے اور اس میں کوئی تخفیف نہیں ہوگی۔

محمد عامر اگست 2010ء میں انگلستان کے خلاف لارڈز ٹیسٹ میں جان بوجھ کو نو بالز پھینکنے اور اس کے بدلے میں سٹے بازوں سے بھاری رقوم وصول کرنے کے الزام میں دھر لیے گئے اور بعد ازاں الزامات درست ثابت ہونے پر بین الاقوامی کرکٹ کونسل نے ان سمیت تین کھلاڑیوں پر کم از کم پانچ سال کی پابندی عائد کردی تھی۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کے موجودہ سربراہ نجم سیٹھی بارہا اس خواہش کا اظہار کرچکے ہیں کہ وہ محمد عامر کی واپسی کے لیے جس قدر ہوسکا راہ ہموار کریں گے اور ان کو تربیت اجازت دینے کا مطالبہ بھی دراصل اس لیے کیا گیا ہے کہ ستمبر 2015ء میں پابندی اٹھنے کے بعد وہ فوری طور پر میدان میں اترنے کو تیار ہوں اور ایسا نہ ہو کہ انہیں میچ فٹ ہونے میں مزید چھ سات ماہ لگ جائیں۔

Facebook Comments