’’چڑیا‘‘ کے پر کٹنے والے ہیں؟؟

کچھ عرصہ قبل جب نجم سیٹھی چیئرمین کی حیثیت سے پاکستان کرکٹ بورڈ کے ایوانوں میں نمودار ہوئے تو غیر آئینی تقرری کے باعث یہ محسوس کیا جارہا تھا کہ پی سی بی کی سربراہی ان کے لیے پھولوں کی سیج نہیں بلکہ کانٹوں کا تاج ثابت ہوگی۔ ان کے ہاتھ پیر عدالتی حکم نامے نے باندھ دیے تھے جبکہ بین الاقوامی کرکٹ کونسل کی جانب سے بھی تلوار بدستور لٹک رہی تھی، جس نے تمام رکن ممالک کو جمہوری سیٹ اَپ اپنانے کی ہدایت کی تھی ۔

قانونی شاہین نجم سیٹھی کی چڑیا کے پر کاٹنے کے درپے ہوگیا ہے (تصویر: AP)

قانونی شاہین نجم سیٹھی کی چڑیا کے پر کاٹنے کے درپے ہوگیا ہے (تصویر: AP)

نجم سیٹھی کی تقرری کے وقت میں نے یہی لکھا تھا کہ ’’اہم سیاست دانوں سے دوستیاں اور وزارت اعلیٰ کا تجربہ اپنی جگہ لیکن پاکستان کرکٹ بورڈ میں جہاں بڑے بڑے ہاتھی اپنا وجود برقرار نہیں رکھ پائے، وہاں نجم سیٹھی کی ’’چڑیا‘‘ کو اُڑنے میں دیر نہیں لگے گی‘‘جبکہ 28جون کو لکھی جانے والی اس تحریر میں ایک اور جگہ یہ بھی واضح کیا گیا تھا کہ نجم سیٹھی کی غیر آئینی تقرری سے حکومت نے اپنے لیے مشکلات کھڑی کرلی ہیں’’

نجم سیٹھی کی تقرری پی سی بی میں حکومتی مداخلت کی پہلی مثال نہیں ہے کیونکہ ماضی میں بھی ہر حکومت اپنے من پسند شخص کو بورڈ کا چیئرمین بناتی رہی ہے لیکن عجلت اور بوکھلاہٹ میں فیصلے کرنے والی نئی حکومت کے لیے نجم سیٹھی کی تقرری گلے کی ہڈی بن گئی ہے، جسے نہ اُگلا جاسکتا ہے اور نہ نگلا جاسکتا ہے‘‘

حکومت ِوقت نے نگلنے یا اُگلنے کی کوشش یعنی نجم سیٹھی کو چیئرمین پی سی بی کے عہدے پر برقرار رکھنے کے لیے ایڈہاک کمیٹی کا جال بچھایا، بلکہ عدالتی حکم نامے کی بھی تضحیک کی گئی جس کے مطابق نجم سیٹھی کو 18اکتوبر سے قبل چیئرمین پی سی بی کا الیکشن کروانے کی ہدایت کی گئی تھی۔ وفاقی حکومت نے عدلیہ کے ساتھ محاذ آرائی کرتے ہوئے الیکشن کی ڈیڈ لائن سے صرف تین دن قبل ایڈہاک کمیٹی بنادی جس کا مقصد نجم سیٹھی کے اقتدار کو بچانا تھا جس کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے ۔وزیر اعظم نے نجم سیٹھی ہی کی سربراہی میں پانچ رکنی ایڈہاک کمیٹی کو 90 دن میں انتخابات کی ہدایت دے کر عدالت کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کی کوشش کی مگر عدالت عظمیٰ بھی اب کسی چکمے میں آنے والی نہیں ہے اور جسٹس شوکت صدیقی پر مشتمل اسلام آباد ہائی کورٹ کے سنگل بنچ نے 2نومبر کو پی سی بی چیئرمین کے الیکشن کروانے کی ہدایت کردی ہے اور اگر الیکشن کمیشن یہ انتخابات کروانے میں پس و پیش کا مظاہرہ کرے تو پھر رجسٹرار ہائیکورٹ کی نگرانی میں الیکشن کروادیے جائیں گے ۔

اب یہ طے ہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے پی سی بی کے چیئرمین کا انتخاب کروانے کا تہیہ کرلیا ہے اس لیے اب وفاقی حکومت اور اس کی ایڈہاک کمیٹی کے پاس الیکشن کروانے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے ۔ جسٹس شوکت صدیقی نے ایڈہاک کمیٹی کے سربراہ نجم سیٹھی کو براہ راست تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ’’اگر کوئی دانشور خود کو پی سی بی کا چیئرمین سمجھتا ہے تو سمجھتا پھرے ہمیں اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا ،اگر ان کے پاس چڑیا ہے تو ہمارے پاس بھی قانونی شاہین ہے‘‘

یہ قانونی شاہین نجم سیٹھی کی چڑیا کے پر کاٹنے کے درپے ہوگیا ہے اور ’’چڑیا‘‘ کو اب یہ سمجھ لینا چاہیے کہ شاہین کی نظر اور اس کے وار سے بچنا کسی کے لیے ممکن نہیں ہے ۔اگلے دس دنوں میں یہ دیکھنا بہت اہم اور دلچسپ ہوگا کہ وفاقی حکومت عدلیہ کے ساتھ اپنی محاذ آرائی کو جاری رکھتی ہے یا پھر ہتھیار ڈال دیتی ہے کیونکہ ہتھیار ڈالنے کی صورت میں چڑیا کو ’’پھُر‘‘سے اُڑ جانے کا موقع مل جائے گا ورنہ دوسری صورت میں ’’ قانونی شاہین‘‘ نے چڑیا پر اپنی نظریں گاڑ لی ہیں!

Facebook Comments